🌹اپنا نام بدل کر "محمد"رکھنا کیسا نیز اسم محمد کے فضائل - 🌹*
*🌹اپنا نام بدل کر "محمد"رکھنا کیسا نیز اسم محمد کے فضائل - 🌹*
*الســـلام علیکم و رحمۃ اللہ برکاتہ*
*زید کی عمر قریب ۲۸ سال ہے اس کا عقیقہ شادی وغیرہ سب ہو چکا ہے اسکا نام قمر عالم ہے وہ اب اپنا نام محمد رکھنا چاہتا ہے تاکہ نامِ محمـــد کی فضیلت مل جائے تو نام بدل سکتا ہے یا نہیں اور نام بدلنے کا طریقہ کیا ہے جبکہ آدھار اور مارشیٹ وغیرہ پر پرانا نام ہی موجود ہے کیسے نام بدلے اور طریقہ بھی بتا دیں*
*🔹قمر عالم بارہ بنکی یو پی🔹*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ*
*📝الجواب اللھم ہدایت الحق والصواب*
*لا إله إلا الله وحده لا شريك له*
*ماشاءاللہ بہت عمدہ سوچ, اسم محمد و احمد کے فضائل تو احادیث کثیرہ عظیمہ جلیلہ وارد ہیں(١) صحیحین و مسند احمد و جامع ترمذی و سنن ابن ماجہ میں حضرت انس(۲) صحیحین و ابن ماجہ میں حضرت جابر(٣) معجم کبیر طبرانی میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہُ تعالیٰ عنہم سے ہے رسول اللہ صلی اللہُ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں: سموا باسمي ولاتكنوا بكنيتي، میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت نہ رکھو,*
🏷(۴) ابن عساکر و حافظ حسین بن احمد عبد اللہ بن بکیر حضرت ابو امامہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہ سے راوی رسول اللہ صلی اللہُ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں: من ولده مولود فسماه محمدا حبالي و تبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة، جس کے لڑکا پیدا ہوا اور میری محبت اور میرے نام پاک سے تبرک کے لئے اس کا نام محمد رکھے وہ اور اس کا لڑکا دونوں بہشت میں جائیں,
(٥) حافظ ابو طاہر سلفی و حافظ ابن بکیر حضرت انس رضی اللہُ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہُ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں: روز قیامت دو شخص حضرت عزت کے حضور کھڑے کئے جائیں گے حکم ہوگا انہیں جنت میں لے جاؤ, عرض کریں گے: الٰہی ہم کس عمل پر جنت کے قابل ہوئے ہم نے تو کوئی کام جنت کا نہ کیا, رب عزوجل فرمائے گا: ادخلا الجنة فإني اليت علي نفسي ان لا يدخل النار من اسمه أحمد و محمد ، جنت میں جاؤ میں نے حلف فرمایا ہے کہ جس کا نام احمد یا محمد ہو دوزخ میں نہ جائے گا, یعنی جبکہ مومن ہو اور مومن عرف قران و حدیث و صحابہ میں اسی کو کہتے ہیں جو سنی صحیح العقیدہ ہو, كما نص عليه الأئمة في التوضيح وغيره(جیسا کہ توضیح وغیرہ میں ائمہ کرام نے اسکی تصریح فرمائی ہے) ورنہ بد مذہبوں کے لئے تو حدیثیں یہ ارشاد فرماتی ہیں کہ وہ جہنم کے کتے ہیں انکا کوئی عمل قبول نہیں بد مذہب اگرچہ حجر اسود و مقام ابراہیم کے درمیان مظلوم قتل کیا جائے اور اپنے اس مارے جانے پر صابر و طالب ثواب رہے جب بھی اللہ عزوجل اس کی کسی بات پر نظر نہ فرمائے اور اسے جہنم میں ڈالے, یہ حدیثیں دار قطنی و ابن ماجہ و بیہقی و ابن الجوزی وغیرہم نے حضرت ابو امامہ و حذیفہ و انس رضی اللہُ تعالیٰ عنہم سے روایت کیں, اور فقیر نے اپنے فتاویٰ میں متعدد جگہ لکھیں تو محمد عبد الوہاب نجدی وغیرہ گمراہوں کے لئے ان حدیثوں میں اصلا بشارت نہیں نہ کہ سید احمد خان کی طرح کفار جن کا مسلک کفر قطعی کہ کافر پر جنت کی ہوا تک یقیناً حرام ہے,
