اذان کو غلط پڑھنے پر کیا حکم ھے
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ ے بارے میں کہ کوئی شخص بھیاذان صحیح نہیں پڑھتا تلفظ میں غلطی ہوتی ہے تو کیا اس اذان کا لوٹنا ہوگا یا نہیں برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں؟
سائل محمد شہباز حنفی,
*( یہ سوال مجلس شوری گروپ کا ہے )*
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ
الجواب،
*صورت مسئولہ میں آذان کو لوٹانا ہوگا غور کرنے پر یہ واضح ہوتا ہے کہ *مؤذن سے آذان میں تیرہ قسم کی غلطیاں ہوسکتی ہیں،* وہ اس طرح ہے
1-- اللہ اکبر میں الف پر ' مد" کھیچنایعنی آ. اللہ اکبر کہنا یعنی الف پر مد ملاکر کھینچ کر پڑھنا اور یہ کفر ہے
2-- اللہ اکبر کو : اللہ اکبار،: پڑھنا یعنی اکبر میں : ب پر الف بڑھا دینا جس سے معنی میں فساد پیدا ہوتا ہے کہ اکبار شیطان کانام ہے یہ بھی کفر ہے
3--اللہ اکبر کو : ایلاہ اکبر : پڑھنا یہ ِگناہ کبیرہ یعنی ایلاھو اکبر پڑھنا 4-- اللہ اکبر کو : آلاہ اکبر کہنا یعنی الف پر مد، لام میں زبر مع الف اور ہ پر پیش لگانا
5-- اشھد ان لا الہ الااللہ کو اشھاد الا الہ الااللہ پڑھنا اس میں: ھ : میں الف بڑھا دینا،
6- یا پھر: اشھد ان لا الہ الو لا پڑھنا
7-- اشھد ان محمد رسول اللہ کو : اشھد انا محمد رسول اللہ پڑھنا، اس صورت میں : ان ' میں : الف ' اضافہ ہوجاتا ہے
8-- یا پھر : اشھد ان محمدر رسول اللہ یعنی : دال : کو : ر: ۔میں ملانے کے لئے : دال : پر پیش بڑھا دینا،
9-- حی علی الصلاہ کو : حیا علی الصلاۃ : پڑھنا یعنی : ی: میں الف کا بڑھ جانا اور
: صلاۃ کے آخر: میں بڑی : ح: کا پڑھنا
10- حی علی الفلاح کو حی علی الفلاہ پڑھنا یعنی، بڑی : ح: کو چھوٹی : ہ: کہنا،
11-- اسی طرح حی علی الفلا کا پڑھنا یعنی بڑی :ح: کو ہضم کرکے لام میں الف ملانا
12-* الصلاۃ خیرمن النوم کو الصلاۃ خیر من النو پڑھنا یعنی : میم : کا تلفظ نہیں نکالنا
13-- لاالہ الااللہ کو لا ایلاہ الا اللہ پڑھنا
*یہ غلطیاں ہیں جو جاہل مؤذن سے ظاہر ہوتی ہیں* کسی مؤذن سے ان میں ایک غلطی، کسی سے دو، کسی سے تین وغیرہ و غیرہ ہوتی ہیں
*علمائے کرام فرماتے ہیں کہ، مؤذن سے آذان پڑھنے میں تین قسم کی غلطیاں ہوسکتی ہیں،* ان غلطیوں سے بچنا ہر مؤذن پر واجب و لازم یعنی ضروری ہے،
*(1-)- ترجیع*
*(2-)- تلحین*
*(3-)- تنحخ*
ان میں *ترجیع اسے کہتے ہیں جو آذان کے کلمات دو دو بار کہنے کے بدلے چار چار بار کہ دے،*
یہ کام جان کر کرے یا بھول کر کرے بہر حال شرعاً منع اور آذان غلط ہوجائے گی *کہ یہ مکروہ تحریمی ہے*
2-- *تلحین یہ ہے کہ آذان یا تکبیر و اقامۃ میں ایسی طرزیں، سرین نکال کر نغمہ سرائی کرے جس سے آذان و اقامت کے الفاظ بگڑ جائیں، اسی کو لحنی غلطی کہتے ہیں*
3-- *تنخح یہ ہے کہ، مؤذن یا مکبر اپنی آذان یا تکبیر میں بلا عذر کھانسے، کھنکارے*
---- فتاوی شامی جلد اول ص 359 میں ہے کہ
"""ولا ترجیع فانہ مکروہ ولا لحن فیہ ای تغنی بغیر کلماتہ فانہ لا یحل فعلہ ای بزیارۃ حزکۃ اوحرف او مد و غیرھا فی الاوائل والاواخر"""
