تاریخ غوث اعظم

: غوث پاک کی ویلایت

آپ کی پیدائش شب اول رمضان 470 ھ بمطابق 17 مارچ، 1078عیسوی میں ایران کے صوبہ کرمانشاہ کے شہر مغربی گیلان میں ہوئی، جس کو کیلان بھی کہا جاتاہے اور اسی لیے آپ کا ایک اورنام شیخ عبد القادر گیلانی بھی ماخوذ ہے۔ کہا جاتا ہے وہ جيلان ،[5] بغداد کے جنوب میں 40 کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع عراقی تاریخی شہر مدائن کے قریبی شہر مغربی گیلان میں یا اس کے قریب عراقی گاؤں «بشتیر» میں پیدا ہوئے تھے۔ تاریخی کتب نیز بغداد میں رہائش پزیر گیلانی خاندان اس بات کی تائید کرتے ہیں۔ شیخ عبد القادر جیلانی کاتعلق جنید بغدادی کے روحانی سلسلے سے ملتا ہے۔ شیخ عبد القادر جیلانی کی خدمات و افکارکی وجہ سے شیخ عبد القادر جیلانی کو مسلم دنیا میں غوثِ الاعظم دستگیر کاخطاب گ4: سلسلہ نسب

آپ کا شجرہ سید ابو صالح موسی جنگی دوست بن عبد اللہ الجیلی بن سید یحییٰ زاہدبن سید محمد مورث بن سید داؤد بن سید موسی ثانی بن سید موسی الجون بن سید عبد اللہ ثانی بن سیدعبداللہ المحض بن سید حسن المثنیٰ بن سیدنا امام حسن بن سیدنا علی کرم اللہ وجہ سے ملتا ہے۔[7]

] +91 77400 27254: بارے پیشین گوئی

1۔ شیخ عبد القادر جیلانی کی ولادت سے چھ سال قبل حضرت شیخ ابواحمد عبداللہ بن علی بن موسیٰ نے فرمایا کہ میں گواہی دیتاہوں کہ عنقریب ایک ایسی ہستی آنے والی ہے جس کا فرمان ہوگا کہ


قدمی ھذا علی رقبۃ کل ولی اللہ

کہ میرا قدم تمام اولیاء اللہ کی گردن پر ہے۔[8]


2۔حضرت شیخ عقیل سنجی سے پوچھا گیا کہ اس زمانے کے قطب کون ہیں؟ فرمایا، اس زمانے کا قطب مدینہ منورہ میں پوشیدہ ہے۔ سوائے اولیاء اللہ کے اُسے کوئی نہیں جانتا۔ پھر عراق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اس طرف سے ایک عجمی نوجوان ظاہر ہوگا۔ وہ بغداد میں وعظ کرے گا۔ اس کی کرامتوں کو ہر خاص و عام جان لے گا اور وہ فرمائے گا کہ


قدمی ھذا علی رقبۃ کل ولی اللہ

کہ میرا قدم تمام اولیاء اللہ کی گردن پر ہے۔[8]

سالک السالکین میں ہے کہ جب عبد القادر جیلانی کو مرتبہء غوثیت و مقام محبوبیت سے نوازا گیا تو ایک دن جمعہ کی نماز میں خطبہ دیتے وقت اچانک آپ پر استغراقی کیفیت طاری ہو گئی اور اسی وقت زبانِ فیض سے یہ کلمات جاری ہوئے؛


قدمی ھذا علی رقبۃ کل ولی اللہ

کہ میرا قدم تمام اولیاء اللہ کی گردن پر ہے۔

معاً منادیء غیب نے تمام عالم میں ندا کردی کہ جمیع اولیاء اللہ اطاعتِ غوثِ پاک کریں۔ یہ سنتے ہی جملہ اولیاء اللہ جو زندہ تھے یا پردہ کر چکے تھے سب نے گردنیں جھکا دیں۔ (تلخیض بہجت الاسرار) [8] +91 77400 27254: حالاتِ زندگی


ایامِ طفولیت

تمام علما و اولیاء اس بات پر متفق ہیں کہ سیدنا عبد القادر جیلانی مادرزاد یعنی پیدائشی ولی ہیں۔ آپ کی یہ کرامت بہت مشہور ہے کہ آپ ماہِ رمضان المبارک میں طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک کبھی بھی دودھ نہیں پیتے تھے اور یہ بات گیلان میں بہت مشہور تھی۔


ولد للاشراف ولد لایرضع فی رمضان

یعنی سادات کے گھر انے میں ایک بچہ پیدا ہوا ہے جو رمضان میں دن بھر دودھ نہیں پیتا۔[9]

کھیل کود سے لاتعلقی

بچپن میں عام طور سے بچے کھیل کود کے شوقین ہوتے ہیں لیکن آپ بچپن ہی سے لہو و لہب سے دور رہے۔ آپ کا ارشاد ہے کہ


کلما ھممت ان العب مع الصبیان اسمع قائلا یقول الی یا مبارک

ترجمہ: یعنی جب بھی میں بچوں کے ساتھ کھیلنے کا ارادہ کرتا تو میں سنتا تھا کہ کوئی کہنے والا مجھ سے کہتا تھا اے برکت والے، میری طرف آ جا۔[10]

ولایت کا علم

ایک مرتبہ بعض لوگوں نے سید عبد القادر جیلانی سے پوچھا کہ آپ کو ولایت کا علم کب ہوا؟ تو آپ نے جواب دیا کہ دس برس کی عمر میں جب میں مکتب میں پڑھنے کے لیے جاتا تو ایک غیبی آواز آیا کرتی تھی جس کو تمام اہلِ مکتب بھی سُنا کرتے تھے کہ


افسحوا لولی اللہ

ترجمہ: اللہ کے ولی کے لیے جگہ کشادہ کر دو۔[11]

پرورش وتحصیلِ علم

آپ کے والد کے انتقال کے بعد ،آپ کی پرورش آپ کی والدہ اور آپ کے نانا نے کی۔ شیخ عبد القادر جیلانی کا شجرہء نسب والد کی طرف سے حضرت امام حسن اور والدہ کی طرف سے حضرت امام حسین سے ملتا ہے اور یوں آپ کا شجرہء نسب حضرت محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ اٹھارہ ( 18) سال کی عمر میں شیخ عبد القادر جیلانی تحصیل ِ علم کے لیے بغداد (1095ء) تشریف لے گئے۔ جہاں آپ کو فقہ کے علم میں حضرت ابو سعید مبارک مخزومی رحمتہ اللہ علیہ، علم حدیث میں ابوبکر بن مظفر اور تفسیر کے لیے ابومحمد جعفر جیسے اساتذہ میسر آئے۔[12].


