کیاانبیاء علیھم السلام واولیاء اللہ سے بعد وصال مدد مانگنا جائز ہے؟

 *🔸 کیاانبیاء علیھم السلام واولیاء اللہ سے بعد وصال مدد مانگنا جائز ہے؟🔸*


السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ

کیافرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید ( اہل حدیث) کہتا ہے کہ انبیاء اولیاء سے مدد مانگنا انکو وسیلہ بنانا حیات ظاہری میں جائز ہے اور وصال فرما جانے کے بعد جائز نہیں وہ کہتا ہے کہ جہاں بھی مدد اور وسیلہ لینے کا حکم آیا ہے تو زندوں کے بارے میں آیا ہے وصال شدہ کے بارے میں حکم نہیں دیا گیا ہے۔ کیا انبیاء اولیاء سے مدد طلب کرنا انکے وصال فرما جانے کے بعد جائز ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی جواب عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی

*سائل محمد حسیب رضا مقام رسیا بازار بہرائچ شریف*

اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ

*وعلیکم السلام ورحمة اللّٰه وبرکاته*


*الجواب بعون الملک الوہاب*

حضرات انبیائے کرام علیہم السلام مقدس نفوس قدسیہ اپنے زائرین متوسلین کوبرابر نہ صرف حیات میں بلکہ بعد وصال بلکہ قبل وجود بھی اپنے فتوح واختیارات سے نفع پہنچاتے ہیں

حضرت علامہ مفتی محمد اجمل شاہ صاحب سنبھلی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ

نفوس قدسیہ اپنے زائرین متوسلین کو برابر نہ صرف حیات میں بلکہ بعد وصال بلکہ قبل وجود بھی اپنے فتوح تصرفات سے متمتع فرماتے ہیں

چنانچہ ------------  !!!

امم سابقہ حضور اقدس صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اس عالم میں تشریف لانے سے پہلے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے توسل سے اپنے دشمنوں پر فتح طلب کرتی تھیں

تفسیر جلالین شریف میں ہے

*" اللھم انصرناعلیھم بالنبی المبعوث آخر الزمان "*

ترجمہ الہی ہمیں مدد دے ان پر بتوسل نبی آخر الزماں صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جن کی نعت ہم تورات میں پاتے ہیں


بلکہ ----------------  !!!

اس مضمون کی تصدیق قرآن عظیم میں بھی موجود ہے چنانچہ قوم یہود کے تذکرہ میں

اللہ تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے

*" وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا فلما جآءھم ماعرفوا کفروابه فلعنۃ الله علی الکاذبین "*

*(📕پارہ 1رکوع 9 سورۃالبقرہ )*

ترجمہ یہ لوگ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے کافروں پر ان کے وسیلے سے فتح چاہتے تھے پھر جب وہ جانا پہچانا ان کے پاس تشریف لایا منکر ہو بیٹھے تو خدا کی پھٹکار منکروں پر

اس آیت سے یہ واضح طور پر ثابت ہوگیا کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ظہور سے پہلے وسیلہ بنایا گیا

*(📒 فتاویٰ اجملیہ جلد اول کتاب العقائد صفحہ 120 )*

اسی فتاویٰ کے دوسرے صفحہ پرہےکہ 

احیاء سے توسل کرنا اس کی مثبت بکثرت آیات واحادیث ہیں صرف ایک حدیث شریف پیش کرتا ہوں بخاری شریف میں حضرت امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ ان کے زمانے میں ایک مرتبہ خشک سالی پڑی تو امیر المؤمنین نے ان الفاظ سے دعا کی

*" اللھم انا کنا نتوسل الیک نبینا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیه وسلم فتسقینا وانانتوسل الیک بعم نبینا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم فاسقنا "*

یعنی اے اللّٰه عزوجل ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا توسل کرتے تھے تو ہم کو سیراب کرتا اور اب ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچا (حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کا توسل کرتے ہیں پس ہم کو سیراب کر

اس میں حضرت امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو طرح کاتوسل کیا حضور کے ساتھ توسل اور رحلت شریفہ کے بعد حضرت عباس کے ساتھ توسل آپ کے زمانہ حیات میں


لہذا --------------------  !!!

