شیعہ مذہب کی حقیقت :-*

 *شیعہ مذہب کی حقیقت :-*


شیعہ مذہب کی بنیاد عبد اللہ بن سبا نے رکھی تھی. یہ یمن کے شہر صنعاء کا رہنے والا تھا اور یہودی مذہب سے تعلق رکھتا تھا. اس نے عھد صدیق اور عھد فاروقی میں کافی کوشش کی اسلام کو نقصان پہنچانے کی، لیکن اس کو کامیابی نہیں ملی، پھر اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں ان کے ہاتھ پر بیعت کی اور نام نہاد اسلام قبول کیا. 


انہی لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شھید کیا. سب سے پہلے خاندان نبوی کے ساتھ خلوص و محبت کا حربہ اختیار کیا اور لوگوں کو اہل بیت کی محبت پر مضبوط رہنے کی تلقین کرنے لگا، اس لیے ان کی کافی پذیرائی ہوئی اور لوگوں میں انکا اعتماد بڑھا.


 اس کے بعد  انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ جناب رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں اور اپنے آپ کو شیعان علی کہنے لگے.  ان لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں غلط عقائد لوگوں میں پھیلائے، مثلا کرامتیں, ذاتوں کا بدل دینا,  غیب کی خبریں سنانا, مردوں کو زندہ کرنا, اللہ کی ذات اور حقائق بیان کرنا, باریک اور گہری جانچ اور وہ قوت اور طاقت کہ دنیا والوں نے نہ دیکھی نہ سنی وغیرہ.


 ان لوگوں نے قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ جس میں  حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا ذکر تھا اور ساتھ ہی ساتھ اپنی طرف سے من گھڑت روایتیں گھڑ گھڑ کر لوگوں میں پھیلائی. شیعہ مذہب کے مختلف گروہ ہیں. 

(1) سبایئہ,

 (2) مفضلیہ,

 (3) سیرغیہ,

 (4) بیزغیہ, 

(5) کاملیہ,

 (6) مغیریہ,

 (7) جناحیہ,

 (8) بنانیہ, 

(9) منصوریہ,

 (10) غمامیہ, 

(11) امویہ, 

(12) تفویضیہ, 

(13) خطابیہ, 

(14) معمریہ, 

(15) غرابیہ, 

(16), ذبابیہ, 

 (17) ذمیہ, 

(18) اثنینیہ, 

(19) خمسیہ,

 (20) نصیریہ, 

(21) اسحاقیہ, 

(22) غلبانیہ,

 (23) زرامیہ, 

(24) مقیغہ.

  فرقہ کیسانیہ اور آگے اس کے چھ فرقے اور ہیں. فرقہ زیدیہ اور آگے اس کے نو فرقے اور ہیں . فرقہ امامیہ کے انتالیس فرقے ہیں.  

ان کے عقائد مختلف ہیں:-


 حضرت علی کو نبوت میں شریک سمجھتے ہیں, 


جبرائیل نے وحی غلطی سے حضور کو پہنچائی, 


حضرت علی کو الہ اور خدا مانتے ہیں, 


حضرت علی میں خدا ہے,


 حضرت حسین کو خدا مانتے ہیں,


 تارک فرائض اور حرام کو حلال سمجھتے ہیں,


 حضرت علی کو تمام پر فضیلت دیتے ہیں, 


خلفا راشدین اور ازواج مطہرات کو برا کہتے ہیں,


 پانچوں کو خدا مانتے ہیں (پانچ تن پاک). یہ حضرت نوح علیہ اسلام کی قوم مشرک لوگوں کا عقیدہ تھا انہوں نے صرف شخصیات تبدیل کی ہیں, 


