میت کو سرمہ لگانا؟ نیز عمامہ باندھنا کیسا ہے؟
🌹🌹🌹🌹♻️♻️♻️🌹🌹🌹🌹
🌹•┈┈❍﷽❍┈┈•🌹
♻️♻️♻️♻️🕹🕹🕹♻️♻️♻️♻️
****************************************
میت کو سرمہ لگانا؟ نیز عمامہ باندھنا کیسا ہے؟
📿السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ📿
_****************************************_
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ہٰذا میں کہ👇
میت کو سرمہ لگانا کیسا ہے؟ نیز عمامہ باندھنا کیسا ہے؟
💢قرآن و احادیث کی روشنی میں مفصل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی
_****************************************_
💢سائل💢تــــــوصـیـف رضــا کارنجوی مہاراشٹر
💢گروپ💢محفل غلامان مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم گروپ
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
_****************************************_
*وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ*
*📝الجواب بعون الملک الوہاب ⇩*
**************************************
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
میت کو سرمہ لگانا عند الشرع فعل عبث ہے کیونکہ میت کو نہ زینت کی ضرورت ہے،نہ آنکھوں کی حفاظت کی ضرورت ہے۔اور مرنے کے بعد میت زینت سے بے نیاز ہوچکا یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے لکھا ہے کہ بالوں میں کنگھی نہ کی جائے بال اورناخن نہ کاٹے جائیں۔
البحرالرائق میں ہے:( قوله : ولايسرح شعره ولحيته ، ولايقص ظفره وشعره ) ؛ لأنها للزينة ، وقد استغنى عنها، والظاهر أن هذا الصنيع لايجوز. قال في القنية: أما التزين بعد موتها والامتشاط وقطع الشعر لايجوز، والطيب يجوز". (5/278)
حضرت العلام مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث مبارکہ
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا مَنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ وَمِنْ خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ فَإِنَّهُ يُنْبِتُ الشّعْر ويجلوا الْبَصَر» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ۔ یعنی روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفیدکپڑے پہنوکیونکہ یہ تمہارے تمام کپڑوں سے بہتر ہیں اور اسی میں اپنے مُردوں کو کفن دو ۱؎ اور بہتر سرمہ اثمد ہے کہ وہ بال اگاتا ہے نگاہ تیزکرتا ہے۲؎ (ابو داؤد،ترمذی)ابن ماجہ نے موتاکم تک روایت کی۔،،کے تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں کہ:یہاں سرمہ سے زندوں کا سرمہ مراد ہے کیونکہ مردے کو سرمہ لگانا سنت نہیں۔،،
مراۃالمناجیح ج ۲ ص ۴۴۲ باب غسل المیت وتکفینہ الفصل الثانی
اورعمدة المحققین حضرت علامہ مفتی حبیب اللہ نعیمی رحمة اللہ تعالی حبیب الفتاوی میں فرماتے ہیں کہ " میت کو غسل دینے کے بعد سرمہ لگانا نہ چاہئے چونکہ میت کو نہ زینت کی ضرورت ہے نہ آنکھوں کی حفاظت کی حاجت ہے لہذا یہ فعل عبث ہے سرمہ میت کو ہرگز نہ لگایا جائے " اھ*
( حبیب الفتاوی ج 1 ص ۶۰۳ : کتاب الصلوة ، باب الجنائز )
مذکورہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ میت کو سرمہ لگانا عند الشرع فعل عبث ہے
اور رہی بات عمامہ باندھنے کے متعلق تو حکم شرعی یہ ہے کہ عمامہ باندھنا صرف اور صرف علماء کرام مشائخ عظام اور سادات کرام کے لئے جائز و مستحسن ہے
