جھونٹ بولنا کن صورتوں میں جاٸز ھے
اسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کن کن جگہوں پر جھوٹ بولنا جائز ہے اور کن کن جگہوں پر غیبت کرنا جائز ہے ؟ حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی ۔
سائل : محمد عباس اشرفی کچھوچھہ شریف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* تین صورتوں میں جھوٹ بولنا جائز ہے یعنی اس میں گناہ نہیں جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے کہ " والكذب محظور الا فى القتال للخدعة و فى الصلح بين اثنين وفى أرضاء الأهل و فى دفع الظالم عن الظلم " اھ ( فتاوی عالمگیری ج 5 ص 352 : کتاب الکراهیة ، الباب السابع عشر فى الغناء ) اور علامہ علاء الدین الحصکفی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ " الكذب مباح لاحياء حقه ودفع الظلم عن نفسه والمراد التعريض لان عين الكذب حرام قال وهو الحق قال تعالى " قتل الخراصون " الكل عن المجتبى وفى الوهبانية قال و للصلح جاز الكذب أو دفع ظالم وأهل لترضى والقتال ليظفروا " اھ یعنی جھوٹ حرام ہے اور یہی حق ہے البتہ اپنے حق کے اظہار اور احیاء کے لئے یا اپنی ذات کو ظلم و نقصان سے بچانے کے لئے جھوٹ سے کام لینا مباح ہے بشرطیکہ جھوٹ بصورت تعریض یعنی اشارہ کنایہ یا ذو معانی الفاظ میں ہو اس لئے صریح جھوٹ حرام ہے ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ " مارے جائیں اٹکل پچو سے کام لینے والے ۔ یہ سب " المجتبی " سے منقول ہے اور وہبانیہ میں فرمایا : صلح یا دفع ظلم کے لئے جھوٹ بولنا جائز ہے بیوی کی رضا جوئی کے لئے اور جنگ میں حوصلہ افزائی کے لئے بھی جھوٹ بولنا مباح ہے " اھ ( در مختار ج 2 ص 605 : كتاب الحظر و الاباحة ، دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " تین صورتوں میں جھوٹ بولنا جائز ہے یعنی ا س میں گناہ نہیں ۔ ایک جنگ کی صورت میں کہ یہاں اپنے مقابل کو دھوکا دینا جائز ہے ، اسی طرح جب ظالم ظلم کرنا چاہتا ہو اس کے ظلم سے بچنے کے لیے بھی جائز ہے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دو مسلمانوں میں اختلاف ہے اور یہ ان دونوں میں صلح کرانا چاہتا ہے ، مثلاً ایک کے سامنے یہ کہدے کہ وہ تمھیں اچھا جانتا ہے ، تمھاری تعریف کرتا تھا یا اس نے تمھیں سلام کہلا بھیجا ہے اور دوسرے کے پاس بھی اسی قسم کی باتیں کرے تاکہ دونوں میں عداوت کم ہوجائے اور صلح ہوجائے ۔ تیسری صورت یہ ہے کہ بی بی کو خوش کرنے کے لئے کوئی بات خلاف واقع کہدے " اھ ( بہار شریعت ج 3 ص 517 : جھوٹ کا بیان )
کن صورتوں میں غیبت کرنا جائز ہے ۔
کسی شخص کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی، غلطی یا عیب کو بیان کرنا غیبت نہیں ہے، بلکہ بعض مواقع ایسے بھی ہوتے جہاں علماء کرام نے غیبت کو غیبت نہیں کہا ہے، ان مقامات کو امام نووی رحمہ اللہ نے مسلم شریف کی شرح میں اور فقہ حنفی کے مشہور و معروف فقیہ علامہ شامی رحمہ اللہ نے اپنے فتاوی میں ذکر فرمایا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں :
1) ظلم کو دور کرنے کے لئے کسی ایسے شخص کے سامنے غیبت کرنا جو ظلم کو دور کرنے پر قادر ہو ۔
2) تغییرِ منکر کی نیت سے قدرت رکھنے والوں کے سامنے غیبت کرنا ۔
3) شرعی حکم معلوم کرنے کے لیے مفتی کے سامنے غیبت کرنا، لیکن نام کو مبہم رکھنا بہتر ہے ۔
4) کسی کے شر سے بچانے کے لیے اس کی غیبت کرنا جیسے گواہ اور راویوں پر جرح کرنا ۔
5) علانیہ گناہ کرنے والوں کی غیبت کرنا، البتہ صرف اسی گناہ کا تذکرہ جائز ہے جو وہ علانیہ کرتے ہیں، مخفی گناہوں کا ذکر جائز نہیں ۔
6) تعارف کی غرض سے کسی کے عیب کو ذکر کرنا جیسے کانا ، بھینگا وغیرہ، یہ اس صورت میں جائز ہے کہ اس کے بغیر تعارف ناممکن یا مشکل ہو۔
جیسا کہ در مختار مع رد المحتار میں ہے کہ " إذا کان الرجل یصوم و یصلي ویضر الناس بیدہ ولسانه فذکرہ بما فیه لیس بغیبة وکذا لا إثم علیه لو ذکر مساوى أخیه علی وجه الاھتمام لا یکون غیبة ، فتباح غیبة مجھول و متظاھر بقبیح و لمصاھرة و لسوء اعتقاد تحذیرًا منه ولشکوی ظلامته " اھ ( تتمة ) " يزاد على هذه الخمسة ستة أخرى مر منها فى المتن ثنتان ، الأولى : الاستعانة بمن له قدرة على زجره ، الثانية : ذكره على وجه الاهتمام ، الثالثة : الاستفتاء قال في تبيين المحارم : بأن يقول للمفتى ظلمنى فلان كذا و كذا وما طريق الخلاص ، و الأسلم أن يقول ما قولك فى رجل ظلمه أبوه أو ابنه أو أحد من الناس كذا و كذا ولكن التصريح مباح بهذا القدر اهـ لأن المفتى قد يدرك مع تعيينه ما لا يدرك مع إبهامه كما قاله ابن حجر ، وقد جاء فى الحديث المتفق عليه أن هند امرأة أبى سفيان رضى الله تعالى عنها قالت للنبى صلى الله عليه وسلم : إن أبا سفيان رجل شحيح وليس يعطيني ما يكفيني وولدي إلا ما أخذت منه، وهو لايعلم قال: خذي ما يكفيك وولدك بالمعروف " الرابعة : بيان العيب لمن أراد أن يشترى عبداً ، وهو سارق أو زان فيذكره للمشترى ، وكذا لو رأى المشترى يعطى البائع دراهم مغشوشة فيقول : احترز منه بكذا ، الخامسة : قصد التعريف كأن يكون معروفاً بلقبه كالأعرج والأعمش و الأحول
Comments
Post a Comment