اللہ کی وحدانیت کے خلاف ہے, 


اللہ تعالی قدیم ہے, اللہ تعالی ہر چیزپر قادر ہے، مگر شیعہ اس کے خلاف ہے,


 بعض انبیاء نے رسالت قبول کرنے سے عذر  کیا ہے,


 پیغمبروں کا پیدا کرنا اللہ تعالی پر واجب ہے, 


ائمہ تمام مخلوقات سے افضل ہے,


 پیغمبروں سے ایسا گناہوں کا صدور ہوتا ہے جن کا انجام ہلاکت ہے, 


حضرت آدم علیہ السلام آئمہ سے بغض رکھتے تھے,


 حضرت علی خاتم النبیین حضرت علی پر وحی آتی تھی, 


پیغمبر کے شرعی احکام امام موقوف کر سکتا ہے,


 حکم شرعی کو امام منسوخ یا تبدیل کر سکتا ہے, 


صحابہ کی تکفیر کرنا, حضرت عمر پر لعنت کو ذکر پر فضیلت دینا,


 نماز پنجگانہ کے بعد کبار صحابہ پر لعنت کو واجب قرار دینا, 


عید غدیر جو 18 ذوالحج کو مناتے ہیں اسے عیدالفطر اور عیدالاضحی پر بھی فضیلت دیتے ہیں اور اسے عید اکبر کہتے ہیں... 

(18) ذوالحج حضرت عثمان کی شھادت کا دن ہے),


  قاتل حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عید جو 9 ربیع  اول کو مناتے ہیں (ابو لولو فیروز جس نے حضرت عمر کو شھید کیا تھا ایران میں اس کا بہت خوبصورت مقبرہ بنایا ہوا ہے اور وہاں بڑی نذرونیاز مانی جاتی ہے) 


مجوسیوں کی جو جشن نوروز کے نام سے مناتے ہیں,


 نجس پانی, شراب, ودی اور مذی کو پاک کہتے ہیں, ان کے نزدیک مدی اور مذی نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا,


 نماز کے مسائل میں اختلاف ہے, 


میت پر نوحہ و ماتم کرنا جائز ہے، جوکہ اسلامی شریعہ میں حرام ہے  اور بہت سے ان کے گندے عقائد ہیں، غرض اسلام کے جتنے احکام ہیں سب میں اختلاف کرتے ہیں مثلا نماز میں فرق, کلمہ میں فرق, قرآن کو نہیں مانتے, روزہ میں فرق, حج اور عمرہ کے احکام میں فرق, نکاح اور طلاق کے مسائل میں فرق, متعہ کو جائز سمجھتے ہیں اور متعہ کو  بہترین عبادت سمجھتے ہیں. 


اخلاقی مسائل میں اتنے گرے ہوئے ہیں ک یہاں بیان کرنا مناسب نہیں.


 آج بعض لوگ کہتے ہیں جو سمجھ سے بالا تر ہے 

"شیعہ سنی بھائی بھائی" 

یہ اہل بیت کی محبت کی آڑ میں لوگوں کو ورغلاتے اور ان کا ایمان خراب کرتے ہیں. اہل تشیع کے متعلق تفصیل سے جاننے کیلیے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی عظیم الشان کتاب "تحفہ اثناء عشریہ" کا ضرور مطالعہ کریں. اگر یہ کتاب بازار سے نہیں ملتی تو انٹر نیٹ کے ذریعے کرلیں.


*ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﯿﻢ*

٭٭٭ﺷﯿﻌﮧ ﻏﻠﯿﻆ ﺗﺮﯾﻦ ﮐﺎﻓﺮ ﮨﮯ ٭٭٭

ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺷﯿﻌﮧ ﻏﻠﯿﻆ ﺗﺮﯾﻦ ﮐﺎﻓﺮ ﮨﮯ ۔ﺗﻮ ﯾﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻠﻂ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔

" ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﮨﻞ ﺗﺸﯿﻊ ﻭﮦ ﻏﻠﯿﻆ ﺗﺮﯾﻦ ﻣﺬﮨﺐ ﮨﮯ۔ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ﮐﻮ ﮔﺎﻟﯽ ﺩﯾﻨﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﺛﻮﺍﺏ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺟﺐ ﮐﮧ ﻣﺘﻌﺼﺐ ﮨﻨﺪﻭ ﺑﮭﯽ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ، ﺧﺼﻮﺻﺎ ﺧﻠﻔﺎﺀ ﺛﻼﺛﮧ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺑﻠﮑﮧ ﻣﮩﺎﺗﻤﺎ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﻧﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ :

" ﺍﮔﺮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﻦ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻗﻮﺍﻧﯿﻦ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻭ ، ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﻦ ﻗﺎﺋﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ "۔