ریاضت و مجاہدات

تحصیل ِ علم کے بعد شیخ عبد القادر جیلانی نے بغدادشہر کو چھوڑا اور عراق کے صحراؤں اور جنگلوں میں 25 سال تک سخت عبادت و ریاضت کی[13]۔

1127ء میں آپ نے دوبارہ بغداد میں سکونت اختیار کی اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ جلد ہی آپ کی شہرت و نیک نامی بغداد اور پھر دور دور تک پھیل گئی۔ 40 سال تک آپ نے اسلا م کی تبلیغی سرگرمیوں میں بھرپورحصہ لیا نتیجتاً ہزاروں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے۔


حلیہ

جسم نحیف قد متوسط، رنگ گندمی، آواز بلند، سینہ کشادہ، ڈاڑھی لمبی چوڑی، چہرہ خوبصورت، سر بڑا، بھنوئیں ملی ہوئی۔[14]


ازواج

شیخ عبد القادر نے مختلف اوقات مین چار شادیاں کیں جبکہ ازداوجی زندگی کا آغاز 50 برس کی عمر سے کیا۔ ان کے نام یہ ہیں


سیدہ بی بی مدینہ بنت سید میر محمد

سیدہ بی بی صادقہ بنت سید محمد شفیع

سیدہ بی بی مومنہ

سیدہ بی بی صادقہ[15]

اولاد

شیخ عبد القادر جیلانی ؒکی چار ازواج سے انچاس بچے پیدا ہوئے۔ بیس لڑکے اور باقی لڑکیاں۔


شیخ سیف الدین عبد الوہاب

شیخ تاج الدین عبد الرزاق

شیخ شرف الدین عیسیٰ

شیخ ابو اسحاق ابراہیم

شیخ ابو بکرعبد العزیز

شیخ ابوزکریا یحیٰ

شیخ عبد الجبار

شیخ ابو نصر موسیٰ

شیخ ابو الفضل محمد

شیخ عبد اللہ[1

+91 77400 27254: فرموداتِ غوثِ اعظم

اے انسان، اگر تجھے محد سے لے کر لحد تک کی زندگی دی جائے اور تجھ سے کہا جائے کہ اپنی محنت، عبادت و ریاضت سے اس دل میں اللہ کا نام بسا لے تو ربِ تعالٰی کی عزت و جلال کی قسم یہ ممکن نہیں، اُس وقت تک کہ جب تک تجھے اللہ کے کسی کامل بندے کی نسبت وصحبت میسر نہ آجائے۔[16]

اہلِ دل کی صحبت اختیار کر تاکہ تو بھی صاحبِ دل ہو جائے۔

میرا مرید وہ ہے جو اللہ کا ذاکر ہے اور ذاکر میں اُس کو مانتا ہوں، جس کا دل اللہ کا ذکر کرے۔

 +91 77400 27254: 


القاب غوثِ اعظم

1.غوثِ اعظم

2.پیران ِ پیردستگیر

3.محی الدین

4.شیخ الشیوخ

5.سلطان الاولیاء

6.سردارِ اولیاء

7.قطب ِ ربانی

8.محبوبِ سبحانی

9.قندیل ِ لامکانی

10.میر محی الدین

11.امام الاولیاء

12.السید السند،

13.قطب اوحد،

14.شیخ الاسلام،

15.زعیم العلماء،

16.سلطان الاولیاء،

17.قطب بغداد


4:سیرت غوثِ اعظم

بیشک خالقِ کائنات اللہ رب العالمین نے اِنس وجن کی رشدوہدایت کے لئے مختلف وقتوں اور خطوں میں کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا و مرسلین کو مبعوث فرمایا۔ہرنبی ورسول اللہ تعالی کی علیحدہ علیحدہ صفتوں کے مظہر بن کر آئے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے اپنی کْل صفات ہی نہیں بلکہ ذات کا بھی مظہر بناکر اپنے محبوب نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعْوث فرمایا تو مظہر ذات کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہ رہی باب نبوت ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا تو رْشدوہدایت اور احیا دین و ملت کے لئے مظہر ذات خدامحبوب رب العلیٰ نے غیبی خبر دی کہ’’ ہر صدی کے اختتام پر ایک مجدد پیداہوگا‘‘ (مشکوٰۃشریف) نیز فرمایاکہ ’’ اللہ کے نیک بندے دین کی محافظت کرتے رہیں گے‘‘ (ابوداود) حضور نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد مبارکہ ہے کہ’’ علمائے دین بارش نبوت کا تالاب ہیں‘‘ (مشکوٰۃ شریف) نیز فرمایا کہ ’’چالیس ابدال (اولیا) کی برکت سے بارش اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوگی اور اِنہیں کے طفیل اہلِ شام سے عذاب دور رہے گا(مشکوۃشریف) آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ’’علماء کی زندگی کے لئے مچھلیاں دْعاکرتی ہیں‘‘ (مشکوٰۃ شریف) نیز فرمایا کہ ’’میری اْمت میں ہمیشہ تین سو اولیاء حضرت آدم علیہ السالم کے نقش ِ قدم پر رہیں گے اور چالیس حضرت موسیٰ علیہ السلام و سات حضرت اِبراہیم علیہ السلام کے نقشِ قدم پر ہونگے اور پانچ وہ رہیں گے کہ جن کا قلب حضرت جبرائیل علیہ السلام کی طرح ہوگا اور تین حضرت میکائیل علیہ السلام کے قلب پر اور ایک حضرت اِسرافیل کے قلب پر رہے گا جب اِس ایک کا انتقال ہوگا تو اِن تین میں سے کوئی قائم ہوگا اور اِن تین کی کمی پانچ میں سے اور پانچ کی کمی سات میں سے اور سات کی کمی چالیس میں سے اور چالیس کی کمی سات میں سے اور سات کی کمی چالیس میں سے اور چالیس کی کمی تین سو سے اور تین سو کی کمی عالم مسلمانوں سے پوری کردی جاتی ہے‘‘۔ (مرقاۃملاعلی قاری)


علما حق فرماتے ہیں کہ’’ اللہ تعالیٰ رحمتیں دینے والا، سیدالانبیا رحمت عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم تقسیم فرمانے والے اور اْولیا و علما اِس کا ذریعہ ہیں ‘‘اللہ تعالیٰ کی معرفت کے لئے ملت مصطفویہ کے سامنے علما و مشائخ نے ایک خوبصورت اور زریں اْصول یہ پیش کردیاہے بارگاہِ ربوبیت تک رسائی آقائے دوجہاں سیدعالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے اور بارگاہِ سرور ِ کائنات تک رسائی اْولیا اللہ کے ذریعہ سے ہی ممکن ہے اِن اولیا اللہ کی صف ِ اول میں صحابہ کرام اور اہلِ بیت اطہار رضوان اللہ علیھم اجمعین شامل ہیں اِن کے بعد تابعین، ائمہ مجتھدین، ائمہ شریعت وطریقت کے علاوہ صوفیاء اتقیاء اور دیگر اولیاء بھی شامل ہیں۔ اولیا کرام تو بہت ہوئے اور قیامت تک ہوتے رہیں گے لیکن اِس میں کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ علم و فضل، کشف و کرامات، مجاہدات وتصرفات اور حسب ونسب کی بعض خصوصیات کی وجہ سے حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کو اولیاء کی جماعت میں جو خصوصی امتیاز حاصل ہے وہ کسی اور کو نہیں۔ یہ واضح رہے کہ حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کو جب ہم ولیوں کا تاجدار کہتے ہیں تو یہاں ولیوں کے عموم میں صحابہ کی جماعت کو شامل نہیں کرناچاہئے خالقِ کائنات اللہ رب العزت جن خوش نصیب بندوں کو مقام ولایت عطافرماتا ہے اْن کی ولایت کو کبھی زائل نہیں فرماتا۔آپ غوث اعظم، غوث الثقلین، امام الطرفین، رئیس الاتقیائ، تاج الاصفیائ، قطبِ ربانی، شہبازلامکانی، محی الملت والدین، فخرشریعت وطریقت، ناصرسْنت، عماد حقیقت، قاطع بدعت، سیدوالزاہدین، رھبرِ عابدین، کاشف الحائق، قطب الاقطاب، غوث صمدانی، سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی۔