*📃(٦) ابو نعیم حلیۃ الاولیاء میں حضرت نبیط بن شریط رضی اللہ عنہما سے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہُ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں: قال ألله تعالى عزوجل و عزتي و جلالي لا اعذب احدا تسمي باسمك بالنار يا محمد, رب عزوجل نے مجھ سے فرمایا اپنی عزت و جلال کی قسم جس کا نام تمہارے نام پر ہوگا اسے دوزخ کا نہ دوں گا,*
🗳(۷) حدیث حافظ ابن بکیر امیر المؤمنین مولی علی کرم اللہ وجہہ سے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہُ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں (۸) دیلمی مسند الفردوس میں موقوفا راوی کہ مولی علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں (۹) ابن عدی کامل اور ابو سعد نقاش بسند صحیح اپنے معجم شیوخ میں راوی کہ رسول اللہ صلی اللہُ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں: ما أطعم طعاما علي مائدة ولا جلس عليها و فيها اسمي الاقدسوا كل يوم مرتين، جس دسترخوان پر لوگ بیٹھ کر کھانا کھائیں اور ان میں کوئی محمد یا احمد نام کا ہو وہ لوگ ہر دوبار مقدس کہے جائیں, حاصل یہ جس گھر میں ان پاک ناموں کا کوئی شخص ہو دن میں دوبار اس مکان میں رحمت الٰہی کا نزول ہو, لہٰذا حدیث امیر المؤمنین کے لفظ یہ ہیں: ما من مائدة وضعت فحضر عليها من اسمه احمد و محمد الا قدس الله ذلك المنزل كل يوم مرتين، کوئی دسترخوان بچھایا نہیں گیا کہ اس پر ایسا شخص تشریف لائے جس کا نام احمد و محمد ہو(صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم) تو اللہ تعالیٰ ہر روز دوبار اس گھر کو تقدس بخشا ہے یعنی مقدس کرتا ہے( اور ہر روز دوبار وہاں اس کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے مترجم,
*🗞(١۰) ابن سعد طبقات میں عثمان عمری مرسلا راوی رسول اللہ صلی اللہُ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں: ماضر أحدكم لوكان في بيته محمد و محمدان و ثلثة، تم میں کسی کا کیا نقصان ہے اگر اس کے گھر میں ایک محمد یا دو محمد یا تین محمد ہوں,*
💠(١١) رائفی و ابن الجوزی امیر المؤمنین مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الاسنی سے روایت رسول اللہ صلی اللہُ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں: ما اجتمع قوم قط في مشهورة و فيهم رجل اسمه محمد لم يدخلوه في مشورتهم إلا لم يبارك لهم فيه، جب کوئی قوم کسی مشورے کے لئے جمع ہو اور ان میں کوئی شخص محمد نام کا ہو اور اسے اپنے مشورے میں شریک نہ کریں ان کے لئے مشورے میں برکت نہ رکھی جائے
*💈(١٣)طبرانی کبیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہُ تعالیٰ عنہما سے راوی, رسول اللہ صلی اللہُ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں: من ولدله ثلثة فلم يسم أحدهم محمدا فقد جهل، جس کے تین بیٹے پیدا ہوں اور وہ ان میں کسی کا نام محمد نہ رکھے ضرور جاہل ہے,*
🔮(١٣) حاکم و خطیب تاریخ اور دیلمی مسند میں امیر المؤمنین مولی علی رضی اللہُ تعالیٰ عنہ سے راوی, رسول اللہ صلی اللہُ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں: إذا سميتم الولد محمدا فاكرمواه واوسعوا له في المجلس و إلا تقبحوا له وجها, جس لڑکے کا نام محمد رکھو تو اسکی عزت کرو اور مجلس میں اس کے لئے جگہ کشادہ اور اسے برائی کی طرف نسبت نہ کرو اس پر برائی کی دعا نہ کرو
*🥀(١۴) بزاز مسند میں حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہُ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں: إذا سميتم محمدا فلا تضربوه ولا تحرموه، جب لڑکے کا نام محمد رکھو تو نہ مارو نہ محروم رکھو,*
