🔹راہ طریقت (پیری مریدی )قرآن و حدیث کے اجالے میں🔹*
*🔹راہ طریقت (پیری مریدی )قرآن و حدیث کے اجالے میں🔹*
السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ
علماء کرام کی بارگاہ میں عرض ہے طریقت کسے کہتے ہیں ہیں اور طریقت کا مسئلہ کیا ہے کیا طریقت قرآن و حدیث سے کیا شریعت کا کوئی مسئلہ طریقت والوں پر لگا سکتے ہیں یا نہیں ثابت ہے یا نہیں جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی
🌹سائل🌹محمد مشرف رضا رضوی کرناٹک
◆ــــــــــــــــــ♦⭕♦ــــــــــــــــــ◆
'*وعلیکم السلام ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ*
*الجـــــوابــــــــــــــــــــــــ بـــــــعــــــــون*
*المـــــلــــک الـــــوھـــــاب*
صورت مستفسرہ میں اصطلاح صوفیہ میں مرشد کے ہاتھ پر مکمل اتباع و فرماں برداری کے عہد و پیمان کا نام " بیعت "ہے ۔ جس کو عام طورپر " پیری مریدی " کہاجاتا ہے ۔ اور یہ خیر القرون سے آج تک برابر صوفیہ کرام کا معمول رہا ہے، جس کے جواز و مشروعیت پر بہت سی آیتوں اور حدیثوں کی شہادت موجود ہے ۔ جن میں سے چند یہاں نقل کئے جا تے ہیں ۔ملاحظہ فرمائیں…!!!
*🔰" ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ یداللہ فوق ایدیھم ۔"(پارہ ۲۶ سورہ فتح )*
یعنی،" بےشک…! جو لوگ ( اے رسول! ) تمھاری بیعت کرتے ہیں،درحقیقت وہ اللہ سے بیعت کرتے ہیں ۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے ۔"
اور فرماتا ہے:
*🔰"لقد رضی اللہ عن المؤمنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ ۔"*
یعنی، "یقینا اللہ ان مؤمنین سےخوش ہوگیا، جو درخت کے نیچے تمھاری بیعت کرتے ہیں ۔"
یہ ہر دو آیات حدیبیہ کی بیعت کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ۔
جب یہ خبر مشہور ہو گئی کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ شہید ہو گئے ۔ اس وقت حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک درخت کے سائے میں بیٹھ کر اصحاب سے بیعت لی اور تمام صحابئہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور اکرم صلی اللہ تعالی عیلہ وسلم کے دست مبارک کے نیچے اپنا ہاتھ رکھ کربیعت لی۔
اس بیعت کے الفاظ کیا تھے? اس کے بارے میں چند الفاظ روایتوں میں مذکور ہیں،لیکن سب کا حاصل " علی السمع…!!! والطاعۃ…!!! " ہے ۔ یعنی، " ہر امرو نہی کو بگوش ہوش سننا اور اس پر عمل کرنا ۔"
*ان دو آیتوں سےصاف ظاہر ہےکہ مرشد کے ہاتھ پر اتباع شریعت کا عہد و پیمان کرنا قرآن مجید سے ثابت اور باعث رضائے الہی ہے۔ اور یہی مشائخ کی بیعت ہے ۔ جس کو عام طور سے " پیری مریدی" کہاجاتا ہے*۔