ﺍﺱ ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﮨﻨﺪﻭ ﺑﮭﯽ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺟﺐ ﮐﮧ " ﺍﮨﻞ ﺗﺸﯿﻊ " ﻭﮦ ﮔﻨﺪﺍ ﮐﺎﻓﺮ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ﮐﻮ ﻣﺎﮞ ، ﺑﮩﻦ ﮐﯽ ﮔﻨﺪﯼ ﺗﺮﯾﻦ ﻏﻠﯿﻆ ﺗﺮﯾﻦ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﻟﻌﻨﺖ ﮨﻮ ﺍﻥ ﺍﮨﻞ ﺗﺸﯿﻊ ﭘﺮ ۔

ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺷﺮ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﭽﺎﺋﮯ ۔ ﺁﻣﯿﻦ


*حضرت امیر معاویہ کے بارے میں اہلسنت کا کیا عقیدہ ہے؟*


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم المرتبت صحابی، کاتب اور ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں۔ قرآنِ مجید صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے اڑنے والے گرد و غبار کی قسمیں کھاتا ہے:


وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًاo فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًاo فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًاo فَاَثَرْنَ بِهِ نَقْعًاo


’’(میدانِ جہاد میں) تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی قَسم جو ہانپتے ہیں۔ پھر جو پتھروں پر سم مار کر چنگاریاں نکالتے ہیں۔ پھر جو صبح ہوتے ہی (دشمن پر) اچانک حملہ کر ڈالتے ہیں۔ پھر وہ اس (حملے والی) جگہ سے گرد و غبار اڑاتے ہیں۔‘‘


العاديت، 100: 4


جن شہسواروں سے گھوڑوں کو، گھوڑوں سے گرد وغبار کو یہ مقام ملا، ان شہسواروں کی شان کیا ہو گی۔ ان میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی یقینا شامل ہیں۔ لہٰذا کوئی مسلمان ان کی شان میں گستاخی کا تصور بھی نہیں کر سکتا اور جو گستاخی کرے وہ مسلمان نہیں ہو سکتا کیونکہ مسلمانوں کی پہچان قرآن میں یہ بتلائی گئی ہے کہ وہ اہل ایمان کے لئے ہمیشہ دعائے مغفرت کرتے ہیں:


وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْاج.


اور اہلِ ایمان کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔‘‘


المومن، 40: 7


حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما  کے درمیان جنگ صفین ہوئی جس کا سبب بنیادی طور پر خلیفہ راشد، امیر المؤمنین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت تھی جس کے پس پردہ وہی یہودی و مجوسی سازش کارفرما تھی جو خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کی ذمہ دار تھی۔ صحیح صورتحال کا ایک جگہ سے دوسری جگہ تک بروقت پہنچ جانا، اس زمانہ میں ممکن نہ تھا، جبکہ اسلام دشمن عناصر گمراہ کن افواہیں تسلسل سے پھیلانے میں مصروف تھے۔ ان حالات میں عوام و خواص میں غلط فہمیوں کا پیدا ہو جانا باعث تعجب نہیں۔ غلط فہمیاں پھیلیں اور اس کے نتیجہ میں باہمی جنگیں ہوئیں جسمیں مسلمانوں کو ایک طرف تو ناقابلِ بیان جانی و مالی نقصان ہوا، دوسری طرف ان کی ملی وحدت ٹکڑے ٹکڑے ہوئی اور تیسری طرف وہ فاتحانہ قدم جو بڑی تیزی کے ساتھ یورپ، افریقہ اور ایشیاء کی طرف بڑھتے چلے جا رہے تھے، یکدم رک گئے۔


یہ قضا و قدر کے وہ قطعی فیصلے تھے جن کی خبر مخبر صادق صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے ان واقعات کے رونما ہونے سے بہت پہلے دے دی تھی۔ دونوں طرف صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین تھے۔ کسی ایک کو موردِ الزام ٹھہرانا نہ تو درست ہے اور نہ ہی انصاف ہے۔ اس مسئلہ میں وہ لوگ بھی غلط ہیں جو حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کی شان اقدس میں زبان طعن دراز کرتے ہیں اور وہ بھی غلط ہیں جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یا دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی اجتہادی خطاء پر ان کی شان و عظمت میں گستاخی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ہمارے نزدیک اﷲ تعالیٰ، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، صحابہ و اہل بیت رضوان اللہ علیھم اجمعین، آئمہ کرام، اولیائے عظام اور علماء و اہل اسلام کا ادب واحترام ہی ایمان اور تقویٰ ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان ہونے والے باہمی نزاعات سے متعلق اہل سنت کے مؤقف کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے: مشاجرات صحابہ میں‌ اہلِ سنت کا کیا مؤقف ہے؟


