سورہ فاتحہ کے بعد سورہ ملانا بھول جائے رکوع میں یاد آئے تو کیا کرے؟؟
سوال:سورہ فاتحہ کے بعد سورہ ملانا بھول جائے رکوع میں یاد آئے تو کیا کرے؟؟
سجدہ سہو کرے یا واپس لوٹ جائے قیام میں؟
سائل:جنید رضا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب:اگر فرض کی پہلی دو رکعات اور باقی کسی بھی نماز مثلا وتر،سنت مؤکدہ، سنت غیرمؤکدہ،نفل کی کسی بھی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت ملانا بھول گیا اگر اسے رُکوع میں یاد آیا تو فوراً کھڑے ہوکر سورت پڑھے پھررُکوع دوبارہ کرے پھر نمازتمام کرکے سجدۂ سَہْو کرے اوراگر رُکوع كے بعد سجدہ میں یاد آیا تو صرف اَخِیر میں سجدۂ سَہْو کرلے نماز ہوجائے گی۔
سورت ملانا بھول گیا رکوع میں یاد آیا تو کھڑا ہوجائے اور سورۃ ملائے پھر رکوع کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرے اگر دوبارہ رکوع نہ کرے گا تو نماز نہ ہوگی۔
(قانون شریعت،ص 183،مكتبة المدينه،کراچی)
اگر سورۂ فاتحہ پڑھ کر سُورت ملانا بھول گیا اور رکوع میں یاد آیا تو حکم ہے رکوع کو چھوڑے اور قیام کی طرف عود کرکے سورت پڑھے اور رکوع میں جائے حالانکہ واجب کے لئے فرض کا چھوڑنا جائز نہیں ولہذا اگر پہلی التحیات بھول کر پورا کھڑا ہوگیا اب عود کی اجازت نہیں مگر سُورت کے لئے خود شرع نے عود کا حکم دیا کہ جتنا قرآن مجید پڑھا جائے گا سب فرض ہی میں واقع ہوگا تو یہ واجب کی طرف عود نہیں بلکہ فرض کی طرف، ولہذا اگر دوبارہ رکوع نہ کرے گا نماز نہ ہوگی کہ پہلا رکوع عود الی الفرض کے سبب زائل ہوگیا۔
(فتاوی رضویہ،جلد 10،ص 598،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
جو سورت ملانا بھول گیا اگر اسے رُکوع میں یاد آیا تو فوراً کھڑے ہوکر سورت پڑھے پھر رُکوع دوبارہ کرے پھر نمازتمام کرکے سجدۂ سَہْو کرے اور اگر رُکوع كے بعد سجدہ میں یاد آیا تو صرف اَخِیر میں سجدۂ سَہْو کرلے نماز ہوجائے گی۔
(فتاوی رضویہ،جلد 8،ص 196،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
سورت ملانا بھول گیا، رکوع میں یاد آیا تو کھڑا ہو جائے اور سورت ملائے پھر رکوع کرے اور اخیر میں سجدۂ سہو کرے اگر دوبارہ رکوع نہ کریگا، تو نماز نہ ہوگی۔
(بہار شریعت،جلد 1،حصہ 4،ص 545،مكتبة المدينه،کراچی)
فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور نفل و وتر کی کسی رکعت میں سورۂ الحمد کی ایک آیت بھی رہ گئی یا سورت سے پیشتر دو بار الحمد پڑھی یا سورت ملانا بھول گیا یا سورت کو فاتحہ پر مقدم کیا یا الحمد کے بعد ایک یا دو چھوٹی آیتیں پڑھ کر رکوع میں چلا گیا پھر یاد آیا اور لوٹا اور تین آیتیں پڑھ کر رکوع کیا تو ان سب صورتوں میں سجدۂ سہو واجب ہے۔
(بہار شریعت،جلد 1،حصہ 4،ص 710،مكتبة المدينه،کراچی)
وَلَوْ تَذَكَّرَهَا فِي رُكُوعِهِ قَرَأَهَا وَأَعَادَ الرُّكُوعَ (در مختار)
شرح:(قَوْلُهُ وَلَوْ تَذَكَّرَهَا) أَيْ السُّورَةَ (قَوْلُهُ قَرَأَهَا) أَيْ بَعْدَ عَوْدِهِ إلَى الْقِيَامِ (قَوْلُهُ وَأَعَادَ الرُّكُوعَ) لِأَنَّ مَا يَقَعُ مِنْ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ يَكُونُ فَرْضًا فَيُرْتَفَضُ الرُّكُوعُ وَيَلْزَمُهُ إعَادَتُهُ لِأَنَّ التَّرْتِيبَ بَيْنَ الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ فَرْضٌ كَمَا مَرَّ بَيَانُهُ فِي الْوَاجِبَاتِ
(فتاوی شامی،جلد 1،ص 536،دار الفكربيروت)
یاد رہے ! واجبات نماز میں جب کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو اس کی تلافی کے ليے سجدۂ سہو واجب ہے،قصداً واجب ترک کیا تو سجدۂ سہو سے وہ نقصان دفع نہ ہو گا بلکہ اعادہ واجب ہے۔
كتبه:عبده المذنب سيد كامران العطاري المدني غفرالله له ما يجري منه وما مضي
اپنے سوالات لکھ کر(آڈیو وائس میسج میں نہیں آڈیو وائس میسج بغیر سنے ہی ڈلیٹ کر دی جاتی ہیں)اس نمبر پر وٹس اپ کریں۔
03155322470
10/09/2020
11:23 Am
Thursday
Comments
Post a Comment