آپ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ اْم الخیر بیان فرماتی ہیں کہ ولادت کے ساتھ احکامِ شریعت کا اِس قدر احترام تھا کہ حضرت غوث اعظم رمضان میں دن بھر میں کبھی دودھ نہیں پیتے تھے۔ ایک مرتبہ اَبر کے باعث 29شعبان کو چاند کی رؤیت نہ ہوسکی لوگ تردوّمیں تھے لیکن اِس مادر زادولی حضرت غوث اعظم نے صبح کو دودھ نہیں پیا۔ بالآخر تحقیق کے بعد معلوم ہواکہ آج یکم رمضان المبارک ہے۔ آپ کی والدہ محترمہ کا بیان ہے کہ آپ کے پورے عہدِ رضاعت میں آپ کا یہ حال رہا کہ سال کے تمام مہینوں میں آپ دودہ پیتے رہتے تھے لیکن جوں ہی رمضان شریف کا مبارک مہینہ آپ کایہ معمول رہتاتھا کہ طلوع آفتاب سے لے کر غروب آفتاب تک قطعاََ دودہ نہیں پیتے تھے۔خواہ کتنی ہی دودہ پلانیکی کوشش کی جاتی یعنی رمضان شریف کے پورے مہینہ آپ دن میں روزہ سے رہتے تھے اور جب مغرب کے وقت اذان ہوتی اور لوگ افطارکرتے توآپ بھی دودہ پینے لگتے تھے۔ ابتدا ہی سے خالقِ کائنات اللہ رب العزت کی نوازشات سرکارغوث اعظم کی جانب متوجہ تھیں پھر کیوں کوئی آپ کے مرتبہ فلک کو چھوسکتا یا اِس کااندازہ کرسکے چنانچہ سرکارِ غوث اعظم اپنے لڑکپن سے متعلق خود ارشاد فرماتے ہیں کہ عمر کے ابتدائی دور میںجب کبھی میں لڑکوں کے ساتھ کھیلنا چاہتاتو غیب سے آواز آتی تھی کہ لہوولعب سے بازرہو۔جِسے سْن کر میں رْک جایاکرتاتھا اور اپنے گردوپیش جو نظرڈالتاتومجھے کوئی آوازدینے والا نہ دِکھائی دیتاتھاجس سے مجھے دہشت سی معلوم ہوتی اور میں جلدی سے بھاگتاہواگھرآتااور والدہ محترمہ کی آغوش محبت میں چھپ جاتاتھا۔


اَب وہی آواز میں اپنی تنہائیوں میں سْناکرتاہوں اگر مجھ کو کبھی نیند آتی ہے تو وہ آواز فوراََ میرے کانوں میں آکرکے مجھے متنبہ کردیتی ہے کہ تم کو اِس لئے نہیں پیداکیاہے کہ تم سویاکرو۔ حضرت غوث اعظم فرماتے ہیں کہ بچپن کے زمانے میں غیر آبادی میں کھیل رہاتھا کہ ایک گائے کی دم پکڑ کر کھینچ لی فوراََاِس نے کلام کیا اے عبدالقادر! تم اِس غرض سے دنیا میں نہیں بھیجے گئے ہو تو میںنے اِسے چھوڑ دیا اور دل کے اْوپرایک ہیبت سی طاری ہوگئی۔ مشہور روایت ہے کہ جب سیدناسرکار غوث اعظم کی عمر شریف چارسال کی ہوئی تو رسم ورواج ِاسلامی کے مطابق والد محترم سیدناشیخ ابوصالح جن کا لقب’’ جنگی دوست ‘‘ ہے اِس کی وجہ سے ’’قلائدالجواہر‘‘میں بتائی گئی ہے کہ آپ جنگ کو دوست رکھتے تھے ریاض الحیات میں اِس لقب کی تشریح یہ بتائی گئی ہے کہ آپ اپنے نفس سے ہمیشہ جہادفرماتے تھے اور نفس کشی کوتزکیہ نفس کا مدار سمجھتے تھے۔ وہ آپ کو رسم بسم اللہ خوانی کی ادائیگی اور مکتب میں داخل کرنے کی غرض سے لے گئے اور اْستاد کے سامنے آپ دوزانوں ہوکر بیٹھ گئے اْستاد نے کہا! پڑھو بیٹے بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ آپ نے بسم اللہ شریف پڑھنے کے ساتھ ساتھ الم سے لے کر مکمل اٹھارہ 18 پارے زبانی پڑھ ڈالے۔ استاد نے حیرت کے ساتھ دریافت کیا کہ یہ تم نے کب پڑھا....؟ اور کیسے پڑھا...؟ تو آپ نے فرمایا کہ والدہ ماجدہ اٹھارہ سِپاروں کی حافظہ ہیں جن کا وہ اکثر وردکیاکرتی تھیں جب میں شکمِ مادر میں تھا تو یہ اٹھارہ سپارے سْنتے سْنتے مجھے بھی یاد ہوگئے تھے (یہ شان ہوتی ہے اللہ کے ولیوں کی حضور غوث اعظم آج سے کئی صدیوں قبل ہی اِس حقیقت کومن وعن سچ ثابت کرچکے ہیں کہ دورانِ حمل ماں جوکچھ بھی سوچ رہی ہوتی ہے اورپڑھ رہی ہوتی ہے تو اْس کااثر دونوں ہی صورتوں میں شکمِ مادر میں رہنے (پلنے) والے بچے پر ضرور پڑ رہا ہوتاہے اور آج چاند کو چھولینے اور اِس پر چہل قدمی کرنے کی دعویدار 21ویں صدی کی جدید سائنسی دنیا کے یورپ اور امریکا کے سائنسدان اپنی تحقیقوں سے یہ بتاتے پھر رہے ہیں کہ سائنس نے یہ ایک نئی تحقیق کرلی ہے کہ دورانِ حمل ماں جو کچھ بھی منفی یامثبت سوچ رکھتی ہے اِس کا اَثر آئندہ آنے والے بچے کی زندگی پر پڑتا ہے یہ بات سائنس نے آج دریافت کی ہے، جبکہ حضور غوث اعظم نے صدیوں قبل اِسکا عملی ثبوت دنیاکے سامنے خود پیش کردیاتھا اِس سے ہم اْمت مسلمہ کو فخرہوناچاہئے کہ موجودہ دنیا کی کوئی ترقی قرآن و سنت اور تعلیمات اسلامی کے دائرہ کار سے باہرنہیں ہوسکتی)۔


