قصیدہ بردہ شریف















 سحر کا وقت تھا معصوم کلیاں مسکراتی تھیں

ہوائیں خیر مقدم کے ترانے گنگناتی تھیں


ابھی جبریل بھی اُترے نہ تھے کعبے کے ممبر سے

کہ اتنے میں صدا آئی ہے عبدﷲ کے گھر سے

مبارک ہو شہِ ہر دوسرا تشریف لے آئے

مبارک ہو محمد مصطفٰیﷺ تشریف لے آئے


وہ محمد فخرِ عالم،بادشاہِ انس و جاں

سیدِ کونین،سلطانِ عرب شاہِ عجم 

ایک دن جبریل سے کہنے لگے شاہِ امم 

تم نے دیکھے ہیں جہاں بتلاؤ تو کیسے ہیں ہم؟

عرض کی جبریل نے اے شاہِ دیں،اے محترم! 

آپ کا کوئی مماثل ہی نہیں رب کی قسم


نہ کوئی آپ سا ہوگا نہ کوئی آپ جیسا تھا

کوئی یوسف سے پوچھے مصطفیٰ کا حسن کیسا تھا

زمین و آسماں میں کوئی بھی مثال نہ ملی


درود اُن پر سلام اُن پر یہی کہنا خدا کا ہے

خدا کے بعد جو ہے مرتبہ صلی اعلیٰ کا ہے

وہی سردار عالم ہیں، وہی غمخوار اُمت ہیں

وہی تو حشر کے میدان میں سب کی شفاعت ہے

شفاعت کے لئے سب کی نظر اُن پر لگی ہوگی


درِ محبوب سے ہٹ کر گزارا ہو نہیں سکتا

یہ وہ در ہے کہ جس در سے کنارا ہو نہیں سکتا

قسم اللہ کی لوگو! میرا ایمان کہتا ہے

نبی کا نام لیوا بے سہارا ہو نہیں سکتا


نبی کے چاہنے والوں کے دامن سے ہوں وابستہ

یقیں ہے قبر میں میری اندھیرا ہو نہیں سکتا

تقاضہ ہے *نیازی* یہ میرے ایمانِ کامل کا

جسے نسبت نہیں ان سے ہمارا ہو نہیں سکتا


*👈طـــالـــــبِ دُعـــا🤲🏻🤲🏻*

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