آپ نے تاریخ کی کتب میں جو گالیاں وغیرہ دینے کے بارے میں پڑھا یا سنا ہے وہ عربی کتب میں ’سب وشتم‘ کے الفاظ سے مذکور ہے۔ سب وشتم کا مطلب ہے برا بھلا کہنا۔ عربی میں ان الفاظ کا مفہوم وسیع ہے، جس میں تنقید بھی شامل ہے۔ یہ تنقید سخت الفاظ میں بھی ممکن ہے اور نرم الفاظ میں بھی۔ اس میں گالی دینے کا مفہوم بھی شامل ہے اور نرم انداز میں ناقدانہ تبصرے کا بھی۔ لہٰذا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت اور جنگ صفین کے بعد بننے والے ماحول میں سخت اور نرم الفاظ سے تنقید بھی کی جاتی تھی اور منافقین گالی گلوچ بھی کیا کرتے تھے۔ دورِ یزید میں برسر منبر اہل بیت اطہار کو برا بھلا کہنا اور بیہودہ گالیاں دینا رواج بن گیا تھا۔


بنو امیہ کے اکثر حکمران اہل بیت سے بغض رکھتے تھے۔ اس کا آغاز یزید کے دورِ حکومت سے ہوا۔ یزید نے ایک نئی طرز پیدا کر دی۔ اُس بدبخت اور ملعون کے زمانہ میں ایک کلچر develop ہوگیا، سارے معاملہ نے سیاسی رنگ اختیار کرلیا، معاملہ Politicize ہوگیا۔ حکومت کے چھوکرے، لونڈے، عمال، انتظامیہ، بیوروکریسی، وزیر، مشیر، سیاسی نمائندگان، جن کو چھوٹی چھوٹی سطح کا اقتدار ملتا ہے، علاقوں میں اُن کے ذمہ داران، یہ تمام اہل بیت اطہار کے خلاف ہر سطح پر ایک ماحول پیدا کرتے اور انہیں گالیاں دیتے تھے۔ سیدنا مولا علی المرتضی اور اہل بیت اطہارکو برا بھلا کہتے۔


حتی کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ جو پانچویں خلیفہ راشد کہلاتے ہیں، جب اُن کا دور آیا، تو انہیں یہ قانون نافذکرنا پڑا کہ جو یزید کو امیرالمومنین کہے گا، شرعی طور پہ اُس کو بیس کوڑوں کی سزا دی جائے گی۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کو اس حوالے سے مزید سخت اقدامات لینے پڑے۔ آپ نے منبروں پر حضرت علی شیرخدا رضی اللہ عن اور اہل بیت اطہار کو گالی دینے کا کلچر حکماً بند کردیا۔ لوگوں کے ذہن اتنے یکطرفہ اور اتنے زہر آلودہ ہو چکے تھے کہ باقاعدہ احکامات صادر کرنے کی ضرورت پیش آئی۔


جب حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے اہل بیت اطہار کو اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے پر پابندی لگادی تو تاریخ کی کتب، اسماء الرجال کی کتب، محدثین کے ہاں یہ درج ہے کہ عامۃ الناس نے شور مچایا کہ عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے سنت بند کردی۔ حالانکہ وہاں سنت سے لغوی معنی مراد ہے کہ وہ ایک طریقہ اور شیوہ جو پرانا چلا آرہا تھا، اس کو ختم کردیا۔ اُنہوں نے فرمایا کہ سنت بند نہیں کی بلکہ جو بند کیا وہ بےہودگی تھی، دین کے خلاف ایک ماحول تھا، جو بعض لوگوں نے اپنے مفادات کے لئے بنا رکھا تھا تاکہ حکومت سے مراعات لیں‘ اُس کوبند کیا ہے۔


