عدت کا بیان
السلام علیکم ورحمتہ اللہ کیا فرماتے ہیں ہیں علمائے کرام اور مفتیان عظام اس مسئلے پر کہ طلاق کی عدت ۳ ماہ ۱۰ یہ کہنا نا درست ہے یا نہیں ؟
مع مدل تفصیل سے جواب دیں
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
: طلاق کی کوئی عدت 3 ماہ 10 دن مقرر نہیں ہے
طلاق کی جو عدتیں ہیں
وہ اس طرح ہیں
نابالغ اور جس کو حیض نہیں آتا
اس کیلئے مکمل تین ماہ
جس کو حیض آتا ہے
اس کیلئے تین حیض
جس کے شوہر کا انتقال ہو جائے
اس کو 4 ماہ دن
جو حاملہ ہو اس کو وضع حمل
Comments
Post a Comment