بعض ناوافقوں کا خیال ہے کہ حدیبیہ کی بیعت جہاد کفار میں منحصر تھی ۔ اور اس کو پیری مریدی سے کوئی تعلق نہیں ۔ مگر اہل علم پر پوشیدہ نہیں کہ یہ خیال سراسر لغو و باطل ہے ۔ کیونکہ صلح حدیبیہ کے الفاظ " *علی السمع الطاعۃ*۔" سے ظاہر ہے کہ اس بیعت میں مشرکین سے جہاد اور دوسرے اعمال صالحہ بھی داخل ہیں ۔ پھربھی اس بیعت سے کم از کم اتنا تو بالاجماع ثابت ہی ہوگیا کہ کسی امر دینی کا کسی کے ہاتھ ہر عہد کرنا اس سے شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام سے ثابت و ماثورچ،. بلکہ مامور بہ و مامور ماجور علیہ ہے ۔ پھر مروجہ پیری مریدی میں اگر مرید اپنے پیر کا ہاتھ پکڑکر اتباع شریعت و اعمال کا عہد کرتا ہے، تو یہ کیونکر محل اعتراض ہو سکتا ہے? "
بلکہ اگر بغور دیکھا جائے تو در حقیقت مشائخ کی بیعت بھی ایک قسم کی بیعت جہاد ہی ہے ۔
چنانچہ " تفسیر جواہر التنزیل " میں آیت:
*🔰"قال الامام الراغب الجہاد ثلثہ اضرب مجاھدۃ العدو الظاہر و مجاھدۃ الشیطان و مجاھدۃ النفس و تدخل ثلثھا فی قولہ تعالی و جاھدوا فی اللہ حق جہادۃ ۔"*
یعنی، " امام راغب نے فرمایا کہ جہاد کی تین قسمیں ہیں:
۱۔ ظاہری دشمن (کفار ) سے جہاد،
۲۔ شیطان سے جہاد،
۳۔ نفس سے جہاد،
اور یہ تینوں جہاد آیت " و جاھدوا فی اللہ حق جہادہ ۔"میں داخل ہیں ۔
بہت سی احادیث صحیحہ بھی اس بارے میں موجود ہیں کہ مشائخ صوفیہ کی پیری مریدی زمانئہ رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں موجود تھیں ۔ چنانچہ طوالت سے بچنے کے لئے یہاں پر صرف چند حدیثوں کے تراجم نقل کرتے ہیں:
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے صحابہ کی ایک جماعت سے جو اس وقت حاضر تھی یہ فرمایا کہ تم لوگ مجھ سے بیعت کرو…!!! اس بات پر کہ خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھراؤگے…!!! اور چوری نہ کروگے…!!! اورزنانہ کروگے…!!! اور اہنی اولاد کو قتل نہ کروگے…!!! اور اپنے آپ سے گڑھ کرکسی پر بہتان نہ باندھوگے…!!! اور کسی حکم شریعت میں نافرمانی نہ کروگے…!!! تو ہم سب حاضرین صحابہ نے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے بیعت کی۔"
*🔰(بخاری و مسلم )*
حضرت عمروبن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے پیغمبر اعظم حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ عرض کیا کہ:
"یارسول اللہ…!!! صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنا دست مبارک پھلائیے…!!! میں آپ سے بیعت کروں گا۔ تو حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنا دست اقدس پھیلادیا ۔"
*🔰(مشکوۃ شریف )*
امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے عورتوں کی جماعت کے ساتھ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے بیعت کی ۔"
*(🔰مشکوۃ شریف )*
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے عورتوں کی بیعت کے تعلق سے فرمایا کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم "یآیھاالنبی اذا جاءک المؤمنت ۔"کی آیت سے عورتوں کا امتحان فرماتے تھےاور جو عورت اس آیت میں ذکر ہوئی باتوں کا اقرار کر لیتی تھی تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام اس سے فرمادیتے تھے کہ میں نے تجھ سے یہ بیعت لے لی ۔ یہ بذریعہ کلام ہوتی تھی ۔ خدا کی قسم…!!! کبھی حضور نے کسی عورت کے ہاتھ سے بیعت کے وقت نہیں لگا۔"