اور یوں آپ نے اپنے وطن جیلان ہی میں باضابطہ طور پر قرآن کریم ختم کیااور چند دوسری دینی کتابیں پڑھ ڈالیں تھیں۔ حضرت غوث اعظم نے حضرت شیخ حماد بن مسلم ہی سے قرآن مجید فرقانِ حمید حفظ کیا اور برسوں خدمتِ حمادیہ میں رہ کر آپ فیوض وبرکات حاصل فرماتے رہے۔ سرکارغوث اعظم نے528سنہ ھ میں درس گاہ کی تعمیر جدید سے فراغت پائی اور مختلف اطراف وجوانب کے لوگ آپ سے شرف تلمذ حاصل کرکے علوم دینیہ سے مالامال ہونے لگے آپ کی بزرگی وولادیت اِسقدر مشہور اور مسلم الثبوت ہے کہ آپ کے غوث اعظم ہونے پر تمام اْمت کا اتفاق ہے حضرت کے سوانح نگار فرماتے ہیں کہ’’کسی ولی کی کرامتیں اِسقدار تواتر اور تفاصیل کے ساتھ ہم تک نہیں پہنچی ہیں کہ جس قدر حضرت غوث الثقلین کی کرامتیں تواتر سے منقول ہیں(نزہۃ الخاطر)۔خلق خدامیں آپ کی مقبولیت ایسی رہی ہے کہ اکبرواصاغرسب ہی عالم استعجاب میں مبتلاہوجاتے ہیں۔ مشرق یا مغرب ہرایک غوث اعظم کا مداح اور آپ کے فیض کا حاجت مند نظرآتاہے۔ مقبولیت وہردلعزیزی کے ساتھ ساتھ آپ کی زبان شیریں بیانی اور کلام و وعظ میں اَثر آفرینی بھی حیران کن تھی۔اِسے آپ یوںبھی کہہ سکتے ہیں کہ آپ کی حیات مقدس کاایک ایک لمحہ کرامت ہے اور آپ کے علمی کمال کا تویہ حال تھاکہ جب بغدادمیں آپ کی مجالس وعظ میں ستر، ستر (70,70) ہزار سامعین کا مجمع ہونے لگا تو بعض عالموں کو حسدہونے لگاکہ ایک عجمی گیلان کا رہنے والا اِسقدر مقبولیت حاصل کرگیاہے۔


چنانچہ حافظ ابوالعباس احمدبن احمدبغدادی اور علامہ حافظ عبدالرحمن بن الجوزی جو دونوں اپنے وقت میں علم کے سمندر اور حدیثوں کے پہاڑ شمار کئے جاتے تھے آپ کی مجلس وعظ میں بغرض امتحان حاضرہوئے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھ گئے جب حضور غوث اعظم نے وعظ شروع فرمایا تو ایک آیت کی تفسیر مختلف طریقوں سے بیان فرمانے لگے۔ پہلی تفسیر بیان فرمائی تو اِن دونوں عالموں نے ایک دوسرے کودیکھتے ہوئے تصدیق کرتے ہوئے اپنی اپنی گردنیں ہلادیں۔ اِسی طرح گیارہ تفسیروں تک تو دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ دیکھ کراپنی اپنی گردنیں ہلاتے اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتے رہے مگر جب حضور غوث اعظم نے بارہویں تفسیر بیان فرمائی تو اِس تفسیر سے دونوں عالم ہی لاعلم تھے اِس لئے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دونوں آپ کا منہ مبارک تکنے لگے اِسی طرح چالیس تفسیریں اِس آیت مبارکہ کی آپ بیان فرماتے چلے گئے اور یہ دونوں عالم استعجاب میں تصویر حیرت بنے سنتے اور سردھنتے رہے پھر آخر میں آپ نے فرمایاکہ اب ہم قال سے حال کی طرف پلٹتے ہیں پھر بلند آواز سے کلمہ طیبہ کا نعرہ بلند فرمایا تو ساری مجلس میں ایک جوش کی کیفیت اور اضطراب پیداہوگیا اور علامہ ابن الجوشی نے جوش حال میں اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے (بہجتہ الاسرار) بغیر کسی مادی وسیلہ (یعنی ساؤنڈ سسٹم کے بغیر) ستر ہزار کے مجمع تک اپنی آواز پہنچانااور سب کا یکساں انداز میں سماعت کرنا آپ کی ایسی کرامت ہے جو روزانہ ظاہرہوتی رہتی تھی۔


سیدناعوث اعظم کے سوانح وحالات رقم کرنے والے تمام مصنفین وتذکرہ نگاروں کا اِس پر اتفاق ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ نے ایک مرتبہ بہت بڑی مجلس میں (کہ جس میں اپنے دور کے اقطاب وابدال اور بہت بڑی تعداد میں اولیاء وصلحاء بھی موجودتھے جبکہ عام لوگوں کی بھی ایک اچھی خاصی ہزاروں میں تعدادموجودتھی)دورانِ وعظ اپنی غوثیت کبریٰ کی شان کا اِس طرح اظہار فرمایاکہ (قدمی هذا علی رقبة کل ولی الله) ترجمہ:-میرایہ قدم تمام ولیوں کی گردنوں پر ہے‘‘تو مجلس میں موجود تمام اولیاء نے اپنی گردنوں کو جھکادیااور دنیا کے دوسرے علاقوں کے اولیاء نے کشف کے ذریعے آپ کے اعلان کو سنااور اپنے اپنے مقام پر اپنی گردنیں خم کردیں۔ حضرت خواجہ شیخ معین الدین اجمیری نے گردن خم کرتے ہوئے کہا کہ ’’ آقا آپ کا قدم میری گرن پر بھی اور میرے سر پر بھی‘‘


(اخبار الاخيار، شمائم امدادية، سفينة اوليا، قلائدالجواهرِ، نزهته الخاطر، فتاویٰ افريقه کرامات غوثية اعلی حضرت)


حضور غوث اعظم کی حیات مبارکہ کا اکثر و بیشتر حصہ بغداد مقدس میں گزرا اور وہیں پر آپ کا وصال ہوااور وہیں پر ہی آپ کا مزار مبارک ہے جس کے گرد عام لوگوں کے علاوہ بڑے بڑے مشائخ اور اقطاب آج بھی کمالِ عقیدت کے ساتھ طوافِ زیارت کیاکرتے ہیںاور فیوض و برکات سمیٹتے ہیں۔