انہوں نے یہ تنبیہ فرمادی کہ یہ ہر دو طرح کا توسل ایسا جائز ہے کہ اس کو ہم خود کررہے ہیں اور نیز جو لوگ صرف جو ازتوسل بالانبیاء کے ہی قائل ہیں ان کے اس حیلے کی بھی جڑ کاٹ دی کہ حضرت عباس کے ساتھ توسل کیا

الحاصل اس حدیث میں احیاء کے ساتھ توسل کرنا ثابت ہوگیا اور ہمارے حضرات مانعین بھی احیاء کے ساتھ توسل کرنا جائز کہتے

اگر ان کو اعتراضات ہیں تو صرف توسل بالاموات میں باوجودیکہ جس طرح اموات غیر خدا ہیں اسی طرح احیاء بھی غیر خدا ہیں

*(📓المرجع السابق صفحہ 121 )*

نیز حضرت مفتی صاحب موصوف لکھتے ہیں کہ

اب چونکہ مجھے زیادہ اختصار مد نظر ہے اس لئے اسی حدیث کو کافی سمجھ کر چند مثالیں توسل بالاولیاء کی پیش کروں


چنانچہ ---------------  !!!

فقہ کی مشہور کتاب شامی جلد اول میں ہے

*( قولہ ومعروف کرخی*  )

*بن فیروز من مشائخ الکبار مستجاب الدعواۃ یستسقی بقبرہ وھو استاد السری السقطی "*

یعنی معروف کرخی بن فیروز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کبار مشائخ سے ہیں مستجاب الدعواۃ ہیں ان کی قبر شریف سے قحط سالی میں پانی طلب کیا جاتا ہے اور یہ حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کے استاذ ہیں

نیز اسی شامی اسی جلد میں اس سے ایک ورق قبل امام شافعی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کا قول کرتے ہیں

*" قال انی لاتبرک بابی حنیفۃ واجی الی قبرہ فاذا عرضت لی حاجۃ صلیت رکعتین وجئت الی قبرہ وسئالت اللہ عندہ فتقضی لی سریعا "*

یعنی امام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے میں تبرک حاصل کرتا ہوں اور ان کی قبر پر جاتا ہوں اور مجھے جب کوئی حاجت پیش آتی ہے نماز پڑھتا ہوں اور ان کی قبر شریف کی طرف آکر خدائے تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں کچھ دیر نہیں لگتی کہ حاجت روا ہوجاتی ہے

*(📚 المرجع السابق صفحہ 122 )*

اس تفصیل سے بخوبی واضح ہوگیا کہ حضرات انبیائے کرام علیہم السلام واولیائے عظام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نہ صرف کہ اپنی حیات بلکہ قبل وجود بھی اور بعد وصال بھی اپنے فتوح واختیارات سے اپنے ماننے چاہنےوالوں کی بعطائے الٰہی مدد فرماتے ہیں


لہذا  ---------------------  !!!

ان مقدس نفوس قدسیہ کےوصال کے بعد بھی ان کے توسل سے دعا کرنا بزرگان دین و اسلاف کرام کا طریقہ رہا ہے


اس لئے کسی زید بے قید کی باتوں میں نہیں آنا چاہیئے

یہ بد مذہب لوگ طرح طرح سے بہکاتے بھٹکاتے ورغلاتے اور گمراہی کے دلدل میں پھنساتے دوذخ کارستہ بتاتے ہیں یہ لوگ شیطان کے چیلے ہیں


اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں

*سنیو ان سے مددمانگے جاؤ*

*پڑے بکتے رہیں بکنے والے*


*🔹واللہ اعلم و رسولہ🔹*

اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ

*✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــہ*

*حضرت علامہ مولانا ابوالاحسان محمد مشتاق احمد قادری رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی مہاراشٹر*

*۲۸ جمادی الآخر ٢۴۴۱؁ھ بروز جمعرات*

رابطہ https://wa.me/+919838501782

اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ

*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح :*

حضرت علامہ جابرالقادری رضوی صاحب قبلہ

اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ

*🔸🔸* https://wa.me/+917800878771

اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ

*المشتـــہر؛*

*

اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