شوہر نے فون پر تین بار طلاق دی تو کونسی طلاق کا حکم لگےگا ۔طلاق ھوگٸی کہ نہی
السلامُ علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیافرماتےہیں علمائےدین ومفتیان شرع متین
اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بیوی ہندہ کو فون میں یہ کہا کہ جاؤ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ۔۔طلاق ۔ طلاق ۔ طلاق۔ ۔
لہٰذا اس میں کتنے طلاق واقع ہوئی اور کیا اسکے لیے کسی گواہ کی ضرورت ہے یا نہیں
برائے مہربانی بحوالہ جواب تحریر فرمائیں۔عین نوازش و کرم ہوگا ،سائل محمد شمشیر رضا ؟؟؟
باسمہ تعالیٰ
الجواب اللہم ھداية الحق والصواب صورت مسئولہ میں برصدق سوال :
زید کی بیوی ہندہ پر طلاق مغلظہ واقع ہو گئیں ہیں کیونکہ طلاق جس طرح زبان سے کہنے سے واقع ہوتی ہے اسی طرح تحریر ،مسیج ،فون پر طلاق دینے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے ،
بشرطیکہ شوہر اقرار کرے کہ میں طلاق دیا ہو یا عورت اس پر گواہ شرعیہ پیش کرے محض شوہر کی آواز مشابہ ہونا یا اس کے نمبر سے فون کا آنا کافی نہیں ہاں اگر عورت کو اطمینان و یقین ہو کہ یہ آواز شوہر کی ہے تو اس پر عمل کرے گی عورت کو اجازت ہے اور اگر شوہر انکار کرے تو بغیر شہادت شرعیہ کے چارہ نہیں _
فتاویٰ ہندیہ میں ہے: الخط يشبه الخط والخاتم يشبه الخاتم یعنی ایک خط دوسرے خط کے مشابہ ہے اور مہر دوسری مہر کے مشابہ ہوتی ہے ( جلد اول سوم صفحہ 381 کتاب القاضی الی القاضی قدیم ایڈیشن )
فقہاء کرام فرماتے ہیں : الصوت يشبه الصوت والخط يشبه الخط )
فتاویٰ ہندیہ میں ہے: هو فاتاها الكتابان طلقت تطلقتين فى القضاء إذا اقرا انهما كتاباه او قامت به بينه ،اسی میں ہے : وبعت به الى امرته فاتاه الكتاب واقر الزوج انه كتابه فان الطلاق يقع عليها ( جلد صفحہ 379 ،فصل السادس فی الطلاق بالکتاب )
لہذا زید اگر اپنی ہندہ بیوی کو رکھنا چاہتا ہے تو بغیر حلالہ کئے نہیں رکھ سکتا ہے،
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ،فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره الخ ترجمہ پھر اگر تیسری طلاق دی تو اس کے بعد ( عدت ) وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے"
( پارہ 2سورة البقرہ آیت 230)
حلالہ کا طریقہ یہ ہے کہ عورت طلاق کی عدت پوری کرنے کے بعد کسی اور سے نکاح صحیح کرے اور شوہر ثانی اس عورت سے وطی بھی کرے اب اس شوہر ثانی کے طلاق یا موت کے بعد عدت پوری ہونے پر شوہر اول سے نکاح کرسکتی ہے ملخصا
( بہار شریعت جلد دوم صفحہ 177 حلالہ کا بیان )
عدت کی تفصیل یہ ہے : اعلیحضرت علیہ الرحمتہ والرضوان ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں : مطلقہ اگر حامل ہوتو عدت وضع حمل ہے اور اگر نابالغہ ہو یا کبیر سین کے سبب اب حیض نہیں آتا تو عدت تین ماہ ہے ورنہ تین حیض خواہ دو مہینے میں ہوں مثلاً دوبرس میں
( فتاویٰ رضویہ جلد 13 ص 299 باب العدت رضآ اکیڈمی ممبئی)
واللــه و رســوله اعــلم بالصــواب
️کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
اســـير حضـــور تـــاج الــشريعـــه محـــــمد شــــميم القــادرى احـــمدى رضوی
ســــــــاكــــن
کـھڑکــمن، پنچــائـت گـوروکھـال،*
پوســٹ کـوئـماری پـوٹھیـا کـشن گنــج بہــار
مورخہ ،7/ شوال المکرم 1441 ھ بمطابق 23/ 10/ 2020 ء
Comments
Post a Comment