امامت کاحقدارکون ہےکون شخص امامت کرسکتاہے
السلام وعلیکم ورحمت اللہ وبرکاۃ بعدسلام گزارش ہےکی امامت کاحقدارکون ہےکون شخص امامت کرسکتاہےجوعالم قرآن کوترتیل کےساتھ نہ پڑھ پاتاہوکیاوہ امامت کرسکتاہےمدلل جواب عنایت فرمائیں سائل علاؤالدین رضا
: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ
الجواب
امامت میں بعد اس کے دو٢ شخص جامع شرائط ِامامت سُنّی العقیدہ غیرفاسق مجاہر ہوں، قرآن عظیم صحیح پڑھتے حروف مخارج سے بقدر تمایزادا کرتے ہوں،سب سے مقدم وہ ہے کہ نماز و طہارت کے مسائل کا علم زیادہ رکھتا ہو پھر اگر اس علم میں دونوں برابر ہوں تو جس کی قرأت اچھی ہو ،پھر جو زیادہ پرہیزگار ہو شبہات سے زیادہ بچتا ہو ،پھر جو عمر میں بڑا ہو ،پھر جو خوش خلق ہو، پھر جو تہجد کا زیادہ پابند ہو،یہاں تك شرف نسب کا لحاظ نہیں ۔جب ان باتوں میں برابر ہوں تو اب شرافت نسب سے ترجیح ہے۔
فی التنویر والدراَلْاَحَقُّ بالامامۃ الاعلم باحکام الصلٰوۃ بشرط اجتنابہ للفواحش الظاہرۃ ثم الاحسن تجویدا ثم الاورع ثم الاسن ثم الاحسن خلقابالضم الفۃ بالناس ثم اکثرھم تھجدا ثم الاشرف نسبا[1]اھ مختصرا۔
تنویر اوردرمختار میں ہے امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو احکامِ نماز سے زیادہ آگاہ ہو بشرطیکہ وہ فحش گناہوں سے اجتناب کرنے والا ہو ،اس کے بعد جو قرأت و تلاوت کی تجوید میں زیادہ اچھاہو، پھر صاحبِ تقوٰی ،پھر عمر میں بڑا، پھر جو اخلاق میں سب سے اچھاہو ،شارح نے کہا خُلق ضمہ خاء کے ساتھ لوگوں سے ملنساری کو کہتے ہیں ۔پھر زیادہ تہجد گزار ،پھر خاندانی شرف والا اھ اختصارًا(ت)
فتاویٰ رضویہ شریف جدید جلد (٦) ص (٥۰١) مکتبہ دعوت اسلامی
واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم و علمه جل مجدة أتم و أحكم
محمد راشد مکی گرام ملک پور ضلع کٹیہار بہار ہند
Comments
Post a Comment