*یعنی اور ناجائز ہے آذان میں ترجیع کیونکہ ترجیع مکروہ تحریمی ہے اور آذان میں لحن یعنی نغمہ سرائی بھی ناجائز ہے یعنی آذان کے کلمات اور لفظوں کو بگاڑ کر ادا کرنا، کیونکہ حرام ہے یہ کام آذان میں کہ زیر زبر کہ زیادتی ہوجائے یا حرفوں کی مد، وغیرہ کی زیادتی یا کمی ہوجائے لفظوں کے شروع میں یا آخر میں،*
2- اور فتاوی عالم گیری میں ہے والمد فی اول التکبیر کفر، و فی آخرہ خطاء فاحش،و یکرہ التلحین وھوا لتغنی بحیث یؤدی الی تغیر کلماتہ کذا فی شرح المجمع لابن المالک وتحسین الصوات للآذان حسن مالم یکن لحنا *یعنی اور تکبیر یعنی - اللہ اکبر، کے اول میں مد لگانا کفر ہے*(اس لئے منع ہے کہ اللہ کے الف پر مد لگانے سے یہ فقرہ سوال انکاری کا بن جائے گا اور اس کا ترجمہ ہوگا : کیا اللہ سب سے بڑا ہے ؟
اور یہ کہنا کفر ہے کیونکہ اس میں شک و شبہ پایا جاتا ہے
*اور آخر میں : مد: لگا نا یہ تو بہت بڑی غلطی ہے جو گناہ کبیرہ ہے آذان میں تلحین کرنا اور تلحین کا معنی یہ ہے اس طرح نغمہ سرائی کرنا کہ آذان کے الفاظ متغیر ہوجائیں یعنی بگڑ جائیں،*
ابن مالک کی شرح مجمع میں بھی یہ مسئلہ ایسا ہی لکھا ہے خیال رہے کہ آذان میں صحیح تلفظ کے ساتھ اچھی آواز میں آذان دینا جائز ہے مگر وہ لحن جس سے الفاظ بگڑ جائیں اورمعنی میں فساد پیدا ہوجائیں وہ منع ہے
*آذان پڑھنے والے مؤذن چار طرح کے گناہ میں مبتلا ہوتے ہیں،* جو قابل افسوس ناک بات ہے
*1-- پہلا. گناہ کہ اس نے آذان کے کلمات کو کسی سے سیکھا نہیں، یعنی علم نہیں حاصل کرنے کا*
*2---- دوسرا اس کی اپنی غلطی کا کہ آذان غلط دیا*
*3-- گناہ خیانت کا کہ آذان کے جو کلمات بطور امانت الہی ہے یعنی شعار اللہ ہے اس کا ادب ہم پر واجب و لازم ہے اس کے الفاظ بدلنے، زبر، زیر، پیش کو غلط کہنے کا گناہ کہ امانت میں خیانت کیا*
*4-- چوتھا گناہ سننے والے کی غلط ادائیگی کا، وہ مؤذن غلط آذان دیا جس کو سننا شرعا منع ہے مگر لوگوں نے سنا تو سب کا گناہ اس مؤذن کے سر پر جائے گا*
اس ضمن میں مفتی اسلام مفتی اقتدار احمد خان نعیمی ابن حضور حکیم الامت مفسر قرآن مفتی احمد یار خان نعیمی قدس سرہ نے لکھا کہ : ایک بزرگ نے فرمایا کہ *میرا تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر غلط آذان پڑھتا ہو اس کی زندگی میں غربت و ذلت ملتی ہے اور مرتے وقت چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے یہ ظاہری سزا ہے،* قبر و حشر میں نہ جانے کیا سزا ملے، العیاذ باللہ تعالیٰ( فتاوی نعیمیہ جلد چہارم ص 518)
*مؤذن کیسا ہو*