عوام الناس کو مکروہ تنزیہی ہے کیونکہ متاخرین علماء کرام نے علماء و مشائخ کو عمامہ کے ساتھ دفن کرنے کو جائز و مُسْتَحْسَن فرمایا ہے، لیکن عام لوگوں کو عمامہ شریف پہنا کر دفنانا مکروہ تنزیہی ہی ہے۔
سنن بیہقی میں ہے : ’’عَنْ نَافِعٍ قَالَ : اِنَّ اِبْنًا لِعَبْدِ اللّٰہ بْنِِ عُمَرَ مَات فَکَفَّنَہُ اِبْنُ عُمَرَ فِی خَمْسَۃِ اَثْوَابٍ عِمَامَۃٍ وَقَمِیصٍ وَثَلَاثِ لَفَائِفَ‘‘ سید نانافع رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ ابن عمر رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہ کے صاحبزادے کا انتقال ہوا تو آپ نے اسے پانچ کپڑوں میں کفن دیا، عمامہ ، قمیص،تین چادریں۔(السنن الکبریٰ للبیھقی، کتاب الجنائز، باب جواز التکفین فی القمیص الخ، ۳/ ۵۶۵، حدیث : ۶۶۸۹)
حضرت علا مہ احمد بن محمد الطحطاوی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ حاشیہ طحطاوی میں فرماتے ہیں :’’ تُکْرَہُ العِمَامَۃُ لِاَنَّھَا لَمْ تَکُنْ فِیْ کَفَنِ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم وَعَلَّلَھَا فِی الْبَدَائِع لِاَنَّھَا لَوْ فُعِلَتْ لَصَارَالکَفَنُ شَفْعًا وَالسَّنَۃُ اَنْ یَّکُوْنَ وِتْرًا وَاسْتَحْسَنَھَا بَعْضُھُمْ وَھُمْ مُتَاَ خِّرُوْنَ وَخَصَّہٗ فِیْ الظَّہِیْرِیۃِ بِالْعُلَمَاءِ وَالْاَشْرَافِ دُوْنَ الْاَوْسَاطِ یعنی (کفن میں )عمامہ ہونا مکروہ ہے اس لئے کہ یہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے کفن مبا رک میں نہ تھااور بدائع الصنائع میں اس کی یہ وجہ بیا ن کی گئی ہے کہ اگر کفن میں عمامہ ہو تو وہ جُفت ہو جائے گا اور سنّت طاق ہونا ہے ۔اور بعض متا خرین ائمہ کرام نے اسے مُسْتَحْسَن قرار دیا ہے ظَہِیرِیہ میں ہے کہ یہ مُسْتَحْسَن ہونا علما ء واشراف کیلئے ہے نہ کہ عوام کیلئے ۔ ‘‘ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، کتاب الصلاۃ ، باب احکام الجنائز، ص ۵۷۷)
طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے : ’’فَالسُّنَّۃُ ھِیَ الثَّلَاثُ وَمُخَالَفَتُھَا تَکْرَہُ تَنْزِیْہًا‘‘ یعنی مرد کے لئے کفن میں سنّت تین کپڑے ہیں اس کی مخالفت مکروہِ تنزیہی ہے ۔(حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار، کتاب الصلٰوۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ۱/ ۳۶۹)
ملک العلماء علامہ ابو بکر بن سعود کاسانی(۵۸۷ھ)لکھتے ہیں:
و استحسنہ بعض مشائخنا لحدیث ابن عمر : [ انہ کان یعمم المیت و یجعل ذنب العمامۃ علی وجھہ ](البدائع و الصنائع،کتاب الصلوۃ،باب وجوب التکفین،۲/۳۷،مطبوعہ،بیروت لبنان)
’’اور بعض مشائخ نے کفن میں عمامہ کو مستحسن جانا ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھما کی حدیث کی وجہ سے کہ آپ میت کو عمامہ باندھتے تھے اور عمامہ کے شملہ کو اس کے چہرے کی طرف کر دیا کرتے تھے ‘‘
علامہ کمال الدین ابن الھمام لکھتے ہیں:
و استحسنھا بعضھم لما روی عن ابن عمر انہ کان یعممہ(فتح القدیر شرح الھدایۃ،۲/ ۱۱۴،دار الفکر ،بیروت)
’’اور بعض فقہاء نے کفن میں عمامہ کو مستحسن جانا ہے اس لیے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ وہ میت کو عمامہ باندھتے تھے‘‘
