دوران قرآت کچھ آیتیں چھوڑ کر دوسری جگہ سے پڑھنا کیسا ؟🔸*

 *🔸دوران قرآت کچھ آیتیں چھوڑ کر دوسری جگہ سے پڑھنا کیسا ؟🔸*



کیافرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع

کہ زید نے جہری فرض نماز کی امامت کی اور درمیان قراْت سورت بھول گیا اور دوسری سورت شروع کردی تو کیا سجدہ سہو واجب ہوگا یا نہیں نیز یہ کہ زید نے مذکورہ بالا میں سجدہ سہو نہیں کیا اور اختتام کا سلام پھیر دیا اور مقتدی حضرات تشہد پڑھ کر سجدہ سہو کا انتظار کرتے رہے مگر زید کے اختتام کے سلام کے ساتھ مقتدیوں نے بھی نماز ختم کی اب کس کی نماز ہوئی اور کس کی نہیں تفصیل سے بتائیں ساتھ ہی قرات میں غلطی ہونے پر کب سجدہ سہو واجب ہے اور کب نہیں از روۓ شرع تفصیلی جواب عنایت فرما کر عنداللّٰہ ماجور ہوں-

بینوا توجروا

*❣المستفتی قیس محمد قادری گورکھپور یو.پی 8756682307❣*

ا__________💠⚜💠___________

*📝الجواب اللھم ہدایت الحق والصواب ⇩*

*" لا إله إلا الله وحده لا شريك له "*


صورت مستفسرہ میں سب کی نماز ہو گئی سجدہ سہو کی ضرورت نہیں, 


فرضوں میں قصداً چھوٹی سورت بیچ میں چھوڑ دینا مکروہ ہے اور سہوا اصلا کراہت نہیں *(والیل والشمس)* سے پانچ آیت زائد ہے ایسی صورت میں کراہت نہیں


📑في الدرالمختار 

*يكره الفصل بسورة قصيرة اھ،*

 درمختار میں ہے کہ 

چھوٹی سورت کے ساتھ فاصلہ( چھوڑ دینا) مکروہ ہے اھ,  


📄في ردالمحتار

*" إما بسورة طويلة بحيث يلزم منه إطالة الركعة الثانية فلا يكره شرح المنية، الخ في الدر إطالة الثانية علي الأولى يكره تنزيها إجماعا ان بثلث آيات ان تقاربت طولا و قصرا وإلا اعتبر الحروف الكلمات واعتبر الحلبي فحش الطول لا عدد الآيات ، واستثني في البحر ما وردت به سنة واستظهر في النفل عدم الكراهة مطلقاً وان باقل لا يكره لانه صلي الله تعالى عليه وسلم وصلي بالمعوذتين ،* ردالمحتار میں ہے کہ اگر وہ چھوڑی جانے والی سورت اتنی بڑی ہے کہ اس سے دوسری رکعت کا پہلی رکعت سے نہایت ہی طویل ہونا لازم آتا ہو تو پھر مکروہ نہیں 

شرح المنیۃ الخ, درمختار میں دوسری رکعت کو پہلی پر تین آیتوں کی مقدار لمبا کرنا بالاجماع مکروہ تنزیہی ہے اور دونوں رکعتوں کی آیتیں بڑی اور چھوٹی ہونے میں قریب قریب ہوں اگر آیتیں ایک سی نہ ہوں تو حروف اور کلمات کا اعتبار ہوگا, اور حلبی نے فحش طویل کا اعتبار کیا ہے نہ کہ آیتوں کے شمار کا'


📃 بحر الرائق میں

"  ان سورتوں کو مستثنیٰ کہا ہے جن کے متعلق حدیث وارد ہے( یعنی انکے پڑھنے میں کراہت نہیں) اور نفلوں میں مطلقاً  ( یعنی اس کے متعلق حدیث وارد ہو یا نہ ہو) عدم کراہت کو ترجیح ہے اگر دوسری رکعت کی زیادتی تین آیت سے کم ہوتو مکروہ نہیں,

کیونکہ سرکار دوعالم صلی اللہُ تعالیٰ علیہ و سلم نے معوذتین سے فجر کی نماز پڑھائی ہے, 

*( 📚فتاویٰ رضویہ شریف جدید ج (٦) ص (٣٣٣) مکتبہ دعوت اسلامی )*



*🌹واللہ و رسولہ اعلم بالصواب🌹*

ا___________💠⚜💠___________

*✍🏻شـر ف قـلـم حضرت عـلامہ و مولانا محمد راشد مکی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والـنورانی گرام ملک پور کـٹیـہـار بہار*

*🗓 ۲ نومبر بروز سنیچر ۲۰۱۹ عیسوی*

*رابطه* https://wa.me/+918743811087

ا___________💠⚜💠___________

*🔸امام اعظم گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771

ا___________💠⚜💠___________

*المشتـــہر؛*

*منـتـظـمـیـن امـام اعـظـم گــروپ*

*محمد ایوب خان یارعلوی بہرائچ*

ا__________💠⚜💠___________

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