کیا سنی وہابی کے بچہ کو لڑکی یا لڑکے کو کافر کہ سکتا ھے یا نہج

 السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ تعالیٰ برکاتہ۔             میں محمد شوکت رضا قادری۔    کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیانِ کرام مسئلے ذیل کے بارے میں کیا اہل سنت والجماعت مسلک اعلیٰ حضرت کہ مانے والے وہابی نجدی کے لڑکے یا لڑکی کو کافر کہہ سکتے ہیں  یا نہیں برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں مع حوالہ کے ساتھ     فقط سلام


 

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ : بچہ جب تک بالغ نہ ہو اپنے والدین کے تابع ہے کہ یہ تبعیت بالغ ہونے یا خود اسلام لانے سے ہی ختم ہوگی۔ صحیح بخاری شریف میں ہے :عن ابي هريرة رضي الله عنه , قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" كل مولود يولد على الفطرة، فابواه يهودانه او ينصرانه او يمجسانه . ( کتاب الجنائز، باب ماقیل فی اولاد المشرکین ) 

فتاویٰ رضویہ میں ہے : وفی نکاحهٖ عن احکام الصغار للاستروشنی انه قبل البلوغ تبع لابویه فی الدین مالم یصف الاسلام اھ قال : فافادان التبعیة لا تنقطع الا بالبلوغ أو  بالاسلام بنفسه وبه صرح فی البحر(عہ) والمنح من باب الجنائزاھ۔ردالمحتارکتاب النکاح میں احکام الصغار للاستروشنٰی سے نقل ہے : بچہ قبل بلوغ دین میں اپنے والدین کا تابع ہے جب کہ خود مسلمان نہ ہوا ہو، شامی نہ کہا : افادہ فرمایا کہ یہ تبیعت بالغ ہونے یا خود اسلام لانے ہی سے ختم ہوتی ہے ، اسی کی تصریح بحر الرائق اورمنح الغفار باب الجنائز میں بھی ہے۔ صرف چند برس جو روز پیدائش سے بالکل ناسمجھی کے ہوتے ہیں جن میں بچہ نہ کچھ ادراک رکھتاہے ، نہ سمجھ سکتاہے ۔ ظاہر ہے کہ اس عمر میں حقیقۃً تو کوئی بچہ کافر نہیں کہا جاسکتا کہ صدق مشتق قیام مبدء کو مستلزم ۔ کفر تکذیب ہے ، اورتکذیب بے ادراک وتمیز نامتصور(عہ) بلکہ اس وقت تک ہر بچے کا دین فطری اسلام ہے. ہاں جس کے والدین کافر ہوں اس پر ان کی تبعیت کا حکم کیا جاتا ہے جبکہ تبعیت متصور بھی ہو ورنہ نہیں، جیسے وہ بچہ جسے دار الاسلام میں اسیر کر لائیں اور اس کے کافر ماں باپ دار الحرب میں رہیں ، کہ بوجہ اختلافِ دار تبعیت ابوین منقطع ہوگئی،اب بہ تبیعت دار اسے مسلم کہاجائیگا۔ردالمحتارکتاب النکاح باب نکاح الکافر میں ہے:  یظھر لی الحکم بالاسلام للحدیث الصحیح کل مولود یولد علی الفطرۃ حتی یکون ابواہ ھما اللذان یھودانه اوینصرانه ، فانھم قالوا انه صلی اللہ تعالى علیہ وسلم جعل اتفاقھما ناقلاله عن الفطرۃ فاذا لم یتفقا بقی علی اصل الفطرۃ، و ایضاًحیث نظروا للجزئیة فی تلک السائل احتیاطا فلینظر الیها ھنا احتیاطا ایضا، فان الاحتیاط بالدین اولي ولان الکفر اقبح القبیح فلاینبغی الحکم به على شخص بدون امر صریح ۔اھ ملخصا۔ ( جلد 28 صحفہ 438/435)۔واللہ تعالیٰ اعلم۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد مظہر حسین سعدی رضوی خادم شمس العلماء دار الافتاء والقضاء، جامعہ اسلامیہ میرا روڈ ممبئی،ساکن نل باری سوناپور اتردینا جپور ویسٹ بنگال الہند۔

2/ ربیع الاخر 1442ھ

18/ نومبر 2020ء

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