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو اپنا ولی عہد بنایا دیا، جس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے اختلاف بھی کیا لیکن انہوں نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا جو بعد میں مسلمانوں کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوا۔ یہ اُن کی اجتہادی خطاء تھی۔


عثمان غنیؓ کی قرآن سے پانچ 

نسبتیں۔۔۔۔۔۔۔

شیعہ حافظ قرآن نہیں ہوتا ۔

اور یہ حقیقت ہے کہ کوئی شیعہ حافظ قرآن نہیں ہوتا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علماء کہتے ہیں کہ ۔

قرآن پاک کو لکھا

عثمان رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے۔

عثمان غنی رضی اللّٰہ  عنہ۔

کاتب قرآن ہے ۔

عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ 

حافظ قرآن ہیں ۔

عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ

جامع قرآن ہیں ۔

عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ۔

عالم قرآن ہیں ۔

عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ

عامل قرآن ہیں ۔

اور 

عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ

شھید قرآن ہیں ۔

کہ جب شھید ہونے لگے تو ان کے خون کا پہلا قطرہ قرآن پر گرا 

اور یہ عادت مبارکہ تھی کہ دن رات میں مکمل قرآن تلاوت کیا کرتے تھے 

ساتھ سال تک کوئی رات ایسی نہیں گزری جس رات عثمان ؓ نے اللہ کا قرآن ختم نہ کیا ہو 

مظلوم مدینہ ۔

پیکر حیاء و وفا۔

ہم زلف مرتضی۔

دہراداماد مصطفے ﷺ

امیر المؤمنین ۔

حضرة سیدنا عثمان غنی ۔

رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ

کی یوم شھادت 18ذی الحجہ ہے


شیعوں کا عقیدہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ امام معصوم ہیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اپنی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے کرتے ہیں جو کہ حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی حقیقی بہن ہیں۔ یہ کیسا تضاد ہے؟ شیعہ حضرات اپنے اس اعتراف کی بنیاد پر دو صورتوں میں سے کسی ایک صورت کو قبول کرنے پر مجبور ہیں۔


سوال 1:۔۔علی رضی اللہ عنہ غیر معصوم ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی "کافر" سے کی ہے! اور یہ چیز شیعہ مذہب کے عقائد اساسی کے منافی ہے۔ بلکہ اس بات سے یہ بھی پتہ چلا کہ کوئی امام بھی معصوم نہیں کیونکہ وہ بھی تو انہی کی اولاد میں ہے۔


سوال2:۔۔علی رضی اللہ عنہ نے برضا و رغبت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا داماد بنایا ہے، لہذا یہ عمر رضی اللہ کے مسلمان ہونے کی بین دلیل ہے۔


{اس شادی کا اعتراف شیعوں کے مشائخ میں سے کلینی ، طوسی ، ندارانی، العاملی، مرتضی علم الھدی، ابن ابی الحدید، لاردبیلی ، شوشتری اور مجلسی نے اپنی کتب میں کیا ہے۔}


*خلافت رسول ﷲ ﷺ کی احادیث کی روشنی میں ۔۔ !!*


 امام مسلم ؒ عبداﷲ بن عمرؓ سے رسول اﷲ ﷺ کی یہ حدیث روایت کرتے ہیں:

اور جو کوئی مرا اس حال میں کہ اس کی گردن میں (خلیفہ کی ) بیعت نہ ہو، وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘

احمد اور ابن ابی عاصم روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ ﷺنے فرمایا:

اور جو کوئی مرا اس حال میں کہ اس کے اوپر ایک امام (خلیفہ ) نہ ہو ، وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘ (شرح صحیح مسلم : جلد ۱۲، صفحہ ۲۰۵)

تمام مسلمان امت کی ایک خلیفہ ہونے کی دلیل


رسول ﷲ ﷺ کی احادیث کے مطابق:

مسلمانوں کا ایک سے زیادہ خلیفہ ہونا حرام ، گناہ، فتنہ اور اُن کی طاقت توڑنے کے برابر ہے۔

محمدﷺ  نے فرمایا ’’ اگر دو خلفاء کے ہاتھ پر بیعت ہوجائے تو دوسرے کو قتل کردو۔ (بہ روایت سعیدالخدای۔صحیح مسلم)


