عالم صاحب سے غیر محرم عورت یا لڑکی تعلیم سیکھ سکتی ھے یا نہی
🔹مرد معلم سے بالغہ لڑکیوں کو قرآن و حدیث کی تعلیم سیکھنے کا حکم؛🔹
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آج کے اس دور میں بالغہ لڑکیوں کے مدارس جہاں دینی تعلیم دی جاتی ہے کھل رہے ہیں ان مدارس میں جہاں معلمات کا انتظام و انصرام ہوتا ہے وہاں ضرورت پڑنے پر مرد علماء وہ بھی جوان کا تقرر بھی کیا جاتا ہے
دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا کوئی ایسی صورت ہے کہ مرد معلم بالغہ لڑکیوں کو قرآن و حدیث کی تعلیم دے؟
واضح رہے کہ بالغہ لڑکیا جو علم دین حاصل کرتی ہیں وہ مکمل شرعی پردہ میں ہوتی ہیں لیکن بوقت ضرورت وہ استاذ گرامی سے کلام بھی کرتی ہیں۔
سائل؛ محمد حسن اشرفی الجامعی
◆ــــــــــــــــــ▫🔹▫ــــــــــــــــــ◆
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
📝الجواب بعون الملک الوھاب؛
صورت مسٶلہ میں اصل مسٸلہ عورت کی آواز کا ہے تو اسکے متعلق فقہاۓ کرام فرماتے ہیں کہ عورت کی آواز بھی عورت ہے تو عورت پر لازم ہوا کہ اپنی آواز کا بھی پردہ کرے
یعنی اجنبی شخص کی سماعت تک نہ جانے دے ورنہ ایک فعل حرام کا ارتکاب کرنے والی ہوگی جیسا کہ متعدد کُتُب سے ظاہر ہے
لیکن فقہ کا بہت مشہور قاعدہ ہے الضرورات تبیح المحظورات
📗{ عامہ کتب فقہ }
کہ وقتِ ضرورت بہت سے ناجاٸز امور جاٸز ہو جاتے ہیں
اب دینی تعلیم بھی ایک امرِ ضروری ہے اس لیے چند شراٸط کی روشنی میں ایک اجنبی مرد سے عورت کو تعلیم سیکھنے کی بھی رخصت دی جاۓ گی
کہ اندیشہ فتنہ نہ ہو خلوت نہ ہو پردے کی آڑ سے ہو غرض کے کسی طرح کا کوٸ فتنہ نہ ہو تو ایسی صورت میں بلا شبہ مشروع ہے
جیسا کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ و الرضوان ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ
وقت ضرورت خلوت نہ ہو اندیشہ فتنہ نہ ہو تو پردے کی اندر سے بعض نامحرم سے بھی اھ
یعنی بعض نامحرم سے بھی گفتگو کرنا جاٸز ہے
اب یہاں سے آواز کے جواز کی صورت سامنے آئی جو اصل مبدا ہے حکم حلت و حرمت کا
📕(فتاوی رضویہ ج ١٠ قسط اول ص ١٦١ مکتہ ایوان رضا)
نیز حضرت مفتی عبد المنان اعظمی علیہ الرحمتہ نے تو صراحت کے ساتھ بیان فرمایا کہ بیشک عورت کی آواز عورت ہے مگر ضرورة اجنبی مرد کی آواز سن بھی سکتی ہے اور اسکو سنا بھی سکتی ہے اور قرآن کی تعلیم ایک دینی ضرورت ہے۔ ایک عورت برقعہ کے اندر ہو اور اسکا جسم چھپا ہو اور ایسا انتظام ہو کہ استاذ سے کسی فتنہ کا ڈر نہ ہو تو قرآن سیکھنے میں یا دینی مساٸل جاننے میں حرج نہیں
📗(فتاویٰ بحر العلوم ج اول ص ٣٨٦)
الحاصل: اگر کسی طرح کا کوئی فتنہ نہ ہو تو اجنبی مرد سے ایک اجنبیہ عورت دینی تعلیم حاصل کر سکتی ہے
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب؛
◆ــــــــــــــــــ▫🔹▫ــــــــــــــــــ◆
📝کتبہ" حضرت علامہ مولانا محمد مشاہد رضا حشمتی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی
صدر شعبئہ جامعتہ ریاض الجنتہ رام پور کیمری
مورخہ - ١٦ / ربیع الاول ١٤٤١ھ
◆ــــــــــــــــــ▫🔹▫ــــــــــــــــــ◆
✅ الجواب صحیح و المجییب نجیح حضرت علامہ و مولانا خلیفۓ تاج الشریعہ شمس الحق مصباحی قبلہ مد ظلہ العالی و النورانی
✅الجواب صحیح و صواب
حضرت علامہ مفتی محمد رضا امجدی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی
دار العلوم چشتیہ رضویہ کشن گڑھ اجمیر شریف المتوطن ھر پوروا باجپٹی سیتا مڑھی بھار
✅الجواب صحیح والمجیب نجیح غلام شمس ملت حضرت مولانا محمد سلطان رضا شمسی صاحب قبلہ مد ظلہ العالى والنورانى خادم کشمیری جامع مسجد کاٹھمانڈوں نیپال
✅الجواب صحیح والمجیب نجیح العبد العثيم حضرت علامہ مولانا محمد معصوم رضا نوری صاحب قبلہ مد ظلہ العالى والنورانى مقیم حال منگلور كرناٹكا (الھند)
✅الجواب صحيح والمجيب نجيح فقط محمد عطاء اللہ النعیمی خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان) کراچی
✅الجواب صحیح والمجیب نجیح اسرار احمد نوری بریلوی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ
◆ــــــــــــــــــ▫🔹▫ــــــــــــــــــ◆
المشتہر؛اسیرحضورتاج الشریعہ
احقر العباد العبد الاثیم خاكسار
غلام احمد رضا نوری
◆ــــــــــــــــــ▫🔹▫ــــــــــــــــــ◆
Comments
Post a Comment