ماخوذ از ماہنامہ دخترانِ اسلام، جنوری 2016


 +91 77400 27254:  کرامات غوث اعظم رضی اللہ عنہ   👈👉👈👉👈👉👈👉

خانقاہ میں ایک باپردہ خاتون اپنے منے کی لاش چادر میں لپٹائے، سینے سے چمٹائے زار و قطار رو رہی تھی۔ اتنے میں ایک “مدنی منا“ دوڑتا ہوا آتا ہے اور ہمدردانہ لہجے میں اس خاتوں سے رونے کا سبب دریافت کرتا ہے۔ وہ روتے ہوئے کہتی ہے، بیٹا! میرا شوہر اپنے لخت جگر کے دیدار کی حسرت لئے دنیا سے رخصت ہو گیا ہے۔ یہ بچہ اس وقت پیٹ میں تھا اور اب یہی اپنے باپ کی نشانی اور میری زندگانی کا سرمایہ تھا، یہ بیمار ہو گیا، میں اسے اس خانقاہ میں دم کروانے لا رہی تھی کہ راستے میں اس نے دم توڑ دیا ہے۔ میں پھر بھی بڑی امید لے کر یہاں حاضر ہو گئی کہ اس خانقاہ والے بزرگ کی ولایت کی ہر طرف دھوم ہے اور ان کی نگاہ کرم سے اب بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے مگر وہ مجھے صبر کی تلقین کرکے اندر تشریف لے جا چکے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ خاتون پھر رونے لگی۔ “مدنی منے کا دل پگھل گیا اور اس کی رحمت بھری زبان پر یہ الفاظ کھیلنے لگے، محترمہ ! آپ کا منا مرا ہوا نہیں بلکہ زندہ ہے، دیکھو تو سہی وہ حرکت کر رہا ہے!“ دکھیاری ماں نے بے تابی کے ساتھ اپنے منے کی لاش پر سے کپڑا اٹھا کر دیکھا تو وہ سچ مچ زندہ تھا اور ہاتھ پیر ہلا کر کھیل رہا تھا۔ اتنے میں خانقاہ والے بزرگ اندر سے واپش تشریف لائے، بچے کو زندہ دیکھ کر ساری بات سمجھ گئے اور لاٹھی اٹھا کر یہ کہتے ہوئے “مدنی منے“ کی طرف لپکے کہ تونے ابھی سے تقدیر خداوندی عزوجل کے سربستہ راز کھولنے شروع کر دئیے ہیں! “مدنی منا“ وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا اور وہ بزرگ اس کے پیچھے دوڑنے لگے۔ “مدنی منا“ یکایک قبرستان کی طرف مڑا اور بلند آواز سے پکارنے لگا، اے قبر والو ! مجھے بچاؤ! تیزی سے لپکتے ہوئے بزرگ اچانک ٹھٹھک کر رک گئے کیونکہ قبرستان سے تین سو (300) مردے اٹھ کر اسی “مدنے منے“ کی ڈھال بن چکے تھے اور وہ “مدنی منا“ دور کھڑا اپنا چاند سا چہرہ چمکاتا مسکرا رہا تھا۔ اس بزرگ نے بڑی حسرت کے ساتھ “مدنی منے“ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، بیٹا ! ہم تیرے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتے۔ اس لئے تیری مرضی کے آگے اپنا سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں وہ “مدنی منا“ کون تھا ؟ اس مدنی منے کا نام عبدالقادر تھا اور آگے چلکر وہ غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرام کے لقب سے مشہور ہوئے اور وہ بزرگ ان کے ناناجان حضرت سیدنا عبداللہ صومعی علیہ رحمۃ اللہ القوی تھے۔ (الحقائق فی الحدائق)

بچپن کی چند کرامات

غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرام مادر زاد ولی تھے۔

(1) آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ابھی اپنی ماں کے پیٹ میں تھے اور ماں کو جب چھینک آتی اور اس پر وہ الحمدللہ کہتیں تو آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ پیٹ ہی میں جواباً یرحمک اللہ کہتے

(2) آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ یکم رمضان المبارک بروز پیر صبح صادق کے وقت دنیا میں جلوہ گر ہوئے اس وقت ہونٹ آہستہ آہستہ حرکت کر رہے تھے اور اللہ، اللہ کی آواز آرہی تھی

(3) جس دن آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت ہوئی اس دن آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دیار ولادت جیلان شریف میں گیارہ سو بچے پیدا ہوئے وہ سب کے سب لڑکے تھے اور سب ولی اللہ بنے۔

(4) غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرام نے پیدا ہوتے ہی روزہ رکھ لیا اور جب سورج غروب ہوا اس وقت ماں کا دودھ نوش فرمایا۔ سارا مہینہ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا یہی معمول رہا

(5) پانچ برس کی عمر میں جب پہلی بار بسم اللہ پڑھنے کی رسم کیلئے کسی بزرگ کے پاس بیٹھے تو اعوذ اور بسم اللہ پڑھ کر سورہء فاتحہ اور آلم سے لے کر اٹھارہ پارے روشن پڑھ کر سنا دئیے۔ اس بزرگ نے کہا، بیٹے اور پڑھئے! فرمایا، بس مجھے اتنا ہی یاد ہے کیونکہ میری ماں کو بھی اتنا ہی یاد تھا۔ جب میں اپنی ماں کے پیٹ میں تھا اس وقت وہ پڑھا کرتی تھیں۔ میں نے سن کر یاد کر لیا تھا

(6) جب آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ لڑکپن میں کھیلنے کا ارادہ فرماتے، غیب سے آواز آتی، اے عبدالقادر (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)! ہم نے تجھے کھیلنے کے واسطے نہیں پیدا کیا

(7) آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مدرسہ میں تشریف لے جاتے تو آواز آتی، “اللہ عزوجل کے ولی کو جگہ دے دو۔“ (کتب کثیرہ)

کرامت کی تعریف

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! بعض اوقات آدمی کرامات اولیاء کے معاملے میں شیطان کے وسوسے میں آکر کرامات کو عقل کے ترازو میں تولنے لگتا ہے اور یوں گمراہ ہو جاتا ہے۔ یاد رکھئے! کرامت کہتے ہی اس خرق عادت بات کو جو عقلاً محال یعنی ظاہری اسباب کے ذریعہ اس کا صدور ناممکن ہو مگر اللہ عزوجل کی عطا سے اولیائے کرام رحمہم اللہ تعالٰی سے ایسی باتیں بسا اوقات صادر ہو جاتی ہیں۔ نبی سے قبل از اعلان نبوت ایسی چیزیں ظاہر ہوں تو ان کو ارہاص کہتے ہیں۔ اور اعلان نبوت کے بعد صادر ہوں تو معجزہ کہتے ہیں۔ عام مومنین سے اگر ایسی چیزیں ظاہر ہوں تو اسمیعونت اور ولی سے ظاہر ہوں تو کرامت کہتے ہیں۔ نیز کافر یا فاسق سے کوئی خرق عادت ظاہر ہو تو اسے استدراج (اس۔ تد۔ راج) کہتے ہیں۔ (النبراس، ص272 ملخصاً، طبعۃ ملتان)

