اکیلے نماز پڑھنا ہو تو رکوع سے اٹھ کر سمع اللہ لمن حمدہ کے بعد ربنا لک الحمد بھی پڑھنا ضروری ہیں اگر نہیں پڑھا تو کیا نماز نہیں ہوگی

 السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

💖💖💖💖💖💖💖💖

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ جب اکیلے نماز پڑھنا ہو تو رکوع سے اٹھ کر سمع اللہ لمن حمدہ کے بعد ربنا لک الحمد بھی پڑھنا ضروری ہیں اگر نہیں پڑھا تو کیا نماز نہیں ہوگی ۔ برائے کرم جواب حوالے کے ساتھ عنایت فرمائیں ۔ 

المستفتی : عثمان غنی امجدی 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ

 *جواب* نماز میں رکوع سے اٹھتے ہوئے امام کے لئے " سمع اللہ لمن حمدہ " کہنا  اور مقتدی کا " ربنا لك الحمد " کہنا اور اگر نماز پڑھنے والا منفرد ہے تو اس کا دونوں کہنا سنت ہے اگر نہیں کہا تب بھی نماز ہو جائے گی مگر سنت کے خلاف ہوگی جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے کہ " فإن كان إماماً يقول: سمع الله لمن حمده بالإجماع، وإن كان مقتدياً يأتي بالتحميد ولايأتي بالتسميع بلا خلاف، وإن كان منفرداً الأصح أنه يأتي بهما، كذا في المحيط. وعليه الاعتماد، كذا في التتارخانية وهو الأصح " اھ ( فتاوی عالمگیری ج 1 ص 74 ) اور در مختار میں ہے کہ " ثم يرفع رأسه من ركوعه مسمعا ..... و يكتفى به الامام ...... و يكتفى بالتحميد المؤتم ........... و يجمع بينهما لو منفردا " اھ ( در مختار ج 2 ص 200 : کتاب الصلاۃ ، باب صفة الصلاۃ ، دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " رکوع سے اٹھنے میں امام کے لئے " سَمِعَ اللّٰه لِمَنْ حَمِدَہ " کہنا اور مقتدی کے لئے " اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَلَك الْحَمْد " کہنا اور منفرد کو دونوں کہنا سنت ہے " اھ ( بہار شریعت ج 1 ص 527 : سنن نماز )


واللہ اعلم بالصواب

کریم اللہ رضوی

خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