*شادی کارڈ کے لئے چند خوبصورت اشعار کا مجموعہ
*شادی کارڈ کے لئے چند خوبصورت اشعار کا مجموعہ*
________________
Maa baap ki aankhon ka Tara Hu me
Sehra band ke ja Raha Hu me
Dost Dil se dua Karna
Chand ka tukda Lene ja Raha Hu me
Aie beti teri doli ko hum apne hatho se sajaa rahe hai
Aur teri yado ko palko se baharhe hai
Na rona Aie beti tere jane ka gum hume bhi hai
Khushi hai Ke Nabi ki sunnat nibha rahe hai
Door Kahin Baagon Se Bhanwra Ek Aaya Hai
Mehakte Huye Gulab Sa paigam Saath Laya Hai
Baj Rahe Hain Dhol Aur Goonj Rahi Shehnaiyan
Shadi Hai Aaj Aapki Aapko Ho Badhaiyan
Umeedon Ka Daman Sajaye Rakhna
Dheron Khushiyan Saath Rakhna
Aa Rahe Hain Lene Tum Ko
Doli Tum Sajaye Rakhna
शादी करो तो ऐसी सादगी के साथ
जैसे अली का निकाह हुआ था फातिमा के साथ।।
آپ آئے تو بہاروں نے لٹائی خوشبو
پھول تو پھول تھے کانٹوں سے بھی آئی خوشبو
آپ آئے ہیں سو اب گھر میں اجالا ہے بہت
کہیے جلتی رہے یا شمع بجھا دی جائے
آیا یہ کون سایۂ زلف دراز میں
پیشانئ سحر کا اجالا لیے ہوئے
بجھتے ہوئے چراغ فروزاں کریں گے ہم
تم آؤگے تو جشن چراغاں کریں گے ہم
پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے
پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت
تم آ گئے تو چمکنے لگی ہیں دیواریں
ابھی ابھی تو یہاں پر بڑا اندھیرا تھا
تم آ گئے ہو تو اب آئینہ بھی دیکھیں گے
ابھی ابھی تو نگاہوں میں روشنی ہوئی ہے
تم آ گئے ہو خدا کا ثبوت ہے یہ بھی
قسم خدا کی ابھی میں نے تم کو سوچا تھا
تم آ گئے ہو، تو کچھ چاندنی سی باتیں ہوں
زمیں پہ چاند کہاں روز روز اترتا ہے
تم جو آئے ہو تو شکل در و دیوار ہے اور
کتنی رنگین مری شام ہوئی جاتی ہے
خوش آمدید وہ آیا ہماری چوکھٹ پر
بہار جس کے قدم کا طواف کرتی ہے
رونق بزم نہیں تھا کوئی تجھ سے پہلے
رونق بزم ترے بعد نہیں ہے کوئی
ساقی شراب جام و سبو مطرب و بہار
سب آ گئے بس آپ کے آنے کی دیر ہے
سنتا ہوں میں کہ آج وہ تشریف لائیں گے
اللہ سچ کرے کہیں جھوٹی خبر نہ ہو
سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی
تم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گی
شجر نے لہلہا کر اور ہوا نے چوم کر مجھ کو
تری آمد کے افسانے سنائے جھوم کر مجھ کو
شکریہ تیرا ترے آنے سے رونق تو بڑھی
ورنہ یہ محفل جذبات ادھوری رہتی
صحن چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا
وہ آ گئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے
فریب جلوہ کہاں تک بروئے کار رہے
نقاب اٹھاؤ کہ کچھ دن ذرا بہار رہے
قدم قدم پہ بچھے ہیں گلاب پلکوں کے
چلے بھی آؤ کہ ہم انتظار کرتے ہیں
گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
محفل میں چار چاند لگانے کے باوجود
جب تک نہ آپ آئے اجالا نہ ہو سکا
مدتوں بعد کبھی اے نظر آنے والے
عید کا چاند نہ دیکھا تری صورت دیکھی
وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود
آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا
