اذان کے وقت سلام کرنا کیساا ھے

 اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎


حضور ایک سوال ھے کہ ۔اذان کے وقت سلام کرنا کیسا ھے ۔براے کرم مکمل جواب عنایت فرماٸیں بہت نوازش ھوگی آپ کی 


محمد سرفراز قادری ایم پی


وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 


بسم اللہ الرحمن الرحیم 


الجواب: اذان و اقامت و خطبۂ جمعہ و عیدین کے وقت سلام نہیں کرنا چاہیے اسی طرح جو شخص تلاوت یا درس و تدریس یا علمی گفتگو یا سبق کی تکرار میں مشغول ہو اسکو بھی سلام نہ کرے اور اگر کرلیا تو جواب دینا واجب نہیں -


جیساکہ فتاوی ھندیہ میں ہے 

" یکرہ السلام عند قرأۃ القرآن جھرا و کذا عند مذاکرۃ العلم و عند الاذان والاقامۃ والصحیح أنہ لا یرد فی ھذہ المواضع ایضا کذا فی الغبائبہ " اھ( ج:5/ص: 325/ الباب السابع فی السلام و تشمیت العاطس / بیروت)


اور ایسا ہی بہار شریعت ح:16/ص:462/ سلام کا بیان / مجلس المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی / میں ہے 


واللہ تعالیٰ اعلم 


کتبہ 

اسرار احمد نوری بریلوی 

خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ 


26---نومبر---2020---بروز جمعرات

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