علامہ عالم بن علاء انصاری دھلوی(۷۸۶ھ)لکھتے ہیں:
و ھل یعمم الرجل ؟ اختلف المشائخ رحمھم اللہ ،منھم من قال:یعمم لان ابن عمر رضی اللہ عنمھما اوصی بہ ،و فی الخانیۃ:و استحسن المتاخرون العمامۃ و ھو مروی عن عمر رضی اللہ عنہ و بہ اخذ مالک (الفتاوی التاتارخانیۃ،۲/ ۱۴۶،مطبوعہ،کراچی پاکستان)
’’اور کیا مرد میت کو عمامہ باندھا جائے؟مشائخ علیھم الرحمہ کا اس بارے میں اختلاف ہے ،بعض یہ کہتے ہیں کہ عمامہ باندھا جائے ان کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھما نے اس بات کی وصیت فرمائی تھی،اور فتاوی قاضی خان میں ہے :اور متاخرین نے عمامہ کو مستحسن جانا اور یہ ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور اسی قول کو امام مالک نے لیا ہے ‘‘
لیکن فقہاء کرام نے اس باب میں اس بات کی تصریح کی ہے کہ کفن میں عمامہ صرف علماء کرام و مشائخ عظام و سادات کے لیے جائز اور ان کے ساتھ خاص ہے چنانچہ علامہ شمس الدین محمد بن عبد اللہ تمرتاشی(۱۰۰۴ھ)لکھتے ہیں:و استحسنھا المتاخرون للعلماء و الاشراف’’اور متاخرین نے علماء اور سادات کے لیے کفن میں عمامہ کو مستحسن جانا ہے ‘‘(تنویر الابصار ،مع الدر المختار،۳ /۱۱۲،مطبوعہ،بیروت،لبنان)
علامہ شیخ نظام الدین حنفی لکھتے ہیں:و فی الفتاوی: استحسنھا المتاخرون لمن کان عالما،’’اور فتاوی میں ہے متاخرین نے عالم کے لیے کفن میں عمامہ کو مستحسن جانا ہے‘‘(الفتاوی الھندیۃ،۱/ ۱۷۶،مطبوعہ بیروت لبنان)
علامہ حسن بن عمار شرنبلالی (۱۰۶۹ھ) متنا،اور علامہ سید احمد طحطاوی (۱۲۳۱ھ) شرحالکھتے ہیں: قولہ(و استحسنھا بعضھم) وھم المتاخرون ،و خصہ فی الظھیریۃ بالعلماء ،و الاشراف دون الاوساط کما فی النھر و غیرہ(نور الایضاح،مراقی الفلاح،مع الحاشیۃ،/ ۵۷۸،دار الکتب العلمیۃ،بیروت،لبنان، و مثلہ فی النھر الفائق،۱/ ۳۸۶،دار الکتب العلمیۃ،بیروت لبنان)
’’اور متاخرین نے علماء اور سادات کے لیے عمامہ کو مستحسن جانا ہے یہ عوام کے لیے نہیں ایسا ہی نھر وغیرہ میں ہے ‘‘
علامہ عمر بن ابراھیم حنفی(۱۰۰۵ھ) لکھتے ہیں:و فی السراج اذا کان من الاوساط فلا یعمم’’اور سراج میں ہے کہ عوام کو کفن میں عمامہ نہ باندھا جائے‘‘ (النھر الفائق،۱/ ۳۸۶،دار الکتب العلمیۃ،بیروت لبنان)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی لکھتے ہیں:’’اور کفنی میں عمامہ علماء و مشائخ کے لیے جائز عوام کے لیے مکروہ‘‘(فتاوی امجدیہ،۱/ ۳۶۷،مکتبہ رضویہ،کراچی)
ان تمام عبارات سے یہ باتیں معلوم ہوئیں کہ اسلاف میں حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنھما میت کو عمامہ باندھتے تھے ،اور انہوں نے اس کی وصیت بھی فرمائی تھی ،نیز امام مالک کا یہ ہی مذھب ہے ،اور کفن میں عمامہ صرف علماء و مشائخ کے لیے جائز ہے ،اور عوام کے لیے مکروہ
_****************************************_
*(🌺واللہ اعلم بالصواب🌺)*
_****************************************_
*✍ کتبہ: جلال الدین احمد امجدی رضوی ارشدی نائےگائوں ضلع ناندیڑ مہاراشٹرا الھند
بتاریخ ۵ربیع الآخر ۱۴۴۲ ھجری مطابق ۲۱/ نومبر بروز ہفتہ ۲۰۲۰ عیسوی
*( موبائل نمبر 📞8390418344📱)*
_*************************************
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
Comments
Post a Comment