*❣کیا شرابی کا ذبیحہ حلال ہے
*❣کیا شرابی کا ذبیحہ حلال ہے.❣*
https://mosarfarazqadri963990.blogspot.com
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اعظام اس مسئلہ کے بارے میں جیسے قصائی لوگ گائے یابھیس یابکرا یامرغی ذبح کرتے ہیں ان لوگوں میں کتنے لوگ شرابی بھی ہوتے ہیں کچھ لوگ سر پر ٹوپی بھی نہیں لگاتے کچھ لوگ بغیر بسم اللہ پڑھے ذبح کرتے ہیں کیا ان لوگوں کا ذبح کیاہوا گوشت کھانا جائزہے یاناجائز؟ جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی.
کرم ہوگامہربانی ہوگی.
سائل :
محمد منصور علی؛
ا_________ ((💙))_________
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الشروع فی الجواب بعون الملک الوہاب
صورت مستفسرہ میں ذابح کے لئے متقی وپرہیز گار ہونا یاسر پر ٹوپی ہونی بھی ضروری نہیں ہےذبح سے جانور حلال ہونے کے لیے چند شرطیں ہیں ۔ (۱) ذبح کرنے والا عاقل ہو۔ مجنوں یا اتنا چھوٹا بچہ جو بے عقل ہو ان کا ذبیحہ جائز نہیں اور اگر چھوٹا بچہ ذبح کو سمجھتا ہو اور اس پر قدرت رکھتا ہو تو اس کا ذبیحہ حلال ہے، (۲) ذبح کرنے والا مسلم ہو یا کتابی۔ مشرک اور مرتد کا ذبیحہ حرام و مردار ہے۔
کتابی کا ذبیحہ اوس وقت حلال سمجھا جائے گا جب مسلمان کے سامنے ذبح کیا ہو اور یہ معلوم ہو کہ اﷲ (عزوجل) کا نام لے کر ذبح کیا اور اگر ذبح کے وقت اوس نے حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام لیا اور مسلمان کے علم میں یہ بات ہے توجانور حرام ہے اور اگر مسلمان کے سامنے اوس نے ذبح نہیں کیا اور معلوم نہیں کہ کیا پڑھ کر ذبح کیا جب بھی حلال ہے۔ (۳) اﷲ عزوجل کے نام کے ساتھ ذبح کرنا۔ ذبح کرنے کےوقتﷲ تعالیٰ کے ناموں میں سے کوئی نام ذکر کرے جانور حلال ہوجائے گا یہی ضروری نہیں کہ لفظ ﷲ
(عزوجل)ہی زبان سے کہے۔
البتہ مجنون یا نشہ والا اگر وہ ذبح یا اللہ کے نام سے بے خبر ہوتو اس کا ذبیحہ حلال نہیں.
*،، فَلَا تُؤْكَلُ ذَبِيحَةُ الْمَجْنُونِ وَالصَّبِيِّ الَّذِي لَا يَعْقِلُ، فَإِنْ كَانَ الصَّبِيُّ يَعْقِلُ الذَّبْحَ وَيَقْدِرُ عَلَيْهِ تُؤْكَلُ ذَبِيحَتُهُ، وَكَذَا السَّكْرَانُ،،*
*(📚فتاوی ھندیہ ج5ص285. )*
اور اگر اسے ہوش ہو اور ذبح جانتا ہو اور اس پر قادر بھی ہوتو اس کا ذبیحہ حلال ہے.
*،، فَتَحِلُّ ذَبِيحَتَهُمَا، وَلَوْ الذَّابِحُ مَجْنُونًا أَوْ امْرَأَةً أَوْ صَبِيًّا يَعْقِلُ التَّسْمِيَةَ وَالذَّبْحَ وَيَقْدِرُ،،)*
*(📚درمختا مختارج6ص 296.)*
فاسق اور بدعتی جس کی بدعت حد کفر کو نہ پہونچی ہو تو اس کے ہاتھ کا ذبیحہ حلال ہے.
*،، فأما المسلم فيحل ما ذكاه وإن كان فاسقا أو مبتدعا ببدعة غير مكفرة، أو صبيا مميزاً، أو امرأة؛ لعموم الأدلة وعدم المخصص. ،،*
*(📚المغنی ج دوم ص ، 259،260.)*
اور اگرکسی نے وقت ذبح قصدا بسم اللہ کو ترک کیا تو جانور حلال نہیں.
*،،وَلَا تَحِلُّ ذَبِيحَةُ تَارِكِ التَّسْمِيَةِ عَمْدًا، وَإِنْ تَرَكَهَا نَاسِيًا تَحِلُّ وَالْمُسْلِمُ وَالْكِتَابِيُّ فِي تَرْكِ التَّسْمِيَةَ سَوَاءٌ، كَذَا فِي الْكَافِي،، )*
*(📚فتاوی ھندیہ ج5ص 288.)*
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب؛
ا_________((🍅))_________
*کتبـــہ؛*
*حضرت علامہ مفتی محمد شہروز عالم اکرمی رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العـــالی والنــورانی صدر شعبئہ افتاءدارالعلوم قادریہ حبیبیہ فیل خانہ ہوڑہ بنگال؛*
❣آپکا سوال ہماراجواب گروپ؛❣
مورخہ؛۳/۱۲/۱۴۳۹؛ذوالحجہ؛
رابطہ؛📞9883016746)
ا__________((🍅))________
*المشتـــــہر؛*
*منجانب؛الحــــلقةالعـــــلمیہ گروپ؛محمد عقیـــــل احمد قــــادری حنفی احمد آباد گجرات انڈیا؛*
ا_________((🍅))_________
Comments
Post a Comment