ڈوبی ہوئی بارات

ایک بار سرکار بغداد حضور سیدنا غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم دریا کی طرف تشریف لے گئے۔ وہاں ایک نوے سال کی بڑھیا کو دیکھا جو زار و قطار رو رہی تھی۔ ایک مرید نے بارگاہ غوثیت میں عرض کی، یامرشدی! اس ضعیفہ کا ایک اکلوتا خوبرو بیٹا تھا۔ بے چاری نے اس کی شادی رچائی دولہا نکاح کرکے دلہن کو اسی دریا میں کشتی کے ذریعہ اپنے گھر لا رہا تھا کہ کشتی الٹ گئی اور دولہا دلہن سمیت بارات ڈوب گئی۔ اس واقعہ کو آج بارہ برس گزر چکے ہیں مگر ماں کا جگر ہے، بے چاری کا غم جاتا نہیں ہے، یہ روزانہ یہاں دریا پر آتی ہے اور بارات کو نہ پاکر رو دھو کر چلی جاتی ہے۔ حضور غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کو اس ضعیفہ پر بڑا ترس آیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعاء کے لئے ہاتھ اٹھا دئیے۔ چند منٹ تک کچھ بھی ظہور نہ ہوا۔ بے تاب ہو کر بارگاہ الٰہی عزوجل میں عرض کی، یااللہ عزوجل ! اس قدر تاخیر کیوں ؟ ارشاد ہوا، اے میرے پیارے ! یہ تاخیر خلاف تقدیر و تدبیر نہیں ہے، ہم چاہتے تو ایک حکم کن سے تمام زمین و آسمان پیدا کر دیتے مگر بتقضائے حکمت چھ دن میں پیدا کئے، بارات کو ڈوبے بارہ سال بیت چکے ہیں، اب نہ وہ کشتی باقی رہی ہے نہ ہی اس کی کوئی سواری، تمام انسانوں کا گوشت وغیرہ بھی دریائی جانور کھا چکے ہیں، ریزہ ریزہ کو اجزائے جسم میں اکٹھا کروا کر دوبارہ زندگی کے مرحلے میں داخل کر دیا ہے، اب ان کی آمد کا وقت ہے۔ ابھی یہ کلام اختتام کو بھی نہ پہنچا تھا کہ یکایک وہ کشتی اپنے تمام ساز و سامان کے ساتھ بمع دولہا دلہن و براتی سطح آپ پر نمودار ہوگئی اور چند ہی لمحوں میں کنارے آلگی۔ تمام باراتی سرکار بغداد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے دعائیں لے کر خوشی خوشی اپنے گھر پہنچے۔ اس کرامت کو سن کر بے شمار کفار نے آ آ کر سیدنا غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کے دست حق پرست پر اسلام قبول کیا۔ (سلطان الاذ کارفی مناقب غوث الابرار)

کیا بندہ مردہ زندہ کر سکتا ہے ؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! بے شک موت و حیات اللہ عزوجل کے اختیار میں ہے لیکن اللہ عزوجل اپنے کسی بندے کو مردے جلانے کی طاقت بخشے تو اس کے لئے کوئی مشکل بات نہیں ہے اور اللہ عزوجل کی عطا سے کسی اور کو ہم مردہ زندہ کرنے والا تسلیم کریں تو اس سے ہمارے ایمان پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اگر شیطان کی باتوں میں آکر کسی نے اپنے ذہن میں یہ بٹھا لیا ہے کہ اللہ عزوجل نے کسی اور کو مردہ زندہ کرنے کی طاقت ہی نہیں دی تو اس کا یہ نظریہ یقیناً حکم قرآنی کے خلاف ہے۔ دیکھئے! قرآن پاک حضرت سیدنا عیسٰی روح اللہ علٰی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے مریضوں کو شفاء دینے اور مردے زندہ کرنے کی طاقت کا صاف صاف اعلان کر رہا ہے جیسا کہ (پارہ 30، سورہء ال عمران کی آیت نمبر49) میں حضرت سدینا عیسٰی روح اللہ علٰی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے

وابری الاکمہ والابرص واحی الموتی باذن اللہ ج (پ3، ال عمران: 49)

ترجمہء کنزالایمان: اور میں شفاء دیتا ہوں مادر زادھوں اور سفید داغ والے (یعنی کوڑھی) کو اور میں مردے چلاتا ہوں اللہ (عزوجل) کے حکم سے

امید ہے کہ شیطان کا ڈالا ہوا وسوسہ جڑ سے کٹ گیا ہوگا، کیونکہ مسلمان کا قرآن پاک پر ایمان ہوتا ہے اور وہ حکم قرآن کے خلاف کوئی دلیل تسلیم کرتا ہی نہیں۔ بہرحال اللہ عزوجل اپنے مقبول بندوں کو طرح طرح کے اختیارات سے نوازتا ہے اور ان سے ایسی باتیں صادر ہوتی ہیں جو عقلی انسانی کی بلندیوں سے وراء الورا ہوتی ہیں۔ یقیناً اہل اللہ کے تصرفات و اختیارات کی بلندی کو دنیا والوں کی پرواز عقل چھو بھی نہیں سکتی۔

سائنسدان کی نظر

دور حاضر کا سب سے بڑا سائنسدان آئن اسٹائن کہہ گیا ہے، “میں نے ریڈیو، دوربین کے ذریعہ ایک ایسا کہکشاں تو دیکھ لیا ہے جو زمین سے دو کروڑ نوری سال دور ہے یعنی روشنی جو فی سیکنڈ ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل طے کرتی ہے وہاں دو کروڑ سال میں پہنچے گی مگر جہاں تک کائنات کی سرحدیں معلوم کرنے کا تعلق ہے اگر میری عمر ایک ملین یعنی دس لاکھ برس بھی ہو جائے تب بھی دریافت نہیں کر سکتا۔“

سائنسدان کے برعکس خدائے رحمٰن عزوجل کے ولی حضور غوث اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کی نظر کی عظمت وشان دیکھئے آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :-

نظرت الٰی بلاد اللہ جمعا

کخردلۃ علٰی حکم التصال

یعنی اللہ عزوجل کے تمام شہر میری نظر میں اس طرح ہیں جیسے ہتھیلی میں رائی کا دانہ۔

میرے آقا اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بارگاہ غوثیت مآب میں عرض کرتے ہیں

