عید گاہ کی زمین کو کراے پر دینا کیسا ھے
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
حضرت میرا سوال علماء کرام کی بارگاہ میں یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے مل کر ایک زمین خرید ی عیدگاہ کے لیے اب اس میں عید کی نماز پڑھتے ہیں پھر وہ زمین ایک سال پڑی رہتی ہے تو کچھ لوگ اس میں اپنا کام کرتے ہیں جیسا ک چھالی کا کام کرتے ہیں یعنی چھالی کاٹتے ہیں سکھاتے ہیں پھر بھیجتے ہیں کیا یہ کام شرعا جائز ہے
( 2 ) اور جن لوگوں نے زمین لی تھی ایسا دیکھ کر ان لوگوں نے یہ سوچا کہ زمین کو کرایہ پر دیاجائے گا کہ جو آمدنی ہو اس سے عید گاہ کا کام کیا جائے کیا یہ زمین کرایہ پر دینا جائز ہوگا ؟ اور وہ پیسہ عیدگاہ میں لگانا صحیح ہوگا
اس کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں
سائل ادریس احمد رضوی کشمیر سے
: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ
الجواب
بلاشبہ عیدگاہ مسجد کے حکم میں ہے لہذا جس طرح مسجد کی حرمت و وقعت کا لحاظ ضروری ہے اسی طرح عیدگاہ کا بھی, جبکہ وہ شہر میں ہو واقع ہو, اور اگر گاؤں دیہات میں ہے تو مسجد کے حکم میں نہیں اور اس عیدگاہ کا وقف بھی صحیح نہیں واقف اس پر جو چاہے کرے, رہی بات کرایہ پر دینے کی اگر وہ شہر میں ہے تو وقف کے وقت ہی اگر الگ کر دیا تو کرایہ پر دے سکتا ہے اور اگر پہلے دکان وغیرہ نہیں نکالا تو اب کرایہ پر نہیں دے سکتا, اس کی تفصیل درجہ ذیل مذکور ہیں,
جیسا کہ میرے امام اہلسنت فقیہ باکمال امام احمد رضا خان قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:
عیدگاہ ایك زمین ہے کہ مسلمانوں نے نمازِ عید کے لئے خاص کی، امام تاج الشریعۃ نے فرمایا صحیح یہ ہے کہ وہ مسجد ہے اس پر تمام احکام احکام مسجد ہیں نہایہ میں اگر چہ مختار للفتوٰی یہ رکھا کہ وہ عین مسجد نہیں، مگر اس کے یہ معنی نہیں ہوسکتے کہ اس کی تنظیف وتطہیر ضروری نہیں ، غیر وقت نماز و خطبہ میں اس میں خرید وفروخت قولِ اول پر مطلقًا حرام ہے اور خرید فروخت کے لئے اس متعین کرنا بالاتفاق حرام ہے۔
اذ لا یجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ فضلا عن ضیعتہ کما فی الھندیۃ وغیرھا
وقف کی ہیئت وحالت میں تبدیلی جائز نہیں چہ جائیکہ اسے ضائع کرنا جائز ہو ہندیہ وغیرہ ۔ (ت)
اور یوں کہ اتفاقًا غیر وقت نماز خطبہ میں ایك کے پاس کوئی شے ہو وہ دوسرے کے ہاتھ بیع کرے، قول دوم پر اس میں حرج نہیں، وقت نماز یا خطبہ میں خوانچہ والوں کا گشت بلا شبہ ممنوع و واجب الانسداد ہے کہ مخل استماع وناقض ہے اور ان کے غیر اوقات میں وہی اختلاف قولین، یونہی کفار کی آمد و رفت خصوصًا جوتا پہنے کہ یہ نجاست سے خالی نہیں ہوتے نہ وہ جنابت سے کما حققہ فی الحلیۃ و بیناہ فی فتاوٰنا ( جیساکہ اس کی تحقیق حلیہ میں ہے اور ہم نے اپنے فتاوی میں اسے تفصیلًا بیان کیا ہے ۔ت) درمختار میں ہے:
اماالمتخذ لصلٰوۃ جنازۃ اوعید فھو مسجد فی حق جوا زالاقتداء وان انفصل الصفوف رفقا بالناس لا فی حق غیرہ بہ یفتی نھایۃ
لوگوں کی سہولت کی وجہ سے عیدگاہ او رجنازہ گاہ جواز اقتداء کے حق میں مسجد ہے اگر چہ صفیں متصل نہ ہوں، ہا ں اس کے علاوہ میں یہ حکم نہیں، اسی پر فتوٰی ہے ۔ نہایہ ۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قال فی البحر ظاھرہ انہ یجوز الوطئ والبول والتخلی فیہ ولا یخفی مافیہ فان البانی لم یعدہ لذلك فینبغی ان لایجوز وان حکمنا بکونہ غیر مسجد وانما تظھر فائدتہ فی حق بقیۃ الاحکام و حل دخولہ للجنب والحائض انتھی
بحر میں ظاہر عبارت بتا رہی ہے کہ وطی اور بول وبراز جائز ہے لیکن یہ واضح رہنا چاہئے کہ بانی نے اس کے لئے نہیں بنائی لہذایہ جائز نہیں ہونا چاہیے اگر چہ ہم اسے مسجد کا حکم نہیں دیتے اس کا فائدہ بقیہ احکام میں ظاہر ہوتا ہے اور اس میں جنبی اور حائضہ کے دخول کا جواز بھی انتہی (ت) اسی میں ہے:
صحح تاج الشریعۃ ان مصلی العید لہ حکم المساجد
تاج الشریعۃ نے عید گاہ کے لئے مسجدکے حکم کی تصحیح کی ہے ۔
فتاویٰ رضویہ شریف جدید جلد (۸) ص (٦۰۸) مکتبہ دعوت اسلامی
واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم و علمه جل مجدة أتم و أحكم
محمد راشد مکی گرام ملک پور ضلع کٹیہار بہار ہند
Comments
Post a Comment