🌹محدث کو قران کریم چھونا کیسا🌹

 *🌹محدث کو قران کریم چھونا کیسا🌹*


*کیا فرما تے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں ۔کہ محدث کے تعلق سے قرآن مجیدیعنی عین مصحف۔ عین آیت۔ غیر مصحف میں عین آیت۔ مطلق غیر مصحف جس میں آیت ہو۔ چھو نے کے بارے میں کیا حکم ہے تفصیل بیان فرما کر  عنداللہ ماجور ہوں*


    ◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆


 *👇📝الـــجــــوابــــــــ👇 محدث کے لئے قرآن مجید یعنی عین مصحف یا عین*

*آیت چھونا حرام ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ "*


*📄لا يمسه الا المطهرون " اھ*


*📕( پ 27 سورہ واقعہ آیت 79 )*


*🏷اور فتاوی رضویہ میں ہے کہ "*

*محدث کو مصحف شریف چھونا حرام ہے خواہ اس میں صرف نظم قرآن عظیم مکتوب ہو یا اس کے ساتھ ترجمہ و تفسیر و رسم خط وغیرہ بھی کہ ان کے لکھنے سے نام مصحف زائل نہ ہوگا آخر اسے قرآن عظیم ہی کہا جائے گا ترجمہ یا تفسیر یا اور کوئی نام نہ رکھا جائے گا یہ زوائد قرآن عظیم کے توابع ہیں اور مصحف شریف سے جدا نہیں لہذا حاشیہ مصحف کی بیاض سادہ کو چھونا بھی ناجائز ہوا بلکہ پٹھوں کو بھی بلکہ چولی پر سے بھی بلکہ ترجمہ کو چھونا خود ہی ممنوع ہے اگرچہ قرآن مجید سے جدا لکھا ہو " اھ*


*📚 ( فتاوی رضویہ ج 1 ص 222 کتاب الطھارہ ، باب الغسل )*


*📿 اور فتاوی ہندیہ میں ہے کہ " منها حرمة مس المصحف لا يجوز لهما و للجنب والمحدث مس المصحف الا بغلاف متجاف عنه كالخريطة و الجلد الغير المشرز لا بما هو متصل به هو الصحيح هكذا فى الهدايه و عليه الفتوى كذا فى الجوهرة النيرة و الصحيح منع مس حواشى المصحف والبياض لا كتابة عليه هكذا فى التبيين " اھ*

*اسی میں ہے کہ " ولو كان القرآن مكتوبا بالفارسية يكره لهم مسه عند أبى حنيفة و كذا عندهما على الصحيح هكذا فى الخلاصة " اھ*


*📕( ج 1 ص 39 / 38 ، کتاب الطھارة ، فصل فی احکام الحیض و النفاس و الاستحاضة )*


*✨اور غیر مصحف جیسے تفسیر کی کتاب اسی طرح حدیث اور فقہ کی کتاب کو مس کرنا مکروہ تنزیہی ہے ناجائز نہیں ، لہذا بے وضو شخص تفسیر کی کتاب اسی طرح دیگر کتب دینیہ کو مس کر سکتا ہے بلا وضو ان کتابوں کو مس کرنا جائز ہے لیکن ان کتابوں میں جہاں آیت کریمہ لکھی ہو اس جگہ بے وضو ہاتھ لگانا ناجائز و حرام ہے اور افضل یہی ہے کہ ان کتابوں کو بھی بلاوضو مس نہ کرے جیسا کہ رد المحتار میں ہے کہ " وفى السراج عن الايضاح : ان كتب التفسير لا يجوز مس موضع القرآن منها ، وله أن يمس غيره وكذا كتب الفقه اذا كان فيها شئى من القرآن بخلاف المصحف فان الكل فيه تبع للقرآن " اھ*


*📕( ج 1 ص 286 ، کتاب الطھارة ، مطلب یطلق الدعاء علی ما یشمل الثناء )* 


*🌹واللہ اعلم بالصواب🌹*


    ◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆


*✍شرف قلم حضرت علامہ و مولانا کریم اللہ رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی*

*۳۰ نومبر بروز جمعہ ۲۰۱۸*


  *📞+917666456313*


    ◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆

*🌹فیضــــان غــــوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے🌹👇👇*


*+917800878771*

    ◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆

*🖥المـرتـــب گدائے اولیائے کرام* 

*محمــــــد ایــوب رضـا خان علوی*

    ◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