مسجدمیں قالین/گرم کارسیٹ/گدےبچھانااوران پرنمازپڑھناکیسا؟🌺
🌺مسجدمیں قالین/گرم کارسیٹ/گدےبچھانااوران پرنمازپڑھناکیسا؟🌺
👇👇👇👇👇
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں سردیوں کے دنوں میں مسجد میں چٹائی کے اوپر گرم کارسیٹ پوری چٹائی پر بچھانا کیسا ہے اور پوری چٹائی پر گدا بچھانا کیسا ہے۔
سائل۔۔۔ناظر رضا صادق پور
✨✨✨✨✨
الجواب: مسجدمیں بچھانےمیں توحرج نہیں،البتہ اصل مسئلہ یہ ہےکہ اس پرنمازہوگی یانہیں؟
وہ گرم کارسیٹ اگرایساہوکہ بوقت سجدہ ناک اس پرجم جائےکہ دبانےسےنہ دبےیعنی ہڈی تک دب جائےتونمازدرست ہےورنہ اگراس میں کمی ہوتونمازمکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی،اورگدےکاحکم آنےوالی عبارت سےواضح ہے۔بہار شریعت میں ہے:
مسئلہ ۳۶: کسی نرم چیز مثلاً گھاس، روئی، قالین وغیرہا پر سجدہ کیا تو اگر پیشانی جم گئی یعنی اتنی دبی کہ اب دبانے سے نہ دبے تو جائز ہے، ورنہ نہیں ۔ (1) (عالمگیری) بعض جگہ جاڑوں میں مسجد میں پیال (2) بچھاتے ہیں ، ان لوگوں کو سجدہ کرنے میں اس کا لحاظ بہت ضروری ہے کہ اگر پیشانی خوب نہ دبی، تو نماز ہی نہ ہوئی اور ناک ہڈی تک نہ دبی تو مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوئی، کمانی دار (3) گدّے پر سجدہ میں پیشانی خوب نہیں دبتی لہٰذا نماز نہ ہوگی، ریل کے بعض درجوں میں بعض گاڑیوں3 میں اسی قسم کے گدّے ہوتے ہیں اس گدّے سے اتر کر نماز پڑھنی چاہیے۔(بہارشریعت)
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
کتبہ:عدیل احمد قادری رضوی
Comments
Post a Comment