نماز میں خشیت الہی کی وجہ سے رونا / درد یا مصیبت کی خبر سن کر رونا

 💥نماز میں خشیت الہی کی وجہ سے رونا / درد یا مصیبت کی خبر سن کر رونا 💥

⚡⚡⚡⚡⚡

السلام عليكم و رحمة الله و بركاته 

 (1) نماز میں اگر کسی حادثہ کی خبر سن کر آواز سے بے اختیار رو دیا تو نماز ہوئی کہ نہیں؟   

(2) اسی طرح اگر نماز میں قرآن سن کر یا پڑھ کر خشیت الہی کی وجہ سے آواز سے رو دیا تو کیا حکم ہے؟

 سائل : محمد جعفر صدیقی

⚡⚡⚡⚡⚡

االجواب : پہلی صورت میں نماز فاسد ہوگئی.

صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :

مسئلہ ۳۰:  آہ، اوہ، اُف، تف یہ الفاظ درد یا مصیبت کی وجہ سے نکلے یا آواز سے رویا اور حرف پیدا ہوئے، ان سب صورتوں  میں  نماز جاتی رہی اور اگر رونے میں  صرف آنسو نکلے آواز و حروف نہیں  نکلے، تو حرج نہیں. (عالمگیری، ردالمحتار)

        مسئلہ ۳۱:  مریض کی زبان سے بے اختیار آہ ،اوہ نکلی نماز فاسد نہ ہوئی، یوہیں  چھینک کھانسی جماہی ڈکار میں  جتنے حروف مجبوراً نکلتے ہیں ، معاف ہیں ۔(درمختار)

  درمختار مع ردالمحتار میں ہے :

 ( *وَالْبُكَاءُ بِصَوْتٍ*) يَحْصُلُ بِهِ حُرُوفٌ ( *لِوَجَعٍ أَوْ مُصِيبَةٍ* ) قَيْدٌ لِلْأَرْبَعَةِ إلَّا لِمَرِيضٍ لَا يَمْلِكُ نَفْسَهُ عَنْ أَنِينٍ وَتَأَوُّهٍ لِأَنَّهُ حِينَئِذٍ كَعُطَاسٍ وَسُعَالٍ وَجُشَاءٍ وَتَثَاوُبٍ وَإِنْ حَصَلَ حُرُوفٌ لِلضَّرُورَةِ ( *لَا لِذِكْرِ جَنَّةٍ أَوْ نَارٍ*) فَلَوْ أَعْجَبَتْهُ قِرَاءَةُ الْإِمَامِ فَجَعَلَ يَبْكِي وَيَقُولُ بَلَى أَوْ نَعَمْ أَوْ آرِيُّ لَا تَفْسُدُ سِرَاجِيَّةٌ لِدَلَالَتِهِ عَلَى الْخُشُوعِ.

(الدرالمختار مع ردالمحتار. ج: 1،ص:619)

✨✨✨✨

دوسری صورت میں کہ قراءت سن کر یا خشوع خضوع کے باعث رویا تو نماز فاسد نہ ہوگی. صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :

مسئلہ ۳۲:  جنت و دوزخ کی یاد میں اگر یہ الفاظ کہے، تو نماز فاسد نہ ہوئی. (درمختار)

        مسئلہ ۳۳:  امام کا پڑھنا پسند آیا اس پر رونے لگا اور ارے، نعم، ہاں ، زبان سے نکلا کوئی حرج نہیں  ،کہ یہ خشوع کے باعث ہے اور اگر خوش گلوئی کے سبب کہا، تو نماز جاتی رہی۔ (درمختار، ردالمحتار)

👈عن مطرف عن أبیہ قال: رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یصلي، وفي صدرہ أزیز کأزیز الرحی من البکاء۔ (سنن أبي داؤد ۱؍۱۳۰ رقم: ۹۰۴، سنن النسائي ۱؍۱۳۵ رقم: ۱۲۱۰) 

👈 وفی الخانیۃ: فحصل لہ حروف فإن کان من ذکر الجنۃ أو النار فصلا تہ تامۃ، وإن کان من وجع أو مصیبۃ فسدت صلا تہ عند أبي حنیفۃ ومحمد رحمہما اللّٰہ، وعند أبي یوسف: إذا کان یمکنہ الامتناع یقطع الصلاۃ وإذا کان لا یمکنہ لا یقطع الصلاۃ۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۲۲۴ رقم: ۳۳۳۲) واللہ تعالی اعلم.

✍️عدنان غوثی مصباحی

      30/اگست 2018ء

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