گستاخ رسول کی بس ایک سزا🌹_* *_🌹 سر تن سے جدا سر تن سے جدا🌹_*
*_🌹 گستاخ رسول کی بس ایک سزا🌹_*
*_🌹 سر تن سے جدا سر تن سے جدا🌹_*
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
تمام مفتیان کرام و علماءے کرام کی خدمت میں سوال عرض ہے کہ گستاخ رسول کی کیا سزا ہے؟
اور امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا کیا موقف تھا؟ حوالہ کے ساتھ جامع گفتگو فرمائیں۔جزاک اللہ
*_🌹سائل: فیروز رضوی پاکستان🌹_*
🌁🌁🌁🌁🌁🌁🌁🌁🌁🌁🌁
*_""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""_*
*_💙 وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ💙_*
*_✒الجواب بعون الملک الوہاب_________*
*_گستاخِ رسول کی بس ایک سزا_*
*_سر تن سے جدا سر تن سے جدا_*
گستاخِ رسول کافر و مرتد ہے
[📖 جیسا کہ کتب فتاوی سے ثابت امام مذہبِ حنفی سیدنا قاضی ابو یوسف رضی اللہ عنہ کتاب الخراج میں فرماتے ہیں کہ👇🏻
*انما رجل مسلم سبّ رسول اللہ ﷺ او کذبہ او عابہ او نقصہ فقد کفر باللہ تعالی بانت منہ امرأتہ*
جو شخص مسلمان ہو کر رسول اللہ ﷺ کو وشنام دے یا حضور کی طرف جھوٹ کی نسبت کرے یا حضور کو کسی طرح کا عیب لگاٸے یا کسی وجہ سے حضور کی شان گھٹاٸے وہ یقینا کافر اور خدا کا منکر ہو گیا اسکی بیوی اسکے نکاح سے نکل گٸی
📚👈اور شفا شریف' بزازیہ' فتاوی خیریہ وغیرہا میں ہیکہ👇🏻
*اجمع المسلمون ان شاتمہ ﷺ کافر من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر*
تمام مسلمانوں کا اجماع ہیکہ حضور اقدس ﷺ کی شان میں گستاخی کرے وہ کافر ہے اور جو شخص اسکے عذاب و کافر ہونے میں شک و شبہ کرے وہ بھی کافر ہے*
*(📚 ماخوذ فتاوی فیض الرسول جلد اول ص ٧٢ )*
*کسی شخص سے گستاخی ثابت ہوجاٸے تو وہ مرتد ہے اور مرتد کا خون مباح الدم ہوجاتا ہے اور قرآن و سنت و تاریخ اسلامی میں یہ بات عیاں ہیکہ مباح الدم کے ماوراٸے عدالت قتل کے باعث قاتل پر نہ قصاص ہے نہ دیت بلکہ اللہ و رسول کے فیصلوں کے مطابق مقتول کا خون راٸیگاچلا جاتا ہے اس پر بےشمار دلائل ہیں کہ گستاخ رسول کی سزا موت ہے اور یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی ثابت ہے جیسا کہ*
*حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بشیر نامی منافق کو قتل کیا جب بشیر منافق کر قرابتدار و ورثا ٕ بارگاہ رسالت ﷺ میں مقتول کے خون بہا کا مطالبہ کیا تو تاریخ گواہ ہیکہ بارگاہ مصطفی ﷺ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ پر نہ قصاص نہ دیت کا حکم دیا گیا بلکہ انعام کی طور پر *الفاروق* کے خطاب سے نوازا گیا*
*اور صحابہ کرام نے تو گستاخی رسول کے بنا پر اپنے رشتہ داروں کو بھی قتل کیا جیسا کہ*
*حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے اپنے سگے بھاٸی عبداللہ بن عمیر کو قتل کیا*
*حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ جو عشرٸے مبشرہ میں ہیں انہوں نے اپنے والد جراح کو قتل کیا*
*ایسے بےشمار واقعات کتب تاریخ کے اوراق پر پھیلی ہوٸی ہیں*
*البتہ اٸمہ اربع کے نزدیک بھی گستاخ رسول کی سزا قتل ہے لیکن صورت مسٸولہ میں مذہب احناف کے تعلق سے سوال قاٸم ہے تو مذہب احناف سے بھی اس مسٸلے کا جواب کتب فتاوی پر موجود ہیں*
*_👇🏻📚 ملاحظہ فرماٸیں 📚👇🏻_*
*(1⃣ المبسوط جلد ٦ ص ١٢١ اور ج ٤ ص ٢١٢)*
*(2⃣ قدوری شریف ص ٣٠١)*
*(3⃣ ہدایہ شریف جلد ١ ص ٦٠٠)*
*(4⃣ بداٸع الصناٸع جلد ١٦ ص ٣٤٨)*
*(5⃣ شرح کنزالدقاٸق جلد ٧ ص ٢٧٣)*
*(6⃣ فتاوی قاضی خان جلد ٥ ص ١١٨)*
*(7⃣ در مختار مع ردالمحتار جلد ١٠ ص ١٧٢)*
*(8⃣ جامع الرموز جلد ٢ ص ٥٨٣)*
*👆مذکورہ کتب میں صراحتا ایک ہی بات کی وضاحت کرتی ہیکہ مومن مرتد کو قتل کر ڈالا تو قصاص واجب نہیں*
( قتل کا حکم ہے تب تو قاتل پر قصاص واجب نہیں کا حکم ہے )
*البتہ مرتد پر اسلام پیش کرنے سے پہلے قتل کرنا ترک مستحب ہے لیکن قاتل پر نہ قصاص نہ دیت ہے کیونکہ ارتداد مرتد کے قتل کو مباح کر دیتا ہے*
*_( نوٹ)_ مگر خیال رہے کے ہم ہندوستان میں رہتے ہیں اور ھندوستان میں اس قانون کا نفاذ نہیں چونکہ حاکم اسلام موجود نہیں ۔ قاتل کو ہی نہیں بلکہ مظلوم بھی حوادث کے شکار ھوجائیں گے عدالت سزا دینے کا استحقاق رکھتا ھے عوام پر قتل کرنا واجب نہیں اگر کردے تو یہاں اس کو سزا دیجائے گی اور ھم اس قانون کے تحفظ سے محروم ہی رہ جائیں گے ۔*
*_گستاخ رسول کی بس ایک سزا_*
*_سر تن سے جدا سر تن سے جدا_*
*_🌹واللہ تعالی اعلم🌹_*
🌁🌁🌁🌁🌁🌁🌁🌁🌁🌁🌁
*""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""*
*_✍از قلم:___________________*
*حضرت علامہ و مولانا جابرالقادری رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی_*
*خطیب و امام: مسجد نور جاجپور اڑیسہ_*
*☎رابطہ نمبر ________8369465176*
*🗓مورخہ؛٢٢شوال١٤٤٠ھ بدھ 26/6/2019*
*_🔹سنی رضوی فقہی گروپ🔹_*
*📱9844687869 ___ 8651378657📲*
🌁🌁🌁🌁🌁🌁🌁🌁🌁🌁🌁
*_"""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""_*
*۔_________🌹💧🌹_________۔*
*_💻 المشتہر؛ محبوب رضا صمدانی پٹنہ،بہار_*
*۔_________🌹💧🌹_________۔*
🌁🌁🌁🌁🌁🌁🌁🌁🌁🌁🌁
*_"""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""_*
Comments
Post a Comment