بد عقیدہ قاتل کی سزا

اب وصال شریف کے طویل عرصے کے بعد ہندوستان میں رونما ہونے والا ایک ایمان افروز واقعہ پڑھئے اور جھومئے۔ رنجیت سنگھ کے دور حکومت کا واقعہ ہے، ایک نام نہاد مسلمان جوکر کرامات اولیاء کا منکر تھا شومئی قسمت سے ایک شادی شدہ ہندوانی کو دل سے بیٹھا۔ ایک بار ہندو اپنی بیوی کو میکے پہنچانے کے لئے گھر سے باہر نکلا ادھر سے بدبخت عاشق پر شہوت نے غلبہ کیا۔ چنانچہ اس نے ان کا پیچھا کیا اور ایک سنسان مقام پر اس نے دونوں کو گھیر لیا، وہ دونوں پیدل تھے اور یہ گھوڑے پر سوار تھے۔ اس نے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے سواری کی پیشکش کی مگر ہندو نے انکار کیا، وہ اصرار کرنے لگا کہ اچھا عورت ہی کو پیچھے بیٹھنے کی اجازت دے دو کہ یہ بے چاری تھک جائے گی۔ ہندو کو اس کی نیت پر شبہ ہو چلا تھا، لٰہذا اس نے کہا، تم ضمانت دو کہ کسی قسم کی خیانت کئے بغیر میری بیوی کو منزل پر پہنچا دو گے۔ اس نے کہا کہ یہاں جنگل میں ضامن کہاں سے لاؤں ؟ عورت بول اٹھی، “مسلمان گیارہوں والے بڑے پیرصاحب کو بہت مانتے ہیں تم انہیں کی ضمانت دے دو۔“ وہ اگرچہ غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کے تصرفات کا قائل نہیں تھا مگر یہ سوچ کر کہ ہاں کہہ دینے میں کیا جاتا ہے اس نے ہاں کہہ دی۔ جوں ہی عورت گھوڑے پر سوار ہوئی اس ظالم نے تلوار سے اس کے شوہر کی گردن اڑا دی اور گھوڑے کو ایڑھ لگادی۔ عورت غم سے نڈھال اور سہمی ہوئی بار بار مڑ کر پیچھے دیکھے جارہی تھی۔ اس نے کہا کہ بار بار پیچھے دیکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، تمھارا شوہر اب واپس نہیں آسکتا۔ اس نے کپکپاتی ہوئی آواز میں کہا، میں تو بڑے پیرصاحب کو دیکھ رہی ہوں۔ اس پر اس نے ایک قہقہہ لگاکر کہا کہ بڑے پیرصاحب کو تو فوت ہوئے سو سال گزر چکے ہیں اب بھلا سو سال گزر چکے ہیں اب بھلا وہ کہاں سے آسکتے ہیں ! اتنا کہنا تھا کہ اچانک دو بزرگ نمودار ہوئے ان میں سے ایک نے بڑھ کر تلوار سے اس بدعقیدہ عاشق کا سر اڑا دیا۔ پھر عورت کو بمع گھوڑا اس جگہ لائے جہاں وہ ہندو کٹا ہوا پڑا تھا۔ دونوں میں سے ایک بزرگ نے کٹا ہوا سر دھڑ سے ملاکر کہا، “قم باذن اللہ“ یعنی اٹھ اللہ (عزوجل) کے حکم سے۔ وہ ہندو اسی وقت زندہ ہوگیا۔ وہ دونوں بزرگ غائب ہوگئے۔ یہ دونوں میاں بیوی گھوڑے پر سوار ہوکر بخیریت گھر لوٹ آئے۔ مقتول کے وارثوں نے گھوڑا پہچان کر رنجیت سنگھ کی کورٹ میں دونوں میاں بیوی پر کیس کردیا کہ ہمارا آدمی غائب ہے اور گھوڑا ان کے پاس ہے شاید ان لوگوں نے ہمارے آدمی کو قتل کر دیا ہے۔ پیشی ہوئی، ان میاں بیوی نے جنگل کا سارا واقعہ کہہ سنایا اور کہا کہ ان دونوں بزرگوں میں سے ایک بزرگ یہاں کے مشہور مجذوب گل محمد شاہ صاحب کے ہمشکل تھے۔ چنانچہ ان مجذوب بزرگ کو بلوایا گیا۔ وہ تشریف لے آئے اور انھوں نے آتے ہی اول تا آخر سارا واقعہ لفظ بہ لفظ بیان کردیا۔ لوگ حضور غوث اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کی یہ زندہ کرامت سنکر عش عش کر اٹھے۔ رنجیت سنگھ نے مقدمہ خارج کرتے ہوئے ان دونوں میاں بیوی کو انعام و اکرام دے کر رخصت کیا۔ (الحقائق فی الحدائق)

غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کا کنواں

ایک بار بغداد معلٰی میں طاعون کی بیماری پھیل گئی اور لوگ دھڑا دھڑ مرنے لگے۔ لوگوں نے آپ کی خدمت میں اس مصیبت سے نجات دلانے کی درخواست پیش کی۔ آپ نے ارشاد فرمایا، “ہمارے مدرسہ کے اردگرد جو گھاس ہے وہ کھاؤ اور ہمارے مدرسے کے کنویں کا پانی پیو۔ جو ایسا کرے گا انشاءاللہ عزوجل ہر مرض سے شفاء پائے گا۔“ چنانچہ گھاس اور کنویں کے پانی سے شفاء ملنی شروع ہوگئی۔ یہاں تک کہ بغداد شریف سے طاعون ایسا بھاگا کہ پھر کبھی پلٹ کر نہ آیا۔ (تفریح الخاطر، ص34۔ 35 مصر)

“طبقات الکبرٰی“ میں غوث اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کا یہ ارشاد بھی نقل کیا گیا ہے، جس مسلمان کا میرے مدرسے سے گزر ہوا قیامت کے روز اس کے عذاب میں تخفیف ہوگی۔ (طبقات الکبرٰی، ج1، ص179)

ستر بار احتلام

حضرت سیدنا غوث اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کا ایک مرید ایک ہی رات میں نئی نئی عورت کے سبب ستر بار محتلم ہوا۔ صبح غسل سے فارغ ہوکر اپنی پریشانی کی فریاد لیکر اپنے مرشد کریم حضور غوث اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کی خدمت باعظمت میں حاضر ہوا۔ قبل اس کے کہ وہ کچھ عرض کرے۔ سرکار بغداد حضور غوث اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم نے خود ہی فرمایا، رات کے واقعہ سے مت گھبراؤ میں نے رات لوح محفوظ پر نظر ڈالی تو تمہارے بارے میں ستر مختلف عورتوں کے ساتھ زنا کرنا مقدر تھا۔ میں نے بارگاہ الٰہی عزوجل میں التجا کی کہ وہ تیری تقدیر کو بدل دے اور ان گناہوں سے تیری حفاظت فرمائے۔ چنانچہ ان سارے واقعات کو خواب میں احتلام کی صورت میں تبدیل کر دیا گیا۔ (بہجۃ الاسرار و معدن الانوار، ص193)


ارشادات غوث اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم

اس سے معلوم ہوا کہ کسی پیر کامل کی بیعت ضرور کرنی چاہئیے کہ پیر کی توجہ سے مصیبتیں ٹل جاتی ہیں اور بعض اوقات بڑی آفت چھوٹی آفت سے بدل کر رہ جاتی ہے۔ بہجۃ الاسرار میں ہے، پیروں کے پیر،پیر دستگیر، روشن ضمیر، قطب ربانی، محبوب سبحانی، پیر لاثانی، قندیل نورانی، شہباز لامکانی، الشیخ ابو محمد سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ الربانی کا فرمان بشارت نشان ہے، مجھے ایک بہت بڑا رجسٹر دیا گیا جس میں میرے مصاحبوں اور میرے قیامت تک ہونے والے مریدوں کے نام درج تھے اور کہا گیا کہ یہ سارے افراد تمہارے حوالے کر دئیے گئے ہیں۔ فرماتے ہیں، میں نے داروغہء جہنم سے استفسار کیا، کیا جہنم میں میرا کوئی مرید بھی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا، “نہیں۔“ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے مذید فرمایا، مجھے اپنے پروردگار کی عزت جلال کی قسم ! میرا دست حمایت میرے مرید پر اس طرح ہے جس طرح آسمان زمین پر سایہ کناں ہے۔ اگر میرا مرید اچھا نہ بھی ہو تو کیا ہوا۔ الحمدللہ عزوجل میں تو اچھا ہوں۔ مجھے اپنے پالنے والے کی عزت جلال کی قسم ! میں اس وقت تک اپنے رب عزوجل کی بارگاہ سے نہ ہٹوں گا جب تک اپنے ایک ایک مرید کو داخل جنت نہ کروالوں۔ (ایضاً)

