عليہ السلام کا لفظ غیر انبیاء کیلئے بولنا کیسا ہے ؟؟❣

 *❣عليہ السلام کا لفظ غیر انبیاء کیلئے بولنا کیسا ہے ؟؟❣*


السلام عليكم


بعض حضرات اہل بیت اکرام کے لئے علیہ السلام کا لفظ استعمال کرتے ہیں کیا یہ درست ہے؟

علیہ السلام کا مطلب کیا ہے؟


کچھ لوگوں نے اسے جائز کہا ہے تو کس بنا پر کہا ہے؟


تسلی بخش جواب عنایت کریں



*❣محمد ہاشمی قادری❣*

ا__________💠⚜💠____________

*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ* 


*📝الجواب اللھم بعون الملک الوہاب ⇩* 

علیہ السلام کا لفظ غیر نبی پر بو لا جائے یا نہیں تصریحات علماء  میں دونوں طرح کی روایتں ملتی ہیں


📄چنانچہ قاضی عیاض مالکی فر ماتے ہیں

*" كذالك يجب تخصيص النبى صلى الله عليه وسلم وسائرالأنبياء بالصلاة والسلام "*

*( 📗شرح شفا للقاضی ٢/١٤٧ )*


👌🏻اس سے پتہ چلا کہ الصلوۃ والسلام صرف انبیاء کے ساتھ خاص ہے دوسروں کے لئے اس کا استعمال ممنوع ہے 

لیکن 

ملا علی قاری شرح فقہ اکبر میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل فر ماتے ہیں  

*" وفى الخلاصة ان فى الاجناس عن ابى حنيفة رضى الله تعالى عنه لا يصلى على غير الأنبياء والملائكة ومن صلى على غير هما لا على وجه التبعية فهى غال من الشيعة التى نسميها الروافض انتهى مفهومه ان حكم السلام ليس كذالك ولعل وجهه ان السلام تحيةاهل السلام لا فرق بين السلام عليه وعليه السلام "*

اس عبارت کا مفہوم  یہ ہوا کہ غیر انبیاء کو علیہ السلام کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے   پس جن لوگوں کے نزدیک علیہ السلام کا اطلاق غیر نبی پر منع ہے تو سبھی حضرات کیلئے منع ہوگا چاہئے وہ حسنین کریمین شیخین طیبین سبھی کیلئے منع ہوگا اور جن آئمہ کے نزدیک سلام کی خصوصیت نہیں  ان کے یہاں سب کیلئے جائز قرار دیں گے 


علامہ شامی نے علیہ السلام کہنے سے منع فر مایا ہے

*( 📓شامی جلد خامس ص ٤٩٦ )*

لیکن شاہ عبد العزیز  محدث دہلوی نے اس کو شعار روافض ہونے میں کلام کیا ہے انھوں نے خود تحفئہ اثنا عشریہ میں جگہ جگہ اہل بیت کو علیہ السلام  لکھا ہے 

اسی کسی نے ان سے استفسار  کیا تو جواب ارشاد فر ماتے ہیں سلام کا لفظ غیر انبیاء کی شان میں کہ سکتے ہیں اہل سنت کے کتب قدیمہ اور ابو داود صحیح بخاری میں حضرت علی حسنین فاطمہ خدیجہ اور حضرت عباس کے ذکر میں لفظ علیہ السلام  ہے 


📜اصول الشاشی  میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کیلئے و السلام علی ابی حنیفتہ و احبابہ   

فتاوی عزیز یہ/۱/۱۶۵ 

ان تمام تفضیلات کی روشنی میں معلوم یہ ہوتا ہے کہ حکم یہی ہے کہ غیر نبی کو خواہ اہل سنت ہی کیوں نہ ہو علیہ السلام نہ کہا جائے اس لئے کہ شامی میں ہے 

*" اما السلام فنقل اللقانى فى شرح جواهر التوحيد عن الا الجوينى انه فى معنى الصلاة يستعمل فى غائب ولا غير الأنبياء فلا يقال عليه السلام "*

لیکن یہ حکم اتنا سخت نہیں ہے کیونکہ خود اس کے اطلاق کے حکم میں اختلاف ہے 

امام نودی نے مکروہ تنزیہی بتایا ہے


📜شرح اشباہ میں مکروہ تحریمی ہے اور خود ہمارے احناف مثلا شامی اور ملا علی قاری کے اشاروں سے خلاف اولی کی جانب اشارہ ملتا ہے اس لئے اس قسم کے مسائل میں شدت نہ برتنا چاہئے


*(📚فتاوی بحر العلوم جلد پنجم ۳۱۱ )*


*🌹واللہ اعلم بالصواب،🌹*

ا__________💠⚜💠____________

*✍🏻شرف قلم حضرت علامہ مفتی محمد رضا امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی دارالعلوم چشتیہ رضویہ کشن گڑھ اجمیر شریف مقام ہر پوروا باجپٹی سیتامڑھی بہار*

*🗓(٩ محرم الحرام ١۴۴١ ہجری) ۹ ستمبر بروز سوموار ۲۰۱۹ عیسوی*

*رابطہ* https://wa.me/+919470258177

ا___________💠⚜💠__________

*🔸فخر ازھر گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917542079555

https://wa.me/+917800878771

ا___________💠⚜💠__________

*المشتـــہر؛*

*منتظمین فـــخـــر ازھـــر گــروپ*

*محمدایوب خان یارعلوی بہرائچ*

ا__________💠⚜💠___________

الجواب صحیح مفتی محمد احمد

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