مہر سےمتعلق چند اہم مسائل

 *💚مہر سےمتعلق چند اہم مسائل💚*


 


السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته

کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعد نکاح شوہر اگر مہر دین ادا نہ کرے تو بیوی کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ تب تک جماع سے روک رکھے ؟ 

نکاح میں مہر کی مقدار کا اگر ذکر نہ کیا جاے تو کیا دینا ضروری ہوگا اور کتنا دینا ہوگا؟ 

، کیا بغیر مہر دین ادا کیے وطی کرنا حلال ہے؟ 

 دیہات کی لڑکیاں اس بات سے لاعلم ہوتی ہے کہ دین مہر اس کا حق ہے اس لیے نہ ہی کبھی مطالبہ کرتی ہے اور نہ اس کا کبھی ذکر کرتی ہے اور اپنی ازدواجی زندگی گزارنا شروع کردیتے ہیں کیا یہ صحیح ہے 

بعض جگہوں پر لڑکی والے دور اندیشی سے جتنا روپیہ لڑکے والے کو دیتے ہیں اگرچہ یہ مال حرام ہے اتنا ہی مہر دین بھی متعین کرواتے ہیں تو مہر کی مقدار زیادہ متعین ہوجانے کی وجہ سے بھی ادا کرنا دشوار ہوتا ہے اور لوگ ادا نہیں کرتے ہیں تو کیا حکم ہوگا؟ 

باحوالہ تفصیل سے مطبع کی وضاحت کرتے ہوے جواب عنایت فرمائیں۔ 


_*🖋🌹 السائل الفقیر محمـد عبـد اللہ قادری*_

ا_________(💚)___________

*وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ*

*الجواب بعون الملک الوھاب*

(١)اگر مہر معجل ہوتو بےشک روکنے کا حق حاصل ہے ، چاہے مطالبہ سے قبل برضا و رغبت وطی ہی کیوں نہ ہوچکی ہو


جملہ متون و شروح وکتب فتاوی میں اسی کی تصریح ہے


*(📓امام صدرالشریعہ عبیداللہ بن مسعود محبوبی علیہ الرحمہ فرماتےہیں)*


*” وقبل اخذ المعجل لہا منعہ من الوطئی والسفر بہا ولو بعد وطئی برضاھا بلاسقوط النفقۃ “*


*{📘النقایة ص٤٤ ، مخطوطہ مکتبۃ جامعۃ الملک سعود}*


علامہ ابن نجیم مصری علیہ الرحمہ فرماتےہیں


*” نعم لہا ان تمنع نفسھا منہ لقبض معجل صداقھا علیہ ولو بعد الدخول وتستحق علیہ النفقۃ والکسوة ولا یمنع من ذالک المنع المذکور “*


*{📗فتاوی ابن نجیم علی ھامش الفتاوی الغیاثیة ص٣١ ، بولاق مصر}*


اور مؤجل یعنی میعاد مقررہو مثلا ایک برس یا دس برس کے بعد دیاجائےگا تو وقت میعاد سےپہلے نہ تو مطالبہ کا حق ہے نہ روکنے کا ، اور میعاد گزرجانے کےبعد اگر شوہر ادائیگی میں تاخیر کررہاہو تو اگرچہ استحسانا روکنے کا حق عورت کوہے


امام ظہیرالدین ولوالجی علیہ الرحمہ فرماتےہیں


*” وفی دیارنا اذا ادی المعجل ولم یؤدالمؤجل فلہ ان یبنی بہا لان الدخول عند اداء المعجل مشروط عرفا فصار کما لوکان مشروطا نصا والکل اذاکان مؤجلا والدخول غیرمشروط لاعرفا ولانصا فلم یکن لہ ان یبنی بہا علی قول ابی یوسف استحسانا “*


*{📘فتاوی ولوالجیہ ج١ ص٣٢٧ ، دارالکتب العلمیۃ}*


علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ الرحمہ نے فرمایاکہ 


*” لہا منعہ ان اجلہ کلہ وبہ یفتی استحسانا “*


*{📕الدرالمختار ص١٩٣ ، دارالکتب العلمیۃ}*


علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتےہیں


*” والاستحسان مقدم فلذا جزم بہ الشارح “*


*{📚ردالمحتار ج٣ ص١٤٥ ، دارالکتب العلمیۃ}*


*مگرہمارے یہاں کے عرف و رواج کے اعتبارسے نہیں روک سکتی*


*(✍️سرکاراعلیحضرت محقق بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں)*


*” وعرف بلادنا الدخول قبل ادا شیئ منہ والمعروف کالمشروط فلایکون لہا الامتناع بالاتفاق “*


*{📙جدالممتار ج٤ ص٦٠١ }*


اور مؤخر ہو جیساکہ ہمارے دیار میں عموما یہی رواج ہے تو مطلقا روکنے کا حق نہیں ، کہ اس کامطالبہ طلاق یا کسی ایک کی موت پر مؤکدہوتاہے


