لبسٹک لگانا عورتوں کو کیسا ھے
*السلام عليكم ورحمةالله وبرکاتہ*
*امید ہے آپ لوگ خیریت سے ہونگے*
*سوال*
*جو عورتیں 💄لپسٹک اور کریم استعمال کرتیں ہیں صرف اپنے شوہر کے لیے ہو اسے لگانا جائز ہے یا نہیں کس طرح پتہ لگایا جائے کہ یہ جائز ہے اور یہ ناجائز؟*
*یاکریم اور لپسٹک کس کمپنی کا لگانا جائز ہے*
*📜جواب عنائت فرمائیں مہربانی ہوگی*
*🖌️السائل برکت علی قادری*
*🌀___________💙🌀💙___________🌀*
*🔷""'''"""""""""""""""""""🔷*
*🕋بسم اللہ الرحمن الرحیم🕋*
*⛺وعليكم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ⛺*
*✍️الجواب، اللم اجعل لی النور والصواب*👇
*📌ہونٹوں پر لالی(لیپ اسٹیک)لگانا ناجائزوحرام ہے،کہ بعض ذرائع سے معلوم ہواہےکہ اس میں خنزیر کی چربی رہتی ہے جوحرام قطعی ہے اور ناخن پر نیل پالش بھی لگانا ناجائز وحرام ہے کہ اس میں اسپرٹ شامل رہتی ہے اور اسپرٹ خالص شراب ہے جس کی بھی حرمت ظاہر ہے کیونکہ ناخن پالش میں جِرم ہوتاہے جس جگہ اعضاےوضومیں ناخن پالش لگی رہ گئی ہوتو وہ جگہ وضومیں دھلنے سے رہ جاےگی اور وضونہ ہوگا اور نماز بھی نہ ہوگی،،،*
*📃اسی نوعیت کے ایک سوال کے جواب میں علامہ عبدالواحد رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں👇*
*"لیپ اسٹیک اور ناخن پالش (Lip.stick.And.Nagellcke) جن میں حرام اور ناپاک اشیاء کی آمیزش ہو ان کا استعمال مسلمہ عورتوں کے لئے حرام ہے اور ان کے لگے رہنے کی صورت میں نہ وضو صحیح ہو نہ غسل اور نہ ہی نماز،،*
*👈ہاں اگر لیپ اسٹیک اور نیل پالش کے ساتھ ان کا فارمولہ بھی موجود ہوجس سے ظن غالب (ملحق بہ یقین ) ہوکہ اس میں کوئی ناپاک اور حرام اشیاء کی ملاوٹ نہیں ہے تو اس کا استعمال عورتوں کے لئے جائز ہے کہ وہ سامان زینت ہے اورعورتوں کی زینت رواہے،،*
*پھر اگر لیپ اسٹیک اور ناخن پالش کا جِرم (جسم )پانی کے بہاؤ کو نہ روکے اور وہ لبوں اور ناخن پر موجود ہو تو وہ عورتوں کے لئے مانع وضو وغسل نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ لیپ اسٹیک اور ناخن پالش کا حکم وہی ہے جومہندی اور مہندی کے جرم کا ہے،،*
*📜جیسا کہ سرکار اعلحضرت امام اہل سنت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے تعلیقات شامی سرمہ کے جرم کو مہندی کے جِرم کی طرح بدلالۃ النص ثابت فرمایاہے،،*
*📚بحوالہ فتاوی یورپ،کتاب الطھارۃ،صفحہ۱۰۷/۱۰۸*
*📑"درمختار"میں ہے👇*
*"لایمنع الطھارۃ خرءذباب وبرغوث لم یصل الماءتحت وحناء ولوجرمہ بہ یفتی"اھ*
*📘جلد اول،کتاب الطھارۃ،باب الفرائض الغسل،صفحہ ۱۵۴،،،*
*👈البتہ بعض علماءمحققین کے نزدیک ناخن پالش پینٹ کی طرح ہے جس میں سرایت ونفوس کی صلاحیت نہیں ہے لہذا وہ وضو وغسل کے عدم صحت کا حکم دیتے ہیں اور یہ پر ظاہر کہ اختلاف علماء سے بچنا اولی ہے پس احتیاط اسی میں ہے کہ ایسی چیزوں کا استعمال ہی نہ کیا جاے کہ آدمی دغدغہ میں مبتلاہو،،*
*📚بحوالہ فتاوی یورپ،کتاب الطھارۃ،صفحہ۱۰۷/۱۰۸*
*🌀___________💙🌀💙___________🌀*
*🔷""'''"""""""""""""""""""🔷*
*🕋واللہ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم🕋*
*🔷""'''"""""""""""""""""""🔷*
*(((((((✍️شرف قلم )))))))))👇*
*عبدہ العاصی الفقیر محمدامتیازعالم رضوی مجاہدی عفی عنہ بحمدہ المصطفی ﷺ*
*مقیم حال شہرنشاط بھاگلپور بہار(الہند)*
*🗓️۲۶/ماہ ربیع النور شریف۱۴۴۲ھ بمطابق ۱۴/نومبر/ ۲۰۲۰ء*
*📲موبائل نمبر👈8777891405*
*🧩🧩🧩🧩🧩🧩🧩🧩🧩🧩🧩🧩*
Comments
Post a Comment