خود کشی کرنے والوں کے لئے کیا سزا ہے؟

 *🔸خود کشی کرنے والوں کے لئے کیا سزا ہے؟🔸*


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیافرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو یہ کہتے ہیں کہ انسان جس حالت میں دنیا سے جاتا ہے اسی حالت میں اٹھایا جائے گا جو خودکشی کرکے جائےگا اسکی بدقسمتی کہ وہ قیامت تک یونہی خودکشی کرتا ہی رہےگا؟کیا یہ صحیح ہے برائے مہربانی صحیح قول کیا ہے بیان فرمائیں


*سائل عبدالمنان رضا*

اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ

*وعلیکم السلام ورحمةاللّٰه وبرکاته*


*الجواب* جی یہ بالکل صحیح ہے 

قال اللہ تعالیٰ فی القرآن الکریم؛  *ولَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ*

"اور اپنی جانوں کو قتل نہ کرو"

*(📕سورۃ النساء آیت ۲۹)*


خود کو ہلاک کرنے کی مختلف صورتیں ہیں جن میں ایک صورت "خود کشی" کرنا ہے، خود کشی حرام ہے ۔

حدیث شریف میں ہے: حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، سرکارِ دو عالم       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے اپنا گلا گھونٹا تو وہ جہنم کی آگ میں اپنا گلا گھونٹتا رہے گا اور جس نے خود کو نیزہ مارا وہ جہنم کی آگ میں خود کو نیزہ مارتا رہے گا۔

*(📘بحوالہ ؛ بخاری، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی قاتل النفس،۴ ۴۶۰، الحدیث:۱۳۶۵/حوالہ ؛صراط الجنان،مطبوعہ مکتبہ مدینہ)*

ان ہی سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جوپہاڑ سے گر کر خود کشی کرے گا وہ نارِ دوزخ میں ہمیشہ گرتا رہے گا اور جو شخص زہر کھا کر خود کشی کرے گا وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ زہر کھاتا رہے گا۔ جس نے لوہے کے ہتھیار سے خود کشی کی تو دوزخ کی آگ میں وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ اس سے اپنے آپ کو ہمیشہ زخمی کرتا رہے گا ۔

*(📒بحوالہ ؛ بخاری، کتاب الطب، باب شرب السمّ والدواء بہ۔۔۔الخ،    ۴ / ۴۳، الحدیث:۵۷۷۸/ حوالہ المرجع السابق)*


خودکشی کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ فعل حرام ہے۔ اِس کا مرتکب اللہ تعالیٰ کا نافرمان اور جہنمی ہے درحقیقت انسان کا اپنا جسم اور زندگی اس کی ذاتی ملکیت اور کسبی نہیں بلکہ ﷲ عزوجل کی عطا کردہ امانت ہیں۔ زندگی اللہ تعالیٰ کی ایسی عظیم نعمت ہے جو بقیہ تمام نعمتوں کے لیے اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے جسم و جاں کے تحفظ کا حکم دیتے ہوئے تمام افرادِ معاشرہ کو اس امر کا پابند بنایا ہے کہ وہ بہر صورت زندگی کی حفاظت کریں۔ اسلام نے ان اسباب اور موانعات کے تدارک پر مبنی تعلیمات بھی اسی لیے دی ہیں تاکہ انسانی زندگی پوری حفاظت و توانائی کے ساتھ کارخانۂ قدرت کے لیے کار آمد رہے۔ یہی وجہ ہے اسلام نے خودکشی (suicide) کو حرام قرار دیا ہے۔ اسلام کسی انسان کو خود اپنی جان تلف کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔



*🔸واللّٰه تعالیٰ اعلم 🔸*

اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ

*✍🏻کتبــــــــــــــــــــــــــــــہ*

*ابو حنیفہ محمد اکبر اشرفی رضوی مانخورد ممبئی*

*۱۲ صفرالمظفر ٢۴۴۱؁ھ بروز بدھ*

*رابطہ* https://wa.me/+919167698708

اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ

*✅الجواب صحیح و المجیب نجیح حضرت علامہ فداء المصطفیٰ صمدی انفاسی  صاحب قبلہ*

اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ

*🔸فخر ازھر گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917542079555

https://wa.me/+917800878771

اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ

*المشتـــہر؛*

*منجانب منتظمین فــخــر ازھـــر گــروپ*

اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