جمعہ کے دن دو رکعت نمازپڑھ کر بھاگ جانے والو کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ھے

🕋: اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

حضور ایک سوال ھے کہ ۔جمعہ کے روز کچھ لوگ ۔دورکعت فرض پڑھ کر بھاگ جاتے ھیں تو شریعت کا ان لوگوں کے بارے میں کیا حکم ھے براے کرم تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرماٸیں بہت نوازش ھوگی 

محمد سرفراز قادری ایم پی

+91 87438 11087


: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ


 الجواب 


اگر ایسا بارہا کرتے ہیں تو ایسے لوگ گنہگار مستحق عذاب قہار ہیں, کہ سنت مؤکدہ کا تارک گناہگار فاسق مانا گیا ہے, اور بلاشبہ نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد چھ رکعت سنتیں ہیں جو کہ مؤکد ہے جس کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے, یہی مختار ہے جس کی تفصیل,


فتاویٰ رضویہ شریف جدید جلد (۸) ص (۲۹۲) مکتبہ دعوت اسلامی میں ملاحظہ فرمائیں, 


اور اگر گاؤں دیہات کی مسجد ہے جہاں کہ جمعہ فرض نہیں اگر پڑھتے ہیں تو فقہائے کرام نے روکنے کی ممانعت ظاہر کی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ظہر ساقط ہوگیا لہذا جہاں جمعہ کے شرائط مکمل نا ہوتے ہوں وہاں ظہر اذان و اقامت کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے ورنہ سب کے سب گنہگار ہوں گے 


فتاویٰ بحر العلوم جلد اول ص (۴۸۸) مکتبہ شبیر برادرز لاہور


 واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم و علمه جل مجدة أتم و أحكم


 محمد راشد مکی گرام ملک پور ضلع کٹیہار بہار ہند

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