ایک امام اور ایک مقتدی تو امام نماز کیسے پڑھا ئگا اور نماز پڑھاتے پڑھاتے اور ایک رکعت کے بعد ایک اور مقتدی آگیا تو نماز کیسے مکمل کرےگا
السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ حضرت میرا ایک سوال ہے کے ایک امام اور ایک مقتدی تو امام نماز کیسے پڑھا ئگا اور نماز پڑھاتے پڑھاتے اور ایک رکعت کے بعد ایک اور مقتدی آگیا تو نماز کیسے مکمل کرےگا تفصیل کے ساتھ جواب عنائیت فرماںیں سائل محمد مبارک رضا رضوی
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
وعلیکم السلام ورحمةاللہ وبرکاتہ
الجواب۔بعون الملک الوھاب ۔ ایک مقتدی اورامام ہوں تو مقتدی داہنے جانب امام کے کھڑاہو اور نماز پڑھے ۔
اور نماز کے دوران جب دوسرا مقتدی آۓ تو اس کو چاہیۓ کہ امام کو آگے جانے کا اشارہ کرے یا مقتدی کو پیچھے کی طرف کھیچ لے ۔
آنےوالےمقتدی کواختیارہے ۔ اب اگرقیام کےعلاوہ کسی اور رکن میں پہونچا تو چاہیۓ کہ وہ مقتدی کے بغل میں داہنے جانب شامل ہوجاۓ ۔ اورنمازپڑھ لے ۔
جیساکہ فقیہ اعظم حضور صدرالشریعہ بدرالطریقہ علامہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ الرحمةوالرضوان تحریرفرماتےھیں ،، اکیلامقتدی مرداگرچہ لڑکا ہو امام کے برابر داہنی جانب کھڑاہو ۔ بائیں طرف یاپیچھے کھڑاہونامکروہ ہے ۔ دومقتدی ہوں توپیچھے کھڑےہوں برابر کھڑاہونا مکروہ تنزیہی ہے ۔ دوسے زائد کا امام کے برابر کھڑاہونا مکروہ تحریمی ہے ۔
درمختار جلداول صفحہ ٣٨١
اور فرماتے ہیں ،، ایک شخص امام کے برابر کھڑاتھا پھر ایک اور آیا تو امام آگے بڑھ جاۓ اور وہ آنے والا اس مقتدی کی برابر کھڑا ہوجاۓ یا مقتدی پیچھے ہٹ آۓ ۔ خودیاآنےوالے نے اس کو کھینچا خواہ تکبیر کے بعد یا پہلے یہ سب صورتیں جائز ہیں ۔جو ہوسکے کرے اور سب ممکن ہیں ۔ تو اختیار ہے ۔ مگرمقتدی جب کہ ایک ہوتو اس کا پیچھے ہٹنا افضل ہے اوردوہوں توامام کو آگے بڑھنا اگرمقتدی کے کہنے سے امام آگے بڑھا یا مقتدی پیچھے ہٹا اس نیت سے کہ یہ کہتا ہے اس کی مانوں تو نماز فاسد ہوجاۓ گی اورحکم شرع بجالانے کےلۓ ہوتو کچھ حرج نہیں ۔
درمختار جلداول صفحہ ٣٨٢
بہارشریعت جلداول حصہ سوم صفحہ ١٢١،،١٢٢
وھوسبحانہ تعالی اعلم بالصواب
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
کتبه
العبد ابوالفیضان محمد عتیق اللہ صدیقی فیضی یارعلوی ارشدی عفی عنہ
دارالعلوم اھلسنت محی الاسلام
بتھریاکلاں ڈومریا گنج
سدھارتھنگر یوپی
٢٥ ربیع النور ١٤٤٢ھ
١٢ نومبر ٢٠٢٠ ء
Comments
Post a Comment