*🔰(بخاری شریف )*
یہ چاروں حدیثیں صراحۃ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مشائخ کی مروجہ" پیری مریدی" بلکہ طریقئہ بیعت بھی سب کچھ زمانئہ نبوی میں موجود و معمول تھا ۔ اور یقینا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بیعت اور مشائخ کی بیعت کی پیری مریدی میں سرمو فرق نہیں ۔
رہا آخری سؤال کا جواب…!!! تو وہ یہ ہے کہ شریعت، طریقت، درحقیقت دونوں ایک ہی سر چشمئہ نبوت کی دو نہریں ہیں جو اصل سے نکل کر ممتاز ہوگئی ہیں۔ اور شریعت ہی دراصل کھرے کھوٹے کی کسوٹی ہے۔
جیساکہ حضرت خواجہ بایزید بسطامی رضی اللہ تعالی عنہ کاارشاد ہے کہ:
*🔰"لو نظر تم الی رجل اعطی من الکرامات حتی یرتقی فی الھواء فلا تغیروا بہ حتی تنظروا کیف تجدونہ عند الامر والنھی و حفظ الحدود واداء الشریعۃ*
*🔰۔"(رسالہ قشیریہ صفحہ ۱۸ )*
یعنی، " اگر تم کسی مرد کو صاحب کرامات دیکھو…!!! یہاں تک کہ وہ ہوا میں اڑتا پھرتا ہو، پھر بھی تم اس پر فریفتہ نہ ہو جاؤ…!!! جب تک یہ نہ دیکھ لو…!!! کہ امر و نہی میں اور شریعت کو ادا کرنے میں تم اس کو کیسا پاتے ہو…!!! "
حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
*"محال است سعدی کہ راہ صفا تواں رفت جزبرپئے مصطفے خلاف پیمبر کسے رہ گزید کہ ہرگز بمنزل نہ خواہد رسید"*
یعنی، " اے سعدی…!!! یہ محال ہے کہ کوئی شخص بغیر مصطفے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی پیروی کے تصوف کے راستے پر چل سکے،جس نے پیغمبر کے خلاف راستہ اختیار کیا وہ کبھی ہر گز ( معرفت )کی منزل تک نہیں پہونچ سکے گا۔"جن لوگوں نے نماز و روزہ،حج و زکوۃ، اورتمام قیودشرعیہ سے یہ کہکر چھٹکارا حاصل کرلیا کہ: " میاں ہم تو اہل طریقت فقراء ہیں،ہم کوپابندی شریعت سے کیا مطلب? شریعت اور ہے طریقت اور ہے۔"
معاذاللہ تعالی…!!! ایسے مکاروں کےبارےمیں حضرت مولانارومی علیہ الرحمہ نے فرمایا:
*"کار شیطاں می کند نامش ولی*
*گرولی ایں است لعنت برولی۔"*
*واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب*
◆ــــــــــــــــ▪♦▪ــــــــــــــــ◆
*✍ازقلم؛حـضـرت عـلامـہ مـولانـا مـفـتـی جـعـفـر عـلـی صـدیـقـی صـاحـب قـبـلـہ مـدظلـہ العـالـی والـنـورانـی کـرلـوسـکـرواڑی.سـانـگلـی.مہـاراشـٹـر*
*بتاريخ، ۷ ذی القعدہ ٠۴۴١ھ*
*♦فخر اعلیٰ حضرت فقهى گروپ♦*
*رابطہ؛📞919918521953+*
◆ــــــــــــــــ▪♦▪ــــــــــــــــ◆
*✅الجواب' ھوالجواب واللہ ھوالمجیب المصیب المثاب*
*فقط محمد آفتاب عالم رحمتی مصباحی دہلوی خطیب و امام جامع مسجد مہا سمند (چھتیس گڑھ)*
◆ــــــــــــــــ▪♦▪ــــــــــــــــ◆
*🖥المشتــہر؛*
*اسیر حضور تاج الشریعہ*
*محمد عامل رضا قادری رضوی لکھیم پوری*
◆ــــــــــــــــ▪♦▪ــــــــــــــــ◆
Comments
Post a Comment