عظیم الشان کرامت

ابوالمظفر حسن نامی ایک تاجر نے حضرت سیدنا شیخ حمّاد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کی، حضور ! میں تجارت کیلئے قافلہ کے ہمراہ ملک شام جا رہا ہوں۔ آپ سے دعاء کی درخواست ہے۔ سیدنا شیخ حمّاد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا، “تم اپنا سفر ملتوی کردو، اگر گئے تو ڈاکو تمہارا سارا مال بھی لوٹ لیں گے اور تمہیں بھی قتل کر ڈالیں گے۔“ تاجر یہ سن کر بڑا پریشان ہوا، اسی پریشانی کے عالم میں واپس آ رہا تھا کہ راستے میں حضور غوث اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم مل گئے۔ پوچھا، کیوں پریشان ہو ؟ اس نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ارشاد فرمایا، پریشان نہ ہو شوق سے ملک شام کا سفر کرو۔ انشاءاللہ عزوجل سب بہتر ہو جائے گا۔ چنانچہ وہ قافلے کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ اسے کاروبار میں بہت نفع ہوا۔ وہ ایک ہزار (1000) اشرفیوں کی تھیلی لئے حلب پہنچا۔ اتفاقاً وہ اشرفیوں کی تھیلی کہیں رکھ کر بھول گیا، اسی فکر میں نیند نے غلبہ کیا اور سو گیا، نیند میں اس نے ایک ڈراؤنا خواب دیکھا کہ ڈاکوؤں نے قافلے پر حملہ کرکے سارا مال لوٹ لیا ہے اور اسے بھی قتل کر ڈالا ہے۔ خوف کے مارے اس کی آنکھ کھل گئی۔ گھبرا کر اٹھا تو وہاں کوئی ڈاکو وغیرہ نہ تھا۔ اب اسے یاد آیا کہ اشرفیوں کی تھیلی اس نے فلاں جگہ رکھی ہے۔ جھٹ وہاں پہنچا تو تھیلی مل گئی۔ خوشی خوشی بغداد شریف واپس آیا۔ اب سوچنے لگا کہ پہلے غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم سے ملوں یاشیخ حمّاد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے ؟ اتفاقاً راستے میں ہی سیدنا شیخ حمّاد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مل گئے اور دیکھتے ہی فرمانے لگے، پہلے جاکر غوث اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم سے ملو کہ وہ محبوب ربانی ہیں، انہوں نے تمہارے حق میں ستر بار دعاء مانگی تھی تب کہیں جاکر تمہاری تقدیر بدلی جس کی میں نے خبر دی تھی۔ اللہ عزوجل نے تمہارے ساتھ ہونے والے واقعہ کو غوث اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کی دعاء کی برکت سے بیداری سے خواب میں منتقل کر دیا۔ چنانچہ وہ بارگاہ غوثیت مآب میں حاضر ہوا۔ غوث اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم نے دیکھتے ہی فرمایا، “واقعی میں نے تمہارے لئے ستر مرتبہ دعاء مانگی تھی۔“ (بہجۃ الاسرار و معدن الانوار، ص64)

عذاب قبر سے رہائی

ایک غمگین نوجوان نے آکر بارگاہ غوثیت میں فریاد کی، حضور ! میں نے اپنے والد مرحوم کو رات خواب میں دیکھا، وہ کہہ رہے تھے، “بیٹا ! میں عذاب قبر میں مبتلا ہوں، تو سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ النورانی کی بارگاہ میں حاضر ہوکر میرے لئے دعاء کی درخواست کر۔“ یہ سن کر سرکار بغداد حضور غوث اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم نے استفسار فرمایا، کیا تمہارے اباجان میرے مدرسے سے کبھی گزرے ہیں ؟ اس نے عرض کی، جی ہاں۔ بس آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ خاموش ہو گئے۔ وہ نوجوان چلا گیا۔ دوسرے روز خوش خوش حاضر خدمت ہوا اور کہنے لگا، یامرشد ! آج رات والد مرحوم سبز حلہ (یعنی سبز لباس) زیب تن کئے خواب میں تشریف لائے وہ بے حد خوش تھے، کہہ رہے تھے، بیٹا ! سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ الربانی کی برکت سے مجھ سے عذاب دور کر دیا گیا ہے اور یہ سبز حلّہ بھی ملا ہے۔ میرے پیارے بیٹے ! تو ان کی خدمت میں رہا کر۔“ یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا، میرے رب عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ جو مسلمان تیرے مدرسے سے گزرے گا اس کے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ (ایضاً، ص194)

مردے کی چیخ و پکار

ایک بار بارگاہ غوثیت مآب میں حاضر ہو کر لوگوں نے عرض کی، عالی جاہ ! “باب الازج“ کے قبرستان میں ایک قبر سے مردے کی چیخنے کی آوازیں آرہی ہیں۔ حضور ! کچھ کرم فرما دیجئے کہ بے چارے کا عذاب دور ہو جائے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ارشاد فرمایا، کیا اس نے مجھ سے خرقہء خلافت پہنا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی، ہمیں معلوم نہیں۔ فرمایا، کیا کبھی وہ میری مجلس میں حاضر ہوا ؟ لوگوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ فرمایا، کیا اس نے کبھی میرا کھانا کھایا ؟ لوگوں نے پھر لا علمی کا اظہار کیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے پوچھا، کیا اس نے کبھی میرے پیچھے نماز ادا کی ؟ لوگوں نے وہی جواب دیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ذرا سا سر اقدس جھکایا تو آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ پر جلال و وقار کے آثار ظاہر ہوئے۔ کچھ دیر کے بعد فرمایا، مجھے ابھی ابھی فرشتوں نے بتایا، “اس نے آپ کی زیارت کی ہے اور آپ سے اسے عقیدت بھی تھی لٰہذا اللہ تبارک و تعالٰی نے اس پر رحم کیا۔“ الحمدللہ عزوجل اس کی قبر سے آوازیں آنی بند ہو گئیں۔ (بہجۃ الاسرار و معدن الانوار، ص194، دارالکتب العلمیۃ بیروت

 *صحبتِ غوثِ اعظم کی برکت*: 

حضرت سیّدنا عبدُاللہ خشّاب علیہ رحمۃ اللہ الوَہَّاب علمِ نحوپڑھ رہے تھے، درسِ غوث اعظم  کا شہرہ بھی سُن رکھا تھا،ایک روز آپ غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکرَم کےدرس میں شریک  ہوئےجب آپ کو نحوی نکات نہ ملےتو دل میں وقت ضائع ہونے کا خیال گزرا اسی وقت غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکرَم آپ کی جانب متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا:”ہماری صحبت اختیار کرلو ہم تمہیں(علمِ نحو کے مشہور امام) سِیْبَوَیہ (کامثل) بنادیں گے۔“یہ سُن  کرحضرت عبدُ اللہ خشّاب نحوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی  نے درِغوثِ اعظم پر مستقل ڈیرے ڈال دئے جس کا نتیجہ یہ ظاہر  ہواکہ  آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو نحوکے ساتھ ساتھ علومِ نقلیہ و عقلیہ  پرمہارت حاصل ہوئی۔ (قلائدالجواھر، ص32،تاریخ الاسلام للذھبی،ج 39،ص267) حضرت سیّدنا غوث ِ اعظم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکرَم کے علمی موتیوں کی یہ شان تھی کہ 400 علماآپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی زبان سے ادا ہونے والےعلم و حکمت کے لازوال موتیوں کو محفوظ کرنےکے لئے حاضر رہتے۔ (نزہۃ الخاطرالفاترمع الطریقۃ القادریۃ، ص210)

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