امام نے فجر کی سنت ادا نہ کی اور جماعت قایم کرلی تو نماز ھوٸی کہ نہی
السلام علیکم ورحمت اللہ و برکاتہ۔
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سنت فجر پڑھے بغیر نماز پڑھانا کیسا نماز ہوئ یا نہیں؟ مثلًا: فجر کی جماعت پورا 5:00 پانچ کو ہے اور امام صاحب لیٹ گئے دس منٹ اور طلوع آفتاب 5:43 کو ہے اور مقتدی انتظار کررہا ہے اب جو امام صاحب دس منٹ لیٹ آئے اور وقت فجر باقی ہے اور انہوں نے سنت نہیں پڑھا سیدھا نماز پڑھا دیا تو نماز ہوئ یا نہیں؟ جماعت پورا 5:00کو اور امام دس منٹ لیٹ آیا اور طلوع آفتاب 5:43 کو اور پانچ منٹ میں سنت پڑھ سکتا تھا لیکن نہیں پڑھا وقت کی گنجائش ہے پھر بھی ایسا کیا تو کیا حکم شرع ہوگا امام پر اور فرض نماز جماعت سے پڑھایا تو ہوئ کی نہیں؟
علمائے کرام جواب عنایت کریں مہربانی ہوگی .
سائل...... غلام مصطفیٰ کشن گنج بہار
_____________________________________
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
الجواب بعون الملک الوہاب۔
صورت مستفسرہ کے بارے میں بحر العلوم حضرت علامہ مفتی عبد المنان اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:
کہ اگر اتنا وقت باقی ہے کہ سنت پڑھ لینے کے بعد فرض ادا کرلے گا تو سنتوں کے پڑھنے کے بعد نماز پڑھائے فجر کی سنت کی تاکید بہت زیادہ ہے یہاں تک کہ قریب بوجوب ہے بلکہ بعض فقہاء کرام اس کے وجوب کے قائل ہیں اگر سنت فجر بغیر پڑھے ہوئے امامت کرے تو اس کا ترک لازم آئےگا کہ اب اس کی قضا بھی نہیں اور بلاشبہ بے عذر سنت فجر کا ترک اساءت ہے اور ظہر کی سنتیں اگر چہ بعد فرض پڑھ لے گا مگر بلا عذر اس کو اس کی جگہ سے ہٹانا بھی برا ہے کہ سنت قبلیہ میں اصل سنت یہی ہے کہ وہ فرض سے قبل پڑھی جائے جماعت قائم ہونے کے بعد مقتدی کا جماعت میں مشغول ہونا اور سنت کا موخر کرنا عذر شرعی کی وجہ سے ہے مگر بلا وجہ امام کا مؤخر کرنا سنت کے خلاف ہے۔
اسی سے اس سوال کا بھی جواب ہوگیا کہ نماز تو ہوجائے گی مگر امام نے برا کیا اور اگر مؤخر کرنے کی عادت کرلی ہے اور بار بار یہی کرتا ہے تو گنہ گار بھی ہوگا۔
فتاوی رضویہ میں ہے کہ
قول الامام الاجل فخر الاسلام ، ان تارک السنة الموکدۃ یستوجب الاساءۃ أی بنفس الترک و کراهة أی تحریمیة أی عند الاعتیاد " اھ
ترجمہ۔۔امام اجل فخر الاسلام نے کہا کہ سنت موکدہ کا ترک کرنے والا اساءت کا مستحق ہے یعنی نفس سنت کو ترک کرنے سے اور کراہت تحریمی کا عادت کرے " اھ
(فتاویٰ بحرالعلوم، ج۱ ص ۳۸۴،امامت کا بیان۔)
اور اسی طرح کے سوال کے جواب میں مفتی محمد وقار الدین علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
" کہ ان دونوں وقتوں ( فجر و ظہر ) کی سنتیں سنت موکدہ ہیں ۔ ان کو قصداً ترک کرنا گناہ ہے۔،
لہذا امام مقتدیوں سے کہہ دے کہ اتنا انتظار کریں کہ میں سنتیں پڑھ لوں ، محض وقت کی پابندی کرنے کے لئے سنتیں چھوڑ کر امامت کروانا جائز نہیں " اھ
( وقار الفتاوی، ج۲ ص ۱۸۸، کتاب الصلاۃ ،امامت کا بیان)
والله تعالٰی ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔
کتبہ۔۔۔۔ محمد چاند رضا اسماعیلی، دلانگی متعلم دارالعلوم غوث اعظم مسکیڈیہ جھارکھنڈ۔
۱۴/ربیع الاول ۱۴۴۲ ہجری۔
Comments
Post a Comment