علامہ شمس الدین احمد بن سلیمان المعروف بابن کمال پاشا علیہ الرحمہ فرماتےہیں


*” ولا لہا المنع بقبض الکل ان لم یتبین المعجل و المؤجل ھذا بناء علی المتعارف “*


*{📕ایضاح الاصلاح ص٦٦ مخطوطۃ المکتبۃ الازھریۃ}*


علامہ شامی علیہ الرحمہ فرماتےہیں


*” لانہ قبل الطلاق او الموت لایطالب بہ “*


*{📗ردالمحتار ج٥ ص٣٨٤ ، دارالکتب العلمیۃ}*


*خلاصہ یہ کہ مہرمعجل ہوتو ادائیگی تک جماع سے روک سکتی ہے اور مؤجل یا مطلق ہو(جیساکہ ہمارےہندستان میں عموما یہی رائج ہے)تو نہیں روک سکتی*


(٢)  دخول یا خلوت صحیحہ ہوچکی ہو یا دونوں میں سے کسی کی موت ہوجائے تو  مہر مثل لازم ہوگا ،


امام قاضی غزنوی علیہ الرحمہ فرماتےہیں


*” ویصح النکاح سمی فیہ المھر اولم یسم فلھا مہرمثلھا “*


*{📕الحاوی القدسی ج١ ص٣٩٠ ، دارالنوادر}*


اور دخول یا خلوت صحیحہ سے قبل طلاق دے دیا تو مہر مقرر ہونے کی صورت میں نصف مہر


علامہ علاؤالدین حصکفی فرماتےہیں


*” یجب نصفہ بطلاق قبل وطئی او خلوة “*


*{📘الدرالمختار ص١٨٨}*


اور عدم تقرری کی صورت میں قبل دخول یا خلوت صحیحہ طلاق دینے پر محض ایک جوڑا واجب ۔


*{📚فتاوی رضویہ ج١٢ ص١٧٣}*


مہرمثل کا مطلب یہ ہےکہ اس کے باپ کے خاندان کی اس جیسی عورتوں کا عموما جو مہر ہوتا ہے وہ لازم ہوگا


علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ الرحمہ فرماتےہیں


*” والحرة مہرمثلہا الشرعی مہرمثلہا اللغوی ای مہر امراة تماثلہا من قوم ابیہا “*


*{📙الدرالمختار ص١٩٢}*


سرکاراعلیحضرت محقق بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں


*” مہرمثل سے اپنے خاندان پدر ہی کا مہر مراد ہے بہن پھوپھی وغیرہ عمرومال وجمال وبکارت وغیرہامیں اس کی مثل ہیں “*


*{📗فتاوی رضویہ ج١٢ ص١٧٦}*


*(٣)📘 حلال ہے ۔ کمامرآنفا من جدالممتار)*


(٤) صحیح ہے مگر مقررہ مہر یا عدم تقرری کی صورت میں مہرمثل بہرحال لازم ہوگا کہ وجوب مہرسے لاعلمی مانع صحت نکاح نہیں ۔ کمامر من الحاوی القدسی


(٥) ایسا نہ چاہئے لیکن اگر کریں تو نہ گناہگار ہوں نہ صحت نکاح میں کوئی نقص آئے


 سرکاراعلیحضرت فرماتےہیں


 *”حیثیت سے زائد مہر نامناسب ہے کوئی گناہ نہیں جس پر مواخذہ ہو ، فان المال غاد و رائح “*


*{📘رضویہ ١٢ ص١٧٧}*


مگرادا کی نیت نہ ہو تو عنداللہ سخت شنیع وقبیح ہے ، نکاح کی صحت میں جب بھی کوئی فرق نہیں پڑےگا


*(✍️سرکاراعلیحضرت رضی اللہ عنہ فرماتےہیں)*


*” نکاح میں کوئی نقص نہیں مگر ایسا خیال عنداللہ سخت قبیح وشنیع ہے یہانتک کہ حدیث میں ارشاد ہوا جو مرد وعورت نکاح کریں اور مہرکےدینےلینے کی نیت نہ رکھیں یعنی اسے دین نہ سمجھیں وہ روز قیامت زانی و زانیہ اٹھائے جائینگے “*


*{📕ایضا ص١٧٣}*

حدیث پاک کے الفاظ کریمہ یہ ہیں

*” عن صہیب سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول : ایما رجل تزوج امراة فنوی ان لا یعطیہا من صداقہا شیئا مات یوم یموت زان ، وایما رجل اشتری من رجل بیعا فنوی ان لایعطیہ من ثمنہ شیئا مات یوم وھو خائن والخائن فی النار “*


*{📚المعجم الکبیر للطبرانی ج٨ ص٤١ ، مکتبۃ ابن تیمیۃ}*


*واللہ تعالی اعلم بالصواب*

 ا________(💚)__________

*کتبــــہ؛*

*محمد شکیل اختر قادری برکاتی  شیخ الحدیث بمدرسةالبنات مسلک اعلی حضرت صدر صوفہ ھبلی کرناٹک؛*

*مورخہ؛12/11/2020*

*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*

*رابطہ؛☎7795812191)*

ا________(💚)_________

*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*

*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛محمد عقیــل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*

ا________(💚)___________

*الجواب صحیح والمجیب نجیح محمد شرف الدین رضوی دارالعلوم قادریہ حبیبیہ فیل خانہ ہوڑہ کلکتہ بنگال؛*

ا________(💚)____________

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