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مؤذن کے بارے میں ارشاد فرمایا، و یؤذن لکم خیارکم و خیارھم من کان عالما باحکام شرع *یعنی تمہارے لیے وہ شخص آذان دیا کرے جو تم میں سب سے زیادہ اعلی افضل بہتر ہو*( اس حدیث کو ابؤداؤد نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے روایت فرمایا، ) اور اس *حدیث کے تحت علماء نے فرمایا کہ مؤذن عالم با عمل ہو، متقی بھی ہو، کیونکہ حدیث کے الفاظ : خیارکم : یعنی تم میں سب سے بہتر ہو اور یہ روشن ہے کہ عالم عامل سے بہتر کون ہوسکتا ہے* اور عالم بھی وہ جس کی *الفاظ کی ادائیگی درست ہو،* اسی لئے فتاوی عالم گیری میں ہے، و ینبغی ان یکون المؤذن رجلا عاقلا صالحا تقیا عالما بالسنۃ *یعنی آذان دینے والا مرد عاقل بالغ، سمجھ دار، نیک، متقی، پرہیز گار ہو اور اذان کی سنت اور طریقے کو بہت اچھی طرح جاننے والا ہو*( فتاوی عالم گیری، جلد اول، ص 53)
*کس کو آذان کہنا منع ہے؟*
(1)-- جاہل جس کا تلفظ صحیح نہیں
ہے
(2)-- بدمذہب گمراہ
(3)-- فاسق معلن
(4)-- بچے
(5)-- عورت
(6)- یا غیر مسلم
(7)- جس کا عقیدہ کفریہ تک ہو
(8)-- ناپاک مرد
وغیرہ
(9) بے وضو
(10)--مقرر شدہ امام کو خود آذان نہ دینی چاہئے کیونکہ حدیث پاک میں منع فرمایا گیا چنانچہ جامع صغیر جلد دوم ص 194، پر بحوالہ بیہقی شریف بروایت حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ منقول ہے، نھی ان یکون الامام مؤذنا یعنی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد نے منع فرمایا کہ مقرر شدہ امام کو مؤذن بنایا جائے یعنی امام کی ذمہ داری بنادی جائے کہ وہی امامت بھی کرے اور وہی اذان بھی دیا کرے یہ شرعا ممنوع ہے( فتاوی نعیمیہ جلد چہارم ص 516)
ان میں سے بعض
آذان لوٹانا واجب ہے اور بعض کا مستحب اور بعض ایسی غلطیاں ہیں کہ جس سے آذان ہوئی بھی نہیں ہے حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
*اگر اَذان غلط کہی گئی، مثلاً لحن کے ساتھ تو اس کا جواب نہیں بلکہ ایسی اَذان سُنے بھی نہیں ۔*
( بہار شریعت ، حصہ سوم، ا
آذان کا بیان)
ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ *آذان بیرون مسجد میں دی جائے یعنی مسجد کے اندر نہیں آج کل بہت جگہ مسجد کے اندر آذان دی جاتی ہے یہ مکروہ تحریمی ہے*
*اے بھائی مسلمان مؤذن، آپ سے گزارش ہے کہ مؤذن کی جگہ پر بحال ہونے کے پہلے کلمات آذان کو صحیح ادائیگی کے لئے کسی عالم یا حافظ یا قاری سے مشق کرلیں تانکہ گنہگار نہ بنیں،*
جو آذان دینے کے ثواب ہے اس سے محروم نہ ہو اور *دنیاوی سزا یہ ہے کہ غلط آذان دینے والے کو غریبی آتی ہے چہروں پر سیاہی آتی ہے اور گنہگار بھی ہوتاہے*
، اور آج کل اکثر مؤذن اس غلطیوں میں مبتلا ہیں اور بعض غلطی تو کفر بھی ہے لھذا پرہیز کریں،
( ابو داؤد شریف، فتاوی شامی، فتاوی عالم گیری، بہار شریعت، فتاوی نعیمیہ )
واللہ اعلم بالصواب
*فقیر محمد ثناء اللہ خان ثناء القادری غفرلہ القوی مرپاوی*
سیتامڑھی، بہار
مورخہ شمسی 9، نومبر 2020*منجانب*
*(1) تحقیق مسائل جدیدہ اکیڈمی و مفتی اعظم بہار ایذوکیشنل اینڈ ویلفیر ٹڑشٹ سیتامڑھی آذاد چوک بہار*
*زیر شرپرشت*
*حضور تاج السنہ ولی ابن ولی حضرت مولانا مفتی محمد توصیف رضا خاں بریلوی شریف*
صدر رکن ۔شیر مہاراشٹر مفسر قران قاضی اعظم مہاراشٹر حضرت علامہ مفتی محمد علاءالدین رضوی ثنائی میرا روڈ ممبئی
Comments
Post a Comment