حلالہ کی نیت سے نکاح کرنا کیسا ھے
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
علمائے کرام کی بارگاہ میں دست بستہ عرض گزار ہوں کہ اگر کوئی شخص حلالہ کی نیت سے نکاح کر رہا ہے کہ وطی کر کے طلاق دے دوں گا تو ایسا نکاح کرنے والے پر اور ایسے نکاح پڑھانے والے پر شریعت کا کیا حکم ہے ؟
المستفتی : محمد عیان رضا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* کسی شخص کا حلالہ کی نیت سے نکاح کرنا ناجائز و گناہ ہے اور حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا گیا حدیث میں اس پر لعنت کی گئی ہے جیسا کہ عنایہ شرح ھدایہ میں ہے کہ " ( و إِذا تزوجها بشرط التحليل فالنكاح مكروه ) لقوله صلى الله عليه وسلم لعن الله المحلل وَ المحلل له وهذا هو محمله ( فإن طلقها بعدما وطئَها حلت للأَول ) لوجود الدخول في نكاح صحيح " اھ یعنی اور اگر دوسرا شوہر حلالہ کی شرط پر نکاح کرتا ہے تو یہ مکروہ ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے اس پر اللہ کی لعنت ہے اس حدیث کا مصداق یہی ہے " اھ ( عنايہ شرح هدايہ ج 4 ص 128 ) النهر الفائق شرح كنز الدقائق میں ہے کہ " ( و كره ) النكاح كراهة تحريم ( بشرط التحليل ) بأن يقول : تزوجتك على أن أحللك أو تقول هي ، وعلى هذا حمل ما صححه الترمذي : ( لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المحلل والمحلل له ) قيد باشتراط ؛ لأنهما لو نوياه فقط لم يكره ، بل يكون الرجل مأجورًا لقصده الإصلاح ، و إن وصلية حلت ( للأول ) " اھ ( النهر الفائق شرح كنز الدقائق ج 2 ص 423 ) اور درمختار میں ہے کہ " ( وَكُرِهَ ) التَّزَوُّجُ لِلثَّانِي ( تَحْرِيمًا ) لِحَدِيثِ لَعْنِ الْمُحَلِّلِ وَ الْمُحَلَّلِ لَهُ ( بِشَرْطِ التَّحْلِيلِ ) كَتَزَوَّجْتُكِ عَلَى أَنْ أُحَلِّلَكِ ( وَ إِنْ حَلَّتْ لِلْأَوَّلِ ) لِصِحَّةِ النِّكَاحِ وَ بُطْلَانِ الشَّرْطِ فَلَا يُجْبَرُ عَلَى الطَّلَاقِ كَمَا حَقَّقَهُ الْكَمَالُ ، خِلَافًا لِمَا زَعَمَهُ الْبَزَّازِيُّ " اھ ( در المختار مع رد المحتار ج 3 ص 415 : کتاب الطلاق ، باب الرجعۃ ، مطلب: فی العقد علی المبانۃ ، دار الفکر بیروت ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " نکاح بشرط التحلیل جس کے بارے میں حدیث میں لعنت آئی وہ یہ ہے کہ عقد ِنکاح یعنی ایجاب و قبول میں حلالہ کی شرط لگائی جائے اور یہ نکاح مکروہ تحریمی ہے زوج اول و ثانی اور عورت تینوں گنہگار ہوں گے مگر عورت اِس نکاح سے بھی بشرائط حلالہ شوہر اول کے لیے حلال ہو جائیگی ۔ اور شرط باطل ہے ۔ اور شوہر ثانی طلاق دینے پر مجبور نہیں ۔ اور اگر عقد میں شرط نہ ہو اگرچہ نیت میں ہو تو کراہت اصلاً نہیں بلکہ اگر نیت خیر ہو تو مستحق اجر ہے " اھ ( بہار شریعت ج 2 ص 180 : رجعت کا بیان )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
Comments
Post a Comment