عورت جو حمل سے ھے ابھی بچہ باہر آیانہیں اس سے پہلے خون جو تھوڑا تھوڑا نکل رہا ہے تو کیا ایسی حالت میں وہ نماز پڑھ سکتی ہے یانہی
: السلام علیکم علمائے کرام سے میرا ایک سوال ہے کہ ایک خاتون ہیں جو حمل سے ابھی بچہ باہر آیانہیں اس سے پہلے خون جو تھوڑا تھوڑا نکل رہا ہے تو کیا ایسی حالت میں وہ نماز پڑھ سکتی ہے؟ جب تک باہر بچہ نہ آجائے ؟
مہربانی ہوگی اگر جلد جواب عنایت فرمادیں تو کیونکہ خون آرہا ہے اور ڈاکٹر کا کہنا ہے دو دن بھی لگ سکتا ہے ۔😒
سعود عطار قادری
وعليكم السلام الجواب
اس وضو جائے گا غسل فرض نہیں ہوگا یہ استحاضہ ہے نفاس نہیں البتہ وضو کرکے نماز ادا کریں
حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
بچہ پیدا ہونے سے پیشتر جو خون آیا نِفاس نہیں بلکہ اِستحاضہ ہے اگرچہ آدھا باہر آگیا ہو
(بحوالہ ؛ الفتاوی التاتارخانیۃ، کتاب الطہارۃ، نوع آخر في النفاس، ج ۱، ص ۳۹۳ /حوالہ بہار شریعت جلد اول حصہ دوم نفاس کا بیان مطبوعہ مکتبہ مدینہ)
اور اگر اِستحاضہ اس حد تک پہنچ گیا کہ اس کو اتنی مہلت نہیں ملتی کہ وُضو کرکے فرض نماز ادا کر سکے تو نماز کا پورا ایک وقت شروع سے آخر تک اسی حالت میں گزر جانے پر اس کو معذور کہا جائیگا ،ایک وُضو سے اس وقت میں جتنی نمازیں چاہے پڑھے، خون آنے سے اس کا وضو نہ جائے گا۔
اگر کپڑا وغیرہ رکھ کر اتنی دیر تک خون روک سکتی ہے کہ وُضو کرکے فرض پڑھ لے تو عذر ثابت نہ ہوگا
معذور کا وُضو اس چیز سے نہیں جاتا جس کے سبب معذور ہے،ہاں اگر کوئی دوسری چیز وُضو توڑنے والی پائی گئی تو وُضو جاتا رہا۔ مثلاً جس کو قطرے کا مرض ہے، ہوا نکلنے سے اس کا وُضو جاتا رہے گا اور جس کو ہوا نکلنے کا مرض ہے، قطرے سے وُضو جاتا رہے گا۔
معذور کو ایسا عذر ہے جس کے سبب کپڑے نجس ہو جاتے ہیں تو اگر ایک درم سے زِیادہ نجس ہو گیا اور جانتا ہے کہ اتنا موقع ہے کہ اسے دھو کر پاک کپڑوں سے نماز پڑھ لوں گا تو دھو کر نماز پڑھنا فرض ہے اوراگر جانتا ہے کہ نماز پڑھتے پڑھتے پھر اتنا ہی نجس ہو جائے گا تو دھونا ضروری نہیں اُسی سے پڑھے اگرچہ مصلیٰ بھی آلودہ ہو جائے کچھ حَرَج نہیں اور اگر درہم کے برابر ہے تو پہلی صورت میں دھونا واجب اور درہم سے کم ہے تو سنّت اور دوسری صورت میں مطلقاً نہ دھونے میں کوئی حَرَج نہیں ۔
اِستحاضہ والی اگر غُسل کرکے ظہر کی نماز آخر وقت میں اورعصر کی وُضو کرکے اول وقت میں اور مغرب کی غُسل کرکے آخر وقت میں اور عشاء کی وُضو کرکے اوّل وقت میں پڑھے اور فجر کی بھی غُسل کرکے پڑھے تو بہتر ہے اور عجب نہیں کہ یہ ادب جو حدیث میں ارشاد ہوا ہے اس کی رعایت کی برکت سے اس کے مرض کو بھی فا ئدہ پہنچے
(حوالہ ؛ المرجع السابق؛ استحاضہ کے احکام)
والله اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم
*✍:- ابــو حنـــیـــفـــہ محـــمـــد اکـبــــر اشــرفــی رضـوی، مانـخـــورد مـــمـــبـــئـــی*
Comments
Post a Comment