ہر گلی اچھی لگی ہر ایک گھر اچھا لگا
وہ جو آیا شہر میں تو شہر بھر اچھا لگا
یہ انتظار کی گھڑیاں یہ شب کا سناٹا
اس ایک شب میں بھرے ہیں ہزار سال کے دن
یہ زلف بردوش کون آیا یہ کس کی آہٹ سے گل کھلے ہیں
مہک رہی ہے فضائے ہستی تمام عالم بہار سا ہے
یہ کس زہرہ جبیں کی انجمن میں آمد آمد ہے
بچھایا ہے قمر نے چاندنی کا فرش محفل میں
________________
________________
آپ آئے تو بہاروں نے لٹائی خوشبو
پھول تو پھول تھے کانٹوں سے بھی آئی خوشبو
آپ آئے ہیں سو اب گھر میں اجالا ہے بہت
کہیے جلتی رہے یا شمع بجھا دی جائے
آیا یہ کون سایۂ زلف دراز میں
پیشانئ سحر کا اجالا لیے ہوئے
بجھتے ہوئے چراغ فروزاں کریں گے ہم
تم آؤگے تو جشن چراغاں کریں گے ہم
پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے
پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت
تم آ گئے تو چمکنے لگی ہیں دیواریں
ابھی ابھی تو یہاں پر بڑا اندھیرا تھا
تم آ گئے ہو تو اب آئینہ بھی دیکھیں گے
ابھی ابھی تو نگاہوں میں روشنی ہوئی ہے
تم آ گئے ہو خدا کا ثبوت ہے یہ بھی
قسم خدا کی ابھی میں نے تم کو سوچا تھا
تم آ گئے ہو، تو کچھ چاندنی سی باتیں ہوں
زمیں پہ چاند کہاں روز روز اترتا ہے
تم جو آئے ہو تو شکل در و دیوار ہے اور
کتنی رنگین مری شام ہوئی جاتی ہے
خوش آمدید وہ آیا ہماری چوکھٹ پر
بہار جس کے قدم کا طواف کرتی ہے
رونق بزم نہیں تھا کوئی تجھ سے پہلے
رونق بزم ترے بعد نہیں ہے کوئی
ساقی شراب جام و سبو مطرب و بہار
سب آ گئے بس آپ کے آنے کی دیر ہے
سنتا ہوں میں کہ آج وہ تشریف لائیں گے
اللہ سچ کرے کہیں جھوٹی خبر نہ ہو
سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی
تم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گی
شجر نے لہلہا کر اور ہوا نے چوم کر مجھ کو
تری آمد کے افسانے سنائے جھوم کر مجھ کو
شکریہ تیرا ترے آنے سے رونق تو بڑھی
ورنہ یہ محفل جذبات ادھوری رہتی
صحن چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا
وہ آ گئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے
فریب جلوہ کہاں تک بروئے کار رہے
نقاب اٹھاؤ کہ کچھ دن ذرا بہار رہے
قدم قدم پہ بچھے ہیں گلاب پلکوں کے
چلے بھی آؤ کہ ہم انتظار کرتے ہیں
گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
محفل میں چار چاند لگانے کے باوجود
جب تک نہ آپ آئے اجالا نہ ہو سکا
مدتوں بعد کبھی اے نظر آنے والے
عید کا چاند نہ دیکھا تری صورت دیکھی
وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود
آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا
ہر گلی اچھی لگی ہر ایک گھر اچھا لگا
وہ جو آیا شہر میں تو شہر بھر اچھا لگا
یہ انتظار کی گھڑیاں یہ شب کا سناٹا
اس ایک شب میں بھرے ہیں ہزار سال کے دن
یہ زلف بردوش کون آیا یہ کس کی آہٹ سے گل کھلے ہیں
مہک رہی ہے فضائے ہستی تمام عالم بہار سا ہے
یہ کس زہرہ جبیں کی انجمن میں آمد آمد ہے
بچھایا ہے قمر نے چاندنی کا فرش محفل میں
________________
Comments
Post a Comment