 محمدﷺ نے یہ بھی فرمایا ،’’اگر تمہارے امور ایک شخص کے پیچھے متفق ہوں اور کوئی دوسرا آکر تمہاری طاقت توڑنے اور اتحاد توڑنے کے لئے آئے تو اسے قتل کردو ۔‘‘ (بہ روایت ارفجہ ، صحیح مسلم)

پس آخر اُن لوگوں کے پاس شریعت سے کیا دلیل ہے جو مُصر ہیں کہ مسلمانوں کو علاقائی اسلامی امارات برقرار رکھنی چاہیے جو کہ برطانوی اور دوسری استعماری قوتوں نے قومیت کی بنیاد پر مسلمانوں کو تقسیم کرنے کیلئے بنائی ۔!

 کیا ہم کفار کے ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کی پالیسی کو نہیں دیکھ رہے۔ اور اُن مسلمانوں کے بارے میں کیا کہا جائے جو صرف ’اپنے ‘ ملک میں اسلامی حکومتیں قائم کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔


حضرت عمر بن خطابؓ خلافت سنبھالنے کے بعد بیت المال میں آئے تو لوگوں سے پوچھا کہ :

" حضرت ابوبکر ؓ کیا کیا کرتے تھے، تو لوگوں نے  بتایا کہ :

" وہ نماز سے فارغ ہو کر کھانے کا تھوڑا سا سامان لے کر ایک طرف کو نکل جایا کرتے تھے ...! "


آپ نے پوچھا کہ کہاں جاتے تھے :

" لوگوں نے بتایا ک یہ نہیں پتا بس اس طرف کو نکل جاتے تھے ...! "


آپؓ نے کھانے کا سامان لیا اور اس  طرف کو نکل گے لوگوں  سے پوچھتے ہوئے کہ :

" حضرت ابوبکر ؓ کس جگہ جاتے تھے پتہ چلتے چلتے ایک جھونپڑی تک پہنچ گئے وہاں جا کر دیکھا کہ ایک بوڑھا  آدمی دونوں آنکھوں سے آندھا ہے اور اسکے منہ پر پھالکے بنے ہوئے ہیں اس نے جب کسی کے آنے کی آواز سنی تو بڑے  غصے میں بولا کہ پچھلے تین دن سے کہاں چلے گئے تھے تم ...؟ "

 آپؓ خاموش رہے اور اس کو کھانا کھلانا شروع کیا تو اس نے غصے سے کہا کہ :

" کیا بات ہے ایک تو تین دن بعد آئے ہو اور کھانا کھلانے کا طریقہ بھی بھول  گئے ہو ...؟ "


آپؓ نے جب یہ سنا تو رونے لگے اور اسے بتایا کہ :

" میں عمرؓ ہوں اور وہ جو آپ کو کھانا کھلاتے تھے، وہ مسلمانوں کے خلیفہ ابوبکر ؓ تھے، اور وہ وفات پا چکے ہیں ...! "

جب اس بوڑھے نے یہ بات  سنی تو کھڑا ہو گیا اور کہا کہ :

" اے عمر ؓ مجھے کلمہ پڑھا کر مسلمان کر دیں۔ پچھلے  دو سال سے وہ آدمی روز میرے پاس آتا اور کھانا کھلاتا رہا  ایک دن بھی اس نے مجھے نہیں بتایا کہ میں کون  ہوں ...! "


میرے محترم و مکرم قارئین کرام !!

ایسے اچھے اخلاق والے تھے وہ ابو بکر ؓ ۔اور  ایسے ہی اچھے اخلاق کا درس دیتا ہے ہمیں ہمارا یہ دین اسلام ۔ دعا ہے اللہ مجھ گناہ گار و سیاہ کار سمیت ہم سب مسلمانان عالم کو اچھے اخلاق  پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے ...!

دوستو چلتے چلتے ایک  گزارش ہے کہ 

اچھے واقعات جن کو پڑھ کر آپ کی سوچ میں فرق آئے ان واقعات کو اپنے دوستوں میں نہ سہی کم از کم گروپس میں ہی شئیر کر لیا کریں کیا پتہ کسی کی سوچ کس لمحے بدل جائے۔


جزاک اللہ خیر

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