🎁(١٥) فتاویٰ امام شمس الدین سخاوی میں ہے ابو شعیب حرانی نے امام عطا( تابعی جلیل الشان استاد امام الائمہ سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عہنما) سے روایت کی: من أراد أن يكون حمل زوجته ذكرا فليضع يده على بطنها وليقل ان كان ذكرا فقد سميته محمدا فإنه يكون ذكرا، جو چاہے کہ اس کی عورت کے حمل میں لڑکا ہو اسے چاہیے کہ اپنا ہاتھ عورت کے پیٹ پر رکھ کر کہے, اگر لڑکا ہے تو اس کا نام محمد رکھا, انشاءاللہ العزیز لڑکا ہی ہوگا, سیدنا امام مالک رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ما كان في اهل بيت اسم محمدا لا كثرت بركته ذكره المناوي في شرح التيسير تحت الحديث العاشر والزرقاني في شرح المواهب، جس گھر والوں میں کوئی محمد نام کا ہوتا ہے اس گھر کی برکت زیادہ ہوتی ہے( دسویں حدیث کے ذیل میں علامہ مناوی نے اس کو شرح تیسیر میں ذکر فرمایا اور اسی طرح علامہ زرقانی نے شرح مواہب للدنیہ میں ذکر کیا ہے, بہتر یہ ہے کہ صرف محمد یا احمد نام رکھے اس کے ساتھ جان وغیرہ اور کوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہا انھیں اسماء مبارکہ کے وارد ہوئے ہیں,
*(📓 فتاویٰ رضویہ شریف جدید ج (۲۴) ص (٦۸۷) مکتبہ دعوت اسلامی)*
*📿اور نام بدلنا بھی جائز ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہُ تعالیٰ علیہ و سلم سے بھی نام بدلنا ثابت ہے, ہاں نام بدلنے کا کوئی طریقہ نہیں,*
♦احادیث صحیحہ کثیرہ سے ثابت کہ رسول اللہ صلی اللہُ تعالیٰ علیہ و سلم بکثرت اسماء جن کے معنی اصلی کے لحاظ سے کوئی برائی تھی تبدیل فرما دئے, جامع ترمذی میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہا سے ہے: ان النبي صلي الله تعالى عليه وسلم كان يغير الإسم القببح، نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی عادت کریمہ تھی کہ برے نام کو بدل دیتے ,
*🌱سنن ابی داؤد میں ہے نبی صلی اللہُ تعالیٰ علیہ و سلم نے عاصی, عزیز, عتلہ, شیطان, حکم, غراب, حباب, شہاب, نام تبدیل فرما دئے قال تركت اسانيدها للاختصار( امام ابو داؤد نے فرمایا میں نے اختصار کے لئے انکی سندیں چھوڑیں) اصرم کا نام بدل کر زرعہ رکھا, رواہ عن اسامة بن اخدري رضي الله تعالى عنه( اسے اسامہ بن اخدری رضی اللہُ تعالیٰ عنہ نے روایت کیا) عاصیہ کا نام جمیلہ رکھا، رواه مسلم عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما( اسے مسلم نے ابن عمر رضی اللہُ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا) برہ کا نام زینب رکھا اور فرمایا: لا تزكوا انفسكم الله أعلم اهل البر منكم رواه مسلم عن زينب بنت سلمه رضي الله تعالى عنهما، اپنی جانوں کو آپ اچھا نہ بتاؤ خدا خوب جانتا ہے کہ تم میں نیکوں کار کون ہے( اسے مسلم نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا,*
*(📗فتاویٰ رضویہ شریف جدید ج (۲۴) ص (٦۷۸) مکتبہ دعوت اسلامی)*
ہاں آدھار وغیرہ جو بھی کاغذات ہو اس میں بھی حتی الامکان کوشش کرے جہاں تک ہو جائے سدھار کر لے
*واللہ سبحانہ و تعالٰی اعلم و علمه جل مجدة أتم و أحكم*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*✍کتبــــــــــــــہ:-*
*حضرت علامہ و مولانا محمد راشد مکی صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی گرام ملک پور ضلع کٹیہار بہار ہند*
*🔮آپ کا سوال ہمارا جواب گروپ 🔮*
*رابطـــــہ ؛📲8743811087*
*تاریخ؛ ١٥/صفر المظفر ١٤٤١ ھ*
*🖊المشتہــــــر 🖊*
*منجانب ــ آپ کا سوال ہمارا جواب گروپ*
*ابــو اشـــہر رضا محـــــمد امتیـــــازالقــــادری*
Comments
Post a Comment